امریکہ اور روس کے درمیان حالیہ دنوں میں ایک اہم ڈیزل معاہدہ طے پایا ہے جس کے نتیجے میں دونوں عالمی طاقتوں کے اقتصادی تعلقات اور اسٹریٹجک صورتحال میں ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔
یہ معاہدہ توانائی کے شعبے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعے دونوں ممالک کے مابین تجارتی اور اقتصادی تعاون کے نئے دروازے کھلنے کی توقع کی جارہی ہے۔
واشنگٹن میں موجود ٹرمپ انتظامیہ کو اس بات کی پرامید توقع ہے کہ اس معاشی تعاون کے ذریعے ماسکو کو یوکرین کے ساتھ جاری تنازعے پر امن مذاکرات میں لچک دکھانے پر آمادہ کیا جا سکے گا۔
روسی صدارتی ایلچی برائے سرمایہ کاری و اقتصادی تعاون کریل دیمترییف نے اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان مزید اقتصادی تعاون کی راہ ہموار کرے گا۔
کریل دیمترییف کا مزید کہنا تھا کہ ماسکو ڈیزل کی بلاتعطل ترسیل کو یقینی بنانے کی خاطر عائد پابندیوں کی وجہ سے حائل ہونے والی تکنیکی مشکلات پر مکمل قابو پالے گا۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ بات صرف ڈیزل کی فراہمی تک محدود نہیں ہے بلکہ واشنگٹن کے ساتھ سرمایہ کاری اور تجارت کے دیگر شعبوں میں بھی تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
ان کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے تعاون سے نہ صرف روس اور امریکہ بلکہ عالمی منڈیوں اور عام صارفین کو بھی براہ راست معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر اس اقدام کے ذریعے ملک کے اندر ایندھن اور بالخصوص ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو میں لانے کی بھرپور کوششوں میں مصروف ہیں۔
امریکی صدر نے حال ہی میں اس بات کا اعلان کیا تھا کہ انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ روس عالمی منڈیوں اور امریکا کو ڈیزل کی فراہمی جاری رکھے گا۔
اس توانائی معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر واشنگٹن کو ماسکو کے خلاف اپنی عائد کردہ بعض پابندیوں میں عارضی طور پر نرمی لانا پڑی ہے تاکہ تجارت بحال ہو سکے۔
تاہم، روس سے ڈیزل کی سپلائی کے اس فیصلے پر یوکرین کے حکام اور بعض یورپی ممالک کے سیاسی حلقوں کی طرف سے شدید تنقید کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔
اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے روس اور امریکا کے درمیان طے پانے والے اس ڈیزل معاہدے کو ایک انتہائی خطرناک قدم قرار دیا ہے۔
ان کا موقف ہے کہ اس طرح کے اقدامات دراصل روسی صدر کو یوکرین تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ امن مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں کے بالکل برعکس ہیں۔
توانائی کی اس نئی ڈیل کے بعد بین الاقوامی سطح پر یہ بحث بھی چھڑ گئی ہے کہ آیا یہ تجارتی معاہدہ عالمی سیاست اور سفارتکاری پر کیا گہرے اثرات مرتب کرے گا۔
امریکہ اور روس کے درمیان ہونے والی اس پیشرفت کو عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل کے تناظر میں ایک انتہائی اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔




اپنی رائے دیں