مواد پر جائیں
ہفتہ، 17 اکتوبر 2026 6 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 5:38
بریکنگ
ایڈرین ہیملٹن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر مقررکراچی: اسٹیل ٹاؤن سے مغوی نوجوان کی بوری بند لاش برآمد، کزن سمیت دو ملزمان گرفتارلکی مروت میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ ہلاکیمن: عدن ایئرپورٹ کے قریب میزائل حملہ، حوثیوں کا سعودی کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنانے کا دعویٰپاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں کمی کا امکانپٹرول کی قیمت میں 3 روپے 93 پیسے فی لٹر کمی، ڈیزل کی قیمت برقرارخالصتان تحریک کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو ایک بار پھر قاتلانہ حملے کی دھمکیعازمین حج و عمرہ کیلئے ویکسین خریداری میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا حکمپیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 93 پیسے فی لیٹر کمی کا اعلانانٹرنیٹ پر وائرل تصویری پہیلی: کیا آپ اس میں چھپی غلطی تلاش کر سکتے ہیں؟روزانہ 5 گھنٹے سے کم نیند انسانی صحت کے لیے کیوں خطرناک ہے؟سسٹم ری بوٹ ہو چکا ہے، جمہوریت کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، فیصل واوڈاچیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے گوجرانوالہ کے عدالتی مراکز میں ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کر دیابھارت: شوہر کو قتل کر کے لاش کنکریٹ کے ڈرم میں چھپانے والی بیوی کو سزائے موتجرمنی: ایئرپورٹ پر 90 سے زائد زہریلے سانپ اور چھپکلیاں سمگل کرنے کی کوشش ناکامراولپنڈی میں پولیس اہلکار کی شہری کے ساتھ بدتمیزی، ویڈیو وائرلاسلام آباد پولیس: سی سی ڈی طرز کے یونٹ کے قیام کی خبریں بے بنیاد ہیںصوبائی وزیر بلال یاسین کا راولپنڈی میں ترقیاتی منصوبوں کا دورہکراچی: پولیس یونٹس کے مابین جھگڑے کی انکوائری مکمل، کارروائی کا فیصلہپاکستان کی بدلتی سیاست اور مولانا فضل الرحمان کا سیاسی مستقبل
دیگر خبریں

بریکنگ نیوز کے پیچھے: صحافیوں کو درپیش کٹھن چیلنجز اور حقائق

ٹی وی اسکرین پر چند سیکنڈ کی بریکنگ نیوز کے پیچھے فیلڈ رپورٹرز اور تکنیکی عملے کی کٹھن محنت اور ذمہ دارانہ جدوجہد کارفرما ہوتی ہے۔

بریکنگ نیوز کے پیچھے: صحافیوں کو درپیش کٹھن چیلنجز اور حقائق

پاکستان میں کسی بھی بڑے حادثے، دہشت گردی کے واقعے یا ہنگامی صورتحال کے دوران ٹی وی چینلز پر بریکنگ نیوز کا سلسلہ فوری طور پر شروع ہو جاتا ہے۔ ناظرین تک پہنچنے والی یہ خبریں بظاہر چند سیکنڈز کا کام معلوم ہوتی ہیں، مگر ان کے پیچھے رپورٹرز، کیمرہ مین، ڈی ایس این جی عملے اور ڈرائیورز کی ایک طویل اور مشکل جدوجہد شامل ہوتی ہے۔

اے آر وائی نیوز پشاور کے بیورو چیف ضیا الحق کی رپورٹ کے مطابق، جب کسی واقعے میں انسانی جانوں کا ضیاع یا بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوتے ہیں، تو نیوز ٹیمیں سب سے پہلے جائے وقوعہ کا رخ کرتی ہیں۔ وہاں سے ابتدائی معلومات اور مناظر حاصل کرنے کے بعد ٹیمیں اسپتالوں کی جانب پیش قدمی کرتی ہیں۔

اسپتالوں کے ایمرجنسی بلاکس میں پہنچ کر زخمیوں کی تعداد، ان کی حالت اور ہلاکتوں کے بارے میں معلومات کی تصدیق کرنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ صحافیوں کا کہنا ہے کہ مختلف سرکاری اور نجی اداروں سے ملنے والے اعداد و شمار اکثر ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں، جو صورتحال کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔

بڑے حادثات کے دوران ٹریفک جام بھی صحافیوں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہوتا ہے۔ عام شہریوں کے ساتھ ساتھ میڈیا ٹیموں کو بھی شدید ٹریفک کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث جائے وقوعہ یا اسپتال تک بروقت پہنچنا اور کوریج کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

پولیس کے جاری کردہ اعداد و شمار اور اسپتال انتظامیہ کی فراہم کردہ معلومات میں تضاد کے باعث نیوز روم میں بھی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ صحافیوں کے مطابق، ہلاکتوں کی تعداد چند گھنٹوں کے دوران کئی بار تبدیل ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے ہر اطلاع کی بار بار تصدیق ناگزیر ہو جاتی ہے۔

سیکیورٹی کے سخت انتظامات بھی کوریج میں حائل ہوتے ہیں۔ اکثر اوقات پولیس کی جانب سے جائے وقوعہ پر میڈیا کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی جاتی، جس سے رپورٹرز کے لیے عینی شاہدین کے بیانات اور حقائق تک رسائی حاصل کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔

اسپتالوں کے اندر بھی میڈیا کو کوریج کے حوالے سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی بار رپورٹرز کو اسپتال کے باہر کھڑے ہو کر معلومات جمع کرنا پڑتی ہیں۔ ہنگامی حالات میں موبائل فون نیٹ ورک متاثر ہونے سے نیوز روم سے رابطہ قائم رکھنا بھی ایک بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔

صحافیوں نے تجویز دی ہے کہ ہنگامی صورتحال کے دوران اسپتال انتظامیہ کو ایک مخصوص میڈیا انفارمیشن ڈیسک قائم کرنی چاہیے۔ اس اقدام سے تصدیق شدہ معلومات کی فراہمی ممکن ہوگی اور غیر مصدقہ اطلاعات یا افواہوں کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملے گی۔

نیوز روم کی جانب سے فیلڈ ٹیم پر مسلسل دباؤ ہوتا ہے کہ وہ تازہ ترین اطلاعات، ویڈیوز اور ہلاکتوں کی درست تعداد فراہم کرے۔ اس دوران فیلڈ میں موجود عملہ معمول کے حالات میں نہیں بلکہ ایک ہنگامی کیفیت میں کام کر رہا ہوتا ہے۔

ایک رپورٹر، کیمرہ مین اور تکنیکی عملے کو فوری طور پر جائے وقوعہ پہنچنے سے لے کر حقائق جمع کرنے اور پھر انہیں ناظرین تک پہنچانے کے عمل میں شدید ذہنی اور جسمانی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

صحافتی ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ خبر کی رفتار کے ساتھ ساتھ اس کی صداقت پر بھی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بریکنگ نیوز کے پیچھے چھپی محنت کا بنیادی مقصد عوام تک تیز ترین مگر درست اور تصدیق شدہ معلومات پہنچانا ہوتا ہے۔

دیگر خبریں کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں