مشرق وسطیٰ کے امور اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ خطے کے اندر پائیدار اور حقیقی امن کے قیام کا حصول اس وقت تک ہرگز ممکن نہیں ہو سکتا جب تک کہ جنگی سرگرمیوں میں ملوث تمام فریق تمام محاذوں پر لڑائی کا سلسلہ مکمل طور پر بند نہیں کر دیتے۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی اور استحکام کا معاملہ پورے خطے کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور اسے کسی ایک حصے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔
ایرانی وزیر خارجہ کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا کہ اگر خطے کے کسی بھی ایک کونے یا حصے میں تنازعات اور جنگ کا بازار گرم رہے گا تو اس کے منفی اثرات سے پورا خطہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اجتماعی اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ کسی بھی بڑی تباہی سے بچا جا سکے اور خطے کے عوام کو پرسکون ماحول فراہم کیا جا سکے جو کہ اس وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
عباس عراقچی نے اس موقع پر دعویٰ کیا کہ حالیہ عسکری صورتحال کے دوران ایرانی میزائلوں کی کارروائیوں کے نتیجے میں دشمن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ان میزائل حملوں کی زد میں آ کر زمین پر موجود درجنوں امریکی لڑاکا طیارے مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں جو کہ ایرانی دفاعی صلاحیتوں اور عسکری پوزیشن کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے اس دعوے کو بین الاقوامی میڈیا اور مبصرین کی جانب سے انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے عسکری توازن اور زمینی حقائق پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان کے دوران اس عزم کا بھرپور اعادہ کیا کہ تہران کی حکومت اور اس کی مسلح افواج اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کا دفاع کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے عالمی سطح پر جاری سفارتی گہما گہمی اور کشیدہ حالات کے پیش نظر تمام متعلقہ فریقین کو خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی نئی فوجی کارروائی یا مہم جوئی کی صورت میں انتہائی سخت اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا جس کی مکمل ذمہ داری جارح فریق پر عائد ہوگی۔
خطے کے موجودہ حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ مشرق وسطیٰ اس وقت تاریخ کے ایک انتہائی نازک اور حساس ترین دور سے گزر رہا ہے۔ جہاں ایک طرف سفارتی سطح پر تناؤ کو کم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں وہیں دوسری طرف عسکری بیانات اور طاقت کے مظاہرے کشیدگی میں مزید اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے آنے والے یہ بیانات علاقائی سیاست کے منظر نامے پر نمایاں اثرات مرتب کر رہے ہیں اور دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں اس صورتحال پر تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔
عالمی طاقتیں اور خطے کے دیگر ممالک اس وقت اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ تمام تنازعات کو بات چیت اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی بڑی جنگ یا تباہ کن تصادم سے گریز کیا جا سکے جو پوری دنیا کی معیشت اور امن کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم زمینی حقائق اور فریقین کے بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کشیدگی کو فوری طور پر کم کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے جس سے نمٹنے کے لیے فریقین کو لچک کا مظاہرہ کرنا پڑے گا اور فوری طور پر جنگ بندی کی طرف بڑھنا ہوگا۔
مشرق وسطیٰ کے تنازعات کا طویل تاریخی پس منظر اس بات کا شاہد ہے کہ جب تک تمام فریقین ایک میز پر بیٹھ کر سنجیدہ مذاکرات کا آغاز نہیں کرتے اس وقت تک مستقل امن کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔ علاقائی ممالک بھی اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے بلکہ اس سے صرف تباہی، مہنگائی اور انسانی بحران جنم لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خطے کے باشعور حلقے اور عوام پرامن حل کی تلاش میں ہیں اور مسلسل یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی اور سفارتی راہوں کو ترجیح دی جائے تاکہ خون خرابے کا یہ سلسلہ ہمیشہ کے لیے بند ہو سکے۔
دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ اور دیگر امن پسند ممالک بھی اس امر پر متفق نظر آتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں فوری طور پر کشیدگی کو کم کیا جائے تاکہ عالمی امن کو لاحق خطرات کو ٹالا جا سکے۔ تیل کی رسل و رسائل اور بحری راستوں کی سلامتی کے امور بھی اس پورے بحران کے دوران انتہائی اہمیت اختیار کر چکے ہیں کیونکہ کسی بھی بڑی جنگ کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور عام زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ اس تناظر میں تمام فریقین کو انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا تاکہ حالات مزید خراب نہ ہوں۔
ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان کے بعد عالمی میڈیا میں یہ بحث ایک بار پھر چھڑ گئی ہے کہ آیا موجودہ سفارتی کوششیں جنگ بندی میں تبدیل ہو پائیں گی یا کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آنے والے چند روز خطے کی مستقبل کی سیاست اور عسکری حکمت عملی کے حوالے سے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ تمام فریقین کی جانب سے اگلے لائحہ عمل کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا وہ تناؤ کو کم کرنے کی جانب کوئی عملی قدم اٹھاتے ہیں یا محاذ آرائی کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہتا ہے جس سے پورے خطے کا امن داؤ پر لگ چکا ہے۔
پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک بھی اس تمام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ مشرق وسطیٰ کے حالات براہ راست یا بالواسطہ طور پر ان ممالک کی معیشت، توانائی کی سپلائی اور وہاں مقیم لاکھوں تارکین وطن کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں۔ پاکستانی قیادت بھی ہمیشہ سے اس بات کی قائل رہی ہے کہ تمام تنازعات کا پرامن حل بات چیت کے ذریعے ہی نکالا جانا چاہیے اور کسی بھی قسم کی جنگی مہم جوئی سے گریز کیا جانا چاہیے تاکہ خطے کے غریب عوام مزید مشکلات کا شکار نہ ہوں۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ خطے میں پائیدار امن کے حصول کے لیے صرف عسکری اقدامات کافی نہیں ہوتے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی مفاہمت، عدل و انصاف اور باہمی احترام کی فضا قائم کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ جب تک تمام فریق ایک دوسرے کے جائز حقوق کا احترام نہیں کریں گے اور طاقت کے بل بوتے پر فیصلے مسلط کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے، اس وقت تک مشرق وسطیٰ کے باسیوں کو حقیقی سکون اور امن نصیب نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے امن پسند ادارے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ تمام فریقین ہوش کے ناخن لیں اور فوری طور پر جنگ بندی کا اعلان کریں۔
آنے والے وقت میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ اور اہم ہوگا کہ آیا ایران اور اس کے مخالفین کے درمیان جاری اس لفظی جنگ اور محاذ آرائی میں کوئی مثبت تبدیلی آتی ہے یا یہ بحران مزید گہرا ہو کر خطے کو کسی بڑے انڈونھی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے تازہ ترین بیانات نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ تہران اپنے دفاع کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس نازک موڑ پر اپنا کردار ادا کرے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرے تاکہ خطے میں ایک نئی جنگ کے امکانات کو روکا جا سکے۔


اپنی رائے دیں