مواد پر جائیں
جمعرات، 15 اکتوبر 2026 4 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 6:17
بریکنگ
ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں کشیدگی، بازار بند اور سیکیورٹی فورسز تعیناتانکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی آج آخری تاریخ، توسیع کا مطالبہحکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول مہنگا، ڈیزل سستاخیبرپختونخوا پولیس کیلئے تاریخی ریلیف پیکج، شہداء کے معاوضوں میں نمایاں اضافہاحسن اقبال کی چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں صنعتیں لگانے کی دعوتیمنی حوثی چینی پرزوں کی مدد سے جدید بیلسٹک میزائل بنانے میں مصروفلاہور: گڑھی شاہو میں ٹرالر کار پر چڑھ گیا، میاں بیوی اور بیٹا جاں بحقکراچی: گلشنِ حدید میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی ہلاکت، تحقیقات جاریایران کا مطالبات کی منظوری تک امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلانکراچی: پولیس کے مختلف علاقوں میں ایکشن، 4 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتاربھارت: کولکتہ میں مسلمانوں کی پانی کی فراہمی بند، اقوام متحدہ سے مدد کی اپیلمکہ مکرمہ میں موسلادھار بارش، خانہ کعبہ میں روح پرور مناظروفاقی حکومت کی جانب سے سول اور پولیس سروس کے افسران کے تقرر و تبادلےایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کا انتباہکراچی: غیر ملکی مہمانوں کو لوٹنے والا گروہ بے نقاب، ایک ملزم گرفتارامریکا کو ایرانی قوم کے جائز مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے، باقر قالیبافٹرانس پشاور نے بی آر ٹی بسوں کی چوری سے متعلق سوشل میڈیا ویڈیوز کو بے بنیاد قرار دے دیاپنجاب میں موسم سرما کیلئے اسکولوں کے نئے اوقات کار کا اعلانایران نے اپنے دفاعی نظام کو جدید ہتھیاروں سے لیس کر لیا، پاسدارانِ انقلابایران کسی بھی امریکی زمینی حملے کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، ایرانی جنرل
دنیا

ایران کسی بھی امریکی زمینی حملے کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، ایرانی جنرل

ایرانی فوج کے اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ ملکی دفاعی نظام کو جدید خطوط پر استوار کر لیا گیا ہے اور کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

ایران کسی بھی امریکی زمینی حملے کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، ایرانی جنرل

ایران کے اعلیٰ فوجی حکام نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ان کی مسلح افواج ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ایرانی جنرل یداللہ جوانی کے مطابق ایران کسی بھی بیرونی جارحیت کا جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

ایک بیان میں ایرانی جنرل نے کہا کہ ایران نے اپنے فوجی دستوں کی نقل و حرکت اور عسکری وسائل کی تعیناتی کے نظام کو انتہائی جدید اور مؤثر بنا لیا ہے۔ اس پیشرفت سے ملک کی دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو کسی بھی ممکنہ خطرے کو ناکام بنا سکتے ہیں۔

جنرل یداللہ جوانی نے زور دے کر کہا کہ ایران کا موجودہ دفاعی ڈھانچہ اس قدر مستحکم ہے کہ یہ امریکا یا اس کے اتحادیوں کی جانب سے کسی بھی ممکنہ زمینی حملے کے منصوبوں کو ناکام بنانے کی مکمل اہلیت رکھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی افواج نے گزشتہ برسوں میں اپنی دفاعی حکمت عملی کو مزید بہتر کیا ہے تاکہ خطے میں پیدا ہونے والے کسی بھی سیکیورٹی چیلنج سے نمٹا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی قسم کی فوجی مہم جوئی کا سامنا کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔

ایرانی فوجی قیادت کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے حوالے سے مختلف حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ اس کی فوجی تیاریاں صرف اور صرف دفاعی نوعیت کی ہیں اور وہ اپنی سرحدوں کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ایک پیغام ہے کہ وہ کسی بھی جارحانہ اقدام کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ ایرانی حکام بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ خطے میں امن کے خواہاں ہیں لیکن دفاعی تیاریوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

ایرانی فوج نے حالیہ عرصے میں اپنی میزائل ٹیکنالوجی اور ڈرون پروگرام میں بھی نمایاں پیشرفت کی ہے جس کا مقصد ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانا ہے۔ ان دفاعی آلات کو ایرانی عسکری حکمت عملی کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔

جنرل یداللہ جوانی نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایرانی قوم اور مسلح افواج اپنے ملک کے دفاع کے لیے متحد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

ایران کی دفاعی پالیسی میں زمینی، فضائی اور سمندری حدود کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ ایک مضبوط دفاعی نظام ہی خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کا واحد راستہ ہے۔

عالمی سطح پر ایران کے دفاعی بیانات کو انتہائی اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ یہ ملک مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایران کی عسکری صلاحیتوں کے بارے میں وقتاً فوقتاً مختلف تجزیے سامنے آتے رہتے ہیں۔

ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت کا ارادہ نہیں رکھتے تاہم اپنے دفاع کے حق کو ہر صورت میں استعمال کریں گے۔ یہ پالیسی ایران کے خارجہ اور دفاعی امور کا ایک اہم ستون سمجھی جاتی ہے۔

مستقبل میں خطے کی صورتحال کے حوالے سے ایران کی جانب سے مزید دفاعی مشقوں اور حکمت عملیوں کے بارے میں بھی اشارے دیے گئے ہیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ اپنی عسکری طاقت کو مزید جدید بنانے کا عمل جاری رکھے گا۔

آخر میں، ایرانی جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کے دفاعی نظام میں کی گئی تبدیلیاں دشمن کے کسی بھی منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے کافی ہیں۔ ایران اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے پرعزم ہے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں