صوابی کے دارالقرآن پنج پیر میں ایک اہم اور بڑے مذہبی اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے ہزاروں کی تعداد میں جید علماء و مشائخ اور دینی شخصیات نے شرکت کی۔ اس اجتماع کا بنیادی مقصد ملک میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینا اور قومی سلامتی کے اداروں سے تجدیدِ عہدِ وفا کرنا تھا۔ اجتماع کے شرکاء نے ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔
صوابی میں ہونے والے اس دینی اجتماع نے ملک بھر کے مذہبی حلقوں کی توجہ حاصل کی جہاں ملک کے طول و عرض سے آئے ہوئے مشائخ نے شرکت کی۔ اجتماع کے دوران ملک کی موجودہ داخلی صورتحال اور اس سے جڑے امن کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ پاکستان کی سلامتی کے لیے تمام طبقات کو متحد ہو کر کردار ادا کرنا ہوگا۔
اجتماع کی صدارت شیخ القرآن مولانا محمد طیب طاہری نے کی، جنہوں نے اپنے خطاب میں اس بات پر روشنی ڈالی کہ دینی رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں اتحاد اور بھائی چارے کو فروغ دیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور ارضِ حرمین شریفین کے تحفظ، سلامتی اور استحکام کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔
مولانا محمد طیب طاہری نے صوابی میں منعقدہ اس پُروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمِ اسلام کے مقدس مقامات بالخصوص حرمین شریفین کا دفاع ہر کلمہ گو مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔ انہوں نے اس موقع پر پاکستان کے جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لیے بھی عزمِ مصمم کا اظہار کیا۔
چیئرمین پاکستان علماء کونسل اور کوآرڈینیٹر قومی پیغامِ امن کمیٹی حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے اجتماع سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف دوٹوک موقف اپنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ دینِ اسلام سراسر امن، سلامتی، محبت اور رواداری کا درس دیتا ہے اور اس کا دہشت گردی یا شدت پسندانہ کارروائیوں سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔
حافظ طاہر محمود اشرفی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام امن کا دین ہے اور اس میں انسانی جان کے احترام کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مذہب کے نام پر بدامنی پھیلانے والے عناصر دراصل اسلامی تعلیمات سے صریحاً روگردانی کر رہے ہیں اور انہیں معاشرے میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔
حافظ طاہر محمود اشرفی نے واضح کیا کہ اسلام کے نام کی آڑ میں معصوم اور بے گناہ انسانوں کا خون بہانے والوں کا اسلامی تعلیمات سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ ایسے عناصر دراصل ملک دشمن قوتوں کے آلہ کار ہیں جو معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، جن کا سختی سے محاسبہ کیا جانا ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بے گناہ شہریوں پر تشدد اور دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والے گروہ اسلام کے نام پر بدنامی کا باعث بن رہے ہیں جن کا محاسبہ کرنا پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پوری قوم کو ایک پیج پر آنا ہوگا۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ملک کے تمام مکاتبِ فکر کے علماء و مشائخ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے مکمل خاتمے کے لیے ریاست، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ پاکستان کی سلامتی اور دفاع کے معاملے پر پوری قوم اور علماء ایک ہی صفحے پر موجود ہیں۔
حافظ طاہر محمود اشرفی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستانی ریاست اور اس کے دفاعی ادارے ملک میں امن کے قیام کے لیے جو قربانیاں دے رہے ہیں، پوری قوم ان کی پشت پر کھڑی ہے۔ انہوں نے پاک فوج کے جوانوں اور افسران کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کو اپنی فورسز پر فخر ہے۔
اجتماع میں اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا کہ پاکستان میں مستقل امن، قومی وحدت اور استحکام کے حصول کے لیے مشترکہ اور مسلسل جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ شرکاء نے ملک کی ترقی، خوشحالی اور حفاظتی اداروں کے افسران و جوانوں کی کامیابی کے لیے خصوصی دعائیں بھی مانگیں۔
صوابی کے دارالقرآن پنج پیر میں ہونے والے اس تاریخی اجتماع کے اختتام پر ایک متفقہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے اور ہر قسم کے انتہا پسندانہ رجحانات کی بھرپور حوصلہ شکنی کرنے پر زور دیا گیا۔
علماء و مشائخ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آئندہ بھی اس طرح کے ملی اور قومی اجتماعات کے ذریعے عوام میں شعور بیدار کرتے رہیں گے تاکہ دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا جا سکے۔ اجتماع میں شریک تمام مکاتبِ فکر کے رہنماؤں نے ملی یکجہتی کی بہترین مثال قائم کی۔





اپنی رائے دیں