مواد پر جائیں
بدھ، 14 اکتوبر 2026 3 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 8:17
بریکنگ
اسلام آباد میں تمام شیشہ کیفے بند کرنے کا فیصلہ، ہائیکورٹ کی سخت ہدایتوفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی واشک میں سکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن پر خراج تحسینڈیرہ اسماعیل خان میں امن و امان کے پیش نظر دفعہ 144 نافذڈیرہ اسماعیل خان میں دفعہ 144 نافذ، جلسے جلوسوں اور ڈبل سواری پر پابندی عائدڈیرہ اسماعیل خان: والی بال میچ سے واپسی پر فائرنگ، 5 افراد جاں بحقسعودی عرب: ریاض اور جنوبی علاقوں میں حوثیوں کے 3 میزائل اور 2 ڈرون تباہڈیرہ اسماعیل خان میں دفعہ 144 کا نفاذ، ڈبل سواری اور اسلحہ کی نمائش پر پابندیوزیر خزانہ کی آئی ایم ایف کے اعلیٰ عہدیدار سے ملاقات، معاشی اصلاحات پر گفتگوامریکا اور روس کے درمیان ڈیزل معاہدہ، دو طرفہ تعلقات میں اہم پیشرفتامریکی عدالت کا وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی کا فیصلہ معطلصدر مملکت آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرلیاچھیاسٹھ سال پرانی سائنسی تحقیق میں تیرہ نومبر دو ہزار چھبیس کا تذکرہپنجاب کے سرکاری اسکولوں کے نئے اوقات کار کا نوٹیفکیشن جاریمعاشی اشاریے بہتر، زرمبادلہ ذخائر بلند ترین سطح پر پہنچ گئے، وزیر خزانہکراچی کے علاقے ڈیفنس میں پولیس کا چھاپہ، ایک شخص حراست میںگورنر خیبر پختونخوا کی سردیوں میں گیس لوڈشیڈنگ کم کرنے کی ہدایتروسی وزیر داخلہ کا جی ایچ کیو دورہ، پاک فوج کی قربانیوں کا اعترافکے الیکٹرک نے شہر میں عارضی لوڈ مینجمنٹ ختم کرنے کا اعلان کر دیالاہور میں آج رات بارش کا امکان، موسم خوشگوار ہوگیاسینیٹ میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی قرارداد کثرتِ رائے سے منظور
پاکستان

سینیٹ میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی قرارداد کثرتِ رائے سے منظور

ایوانِ بالا نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی قرارداد کی کثرتِ رائے سے توثیق کر دی جبکہ اپوزیشن نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔

سینیٹ میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی قرارداد کثرتِ رائے سے منظور

اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ملکی سیاسی اور انتظامی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس اجلاس کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے ایک اہم قرارداد ایوان میں پیش کی گئی جس کا مقصد صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کرنا تھا۔

یہ قرارداد وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے سینیٹ کے اجلاس میں باضابطہ طور پر پیش کی۔ قرارداد کے متن اور اغراض و مقاصد پر ایوان میں اراکین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس اقدام کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی۔

حکومتی اراکین کا مؤقف تھا کہ صوبے میں موجودہ حالات کے پیش نظر یہ آئینی اور انتظامی قدم اٹھانا ناگزیر ہو چکا تھا تاکہ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے اور ریاستی رٹ کو یقینی بنایا جا سکے اور عام شہریوں کا تحفظ کیا جا سکے۔

قرارداد پیش کیے جانے کے بعد ایوان میں اس پر بحث کا عمل مکمل کیا گیا جس کے بعد ڈپٹی چیئرمین یا سینیٹ کے صدر نشین نے کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے رائے شماری کا آغاز کیا جس میں اراکین نے بھرپور حصہ لیا اور اپنے ووٹ کاسٹ کیے۔

حکومتی اتحاد اور اتحادی جماعتوں کے اراکین کی اکثریت نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جس کے نتیجے میں یہ قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کر لی گئی۔ اس طرح قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ سے بھی اس فیصلے کی باضابطہ توثیق ہو گئی ہے۔

دوسری جانب، سینیٹ میں موجود اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے اس قرارداد کی شدید مخالفت کی۔ اپوزیشن ارکان کا کہنا تھا کہ صوبائی سطح پر اس قسم کے اقدامات جمہوریت اور صوبائی خودمختاری کے منافی ہیں جنہیں کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا اور یہ پارلیمانی روایات کے خلاف ہیں۔

مخالفت کے دوران اپوزیشن ارکان نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر نعرے بازی بھی کی اور وفاقی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کروایا۔ انہوں نے اس اقدام کو وفاق اور صوبے کے تعلقات کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

احتجاج کے اگلے مرحلے میں اپوزیشن جماعتوں کے تمام اراکین نے سینیٹ کے اجلاس سے علامتی واک آؤٹ کیا۔ اپوزیشن اراکین ایوان سے باہر چلے گئے جس کی وجہ سے ایوان کا کچھ حصہ خالی ہو گیا اور اجلاس میں ماحول کافی کشیدہ ہو گیا۔

ایوان میں اپوزیشن کی غیر موجودگی کے باوجود حکومتی بنچوں نے کارروائی جاری رکھی اور قرارداد کی منظوری کے عمل کو آئینی تقاضوں کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچایا تاکہ قانون سازی کا عمل بلا تعطل جاری رہ سکے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کی جا چکی ہے اور اب سینیٹ سے منظوری کے بعد اس فیصلے کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی مکمل توثیق حاصل ہو گئی ہے جو ایک بڑا سیاسی پیش رفت ہے۔

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے اس قرارداد کی منظوری کے بعد وفاقی حکومت کو اس حوالے سے آئینی اور قانونی طور پر مزید اقدامات اٹھانے میں آسانی ہوگی جو صوبے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں کیے جا رہے ہیں اور جن کے مثبت نتائج متوقع ہیں۔

اجلاس کے دوران دیگر امور پر بھی بات چیت کی گئی تاہم خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا معاملہ پورے اجلاس کا مرکزِ نگاہ رہا جس پر اراکینِ پارلیمنٹ کے درمیان گرما گرم بحث بھی دیکھنے میں آئی۔ سینیٹ کا یہ اجلاس ملکی سیاسی پس منظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

سینیٹ کے اس جاری اجلاس کے دوران نمازِ مغرب کے لیے پندرہ منٹ کا وقفہ بھی کیا گیا جس کے بعد ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی اور تمام طے شدہ ایجنڈے کو آگے بڑھایا گیا تاکہ عوامی فلاح و بہبود کے امور کو بھی نمٹایا جا سکے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں