کراچی کے علاقے پی ای سی ہاؤسنگ سوسائٹی سے پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والے اور بعد میں جاں بحق پائے جانے والے نوجوان تاجر میر رضا کے معاملے پر قائم کردہ جوڈیشل کمیشن نے اپنی تمام تر تحقیقاتی کارروائی مکمل کرتے ہوئے باضابطہ طور پر انکوائری رپورٹ تیار کر لی ہے۔ کمیشن کی جانب سے مرتب کی جانے والی یہ تفصیلی رپورٹ اب متعلقہ صوبائی حکام کے حوالے کی جا رہی ہے تاکہ اس کے نتائج کی روشنی میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے مزید قانونی اقدامات کو حتمی شکل دی جا سکے۔
کمیشن کے باوثوق ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق یہ تیار کردہ انکوائری رپورٹ آئندہ روز صبح ٹھیک دس بجے سندھ حکومت کے اعلیٰ حکام کے سپرد کی جائے گی۔ اس اہم مقصد کے لیے سیکرٹری داخلہ سندھ کو خصوصی طور پر طلب کر لیا گیا ہے جو کہ کمیشن کے سربراہ سے یہ رپورٹ باقاعدہ طور پر وصول کریں گے۔ رپورٹ کی حوالگی کا یہ سرکاری عمل اس بات کو یقینی بنائے گا کہ واقعے کی گہرائی تک رسائی حاصل کی جا سکے۔
یاد رہے کہ میر رضا کی موت کے اس المناک اور پراسرار کیس کی گہرائی سے جانچ پڑتال کے لیے قائم کیے گئے اس جوڈیشل کمیشن نے اپنی کارروائی رواں ماہ کی سات تاریخ کو ہی مکمل کر لی تھی۔ کمیشن نے اس سارے عرصے میں انصاف کے تمام تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مختلف زاویوں سے تحقیقات کیں اور دستیاب تمام تر شواہد کا بغور اور گہرائی سے جائزہ لیا۔
تحقیقاتی عمل کے دوران جوڈیشل کمیشن نے کل پندرہ اجلاس منعقد کیے جن میں واقعے سے جڑے ایک ایک پہلو پر انتہائی تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ ان تمام اجلاسوں میں نہ صرف پولیس ریکارڈ اور بیانات کا جائزہ لیا گیا بلکہ کمیشن نے جائے وقوع کا براہِ راست دورہ بھی کیا تاکہ حقائق تک رسائی کو ہر لحاظ سے مستند بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ اس جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا باضابطہ نوٹیفکیشن رواں برس چوبیس اگست کو جاری کیا گیا تھا جس کے بعد کمیشن نے ستائیس اگست کو باقاعدہ طور پر اپنے کام کا آغاز کیا تھا۔ محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے کمیشن کو یہ واضح ہدایت دی گئی تھی کہ وہ مقررہ ایک ماہ کے عرصے کے اندر اپنی تمام کارروائی مکمل کر کے حتمی رپورٹ پیش کرے۔
ابتدائی واقعات کے تناظر میں دیکھا جائے تو کراچی کا رہائشی نوجوان میر رضا علی خان اٹھائیس جولائی کو پاکستان ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی کے علاقے سے پراسرار حالات میں لاپتہ ہو گیا تھا۔ وہ صبح چار بج کر نو منٹ پر اپنے گھر سے آن لائن ٹیکسی کی مدد سے روانہ ہوا تھا جس کے بعد اس کا خاندان اس کی خیریت سے مکمل طور پر ناواقف ہو گیا تھا۔
متاثرہ نوجوان کے اہل خانہ نے اس کی اچانک گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا اور اپنی مدد آپ کے تحت اس کی تلاش شروع کی تھی، تاہم صرف دو روز بعد اس کی لاش شہر کے علاقے گلستانِ جوہر سے برآمد ہوئی۔ پولیس حکام کے مطابق یہ لاش انتہائی خراب حالت میں ملی تھی اور اس کے سینے پر گولی کا گہرا نشان پایا گیا تھا جو اس کی موت کی بنیادی وجہ بنا۔
پولیس کی ابتدائی تفتیش اور تکنیکی شواہد میں یہ اہم بات بھی سامنے آئی تھی کہ لاش ملنے سے محض ایک روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو اچانک بند کر دیا گیا تھا۔ اس لرزہ خیز واقعے نے نہ صرف مقتول کے خاندان بلکہ پورے شہر کے شہریوں اور تاجر برادری کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور اس پر شدید احتجاج اور دکھ کا اظہار کیا گیا۔
مقتول میر رضا کے والد نے واقعے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ان کے بیٹے کی شادی کی تیاریاں انتہائی عروج پر تھیں اور تیس اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں اس کا نکاح طے پایا تھا۔ والد کے مطابق نوجوان میر رضا اپنی زندگی کے اس نئے باب کے آغاز کو لے کر انتہائی پرجوش اور خوش نظر آ رہا تھا۔
واقعے کی سنگین نوعیت اور شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے عوامی حلقوں اور ورثا کی جانب سے اس کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مسلسل مطالبہ کیا گیا تھا، جس پر صوبائی حکومت نے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ کمیشن نے تمام دستیاب شواہد، گواہوں کے بیانات اور پولیس کی ابتدائی رپورٹس کی روشنی میں اپنی حتمی رائے قائم کی ہے۔
اب تمام نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ کل صبح سیکرٹری داخلہ کو پیش کی جانے والی اس انکوائری رپورٹ میں واقعے کے اصل محرکات اور ذمے داروں کے حوالے سے کیا اہم انکشافات سامنے آتے ہیں۔ صوبائی حکومت رپورٹ موصول ہونے کے بعد اس کا بغور جائزہ لے گی اور اعلیٰ سطح پر مشاورت کے بعد قانون کے مطابق آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
مقتول کے لواحقین، دوست احباب اور انصاف پسند شہری اس رپورٹ کے جلد از جلد منظر عام پر آنے کے شدید منتظر ہیں تاکہ میر رضا کے قتل کے اصل حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔ معاشرے کے مختلف طبقات کی جانب سے مسلسل یہ مطالبات سامنے آتے رہے ہیں کہ اس اندمناک واقعے کے تمام کرداروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
اس جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد یہ توقع کی جا رہی ہے کہ قانونی کارروائی میں مزید تیزی آئے گی اور اس پراسرار کیس کی تمام پرتیں کھل کر سامنے آ سکیں گی۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس رپورٹ کی روشنی میں آئندہ کے اقدامات کا فیصلہ کریں گے تاکہ انصاف کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔





اپنی رائے دیں