مواد پر جائیں
بدھ، 14 اکتوبر 2026 3 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 5:57
بریکنگ
پنجاب: آئی جی جیل خانہ جات کو رشوت دینے کی کوشش کرنے والا سپرنٹنڈنٹ گرفتارکیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلاپاک فوج کا ہائپرسونک بیلسٹک میزائل ‘فتح ٹو (ای آر)’ کا کامیاب تجربہپی ٹی آئی رہنماؤں کے کالعدم ٹی ٹی پی سے رابطے ہیں، وقت آنے پر ثبوت دیں گے: محسن نقویکوئٹہ طیارہ حادثے میں شہید میجر حسنین اور کیپٹن عبدالصمد کی نمازِ جنازہ اداامریکی ریپر ٹوپاک شکور کے قتل میں ملوث سابق گینگ لیڈر کو 40 سال قید کی سزاامریکی کارنیل یونیورسٹی میں طالبات سے زیادتی کے الزامات کے بعد تقریبات پر پابندیکراچی میں غیر قانونی حراستی مراکز کا انکشاف، پولیس کے فرسودہ نظام پر سوالاتکراچی میں پولیس کے مبینہ مقابلے، ایک ڈاکو ہلاک اور 5 زخمی حالت میں گرفتاروزیراعظم شہباز شریف سے یورپی کمشنر میگنس برونر کی ملاقات، باہمی تعاون پر تبادلہ خیالروس اور پاکستان کا سیکیورٹی و انسدادِ جرائم میں تعاون بڑھانے پر اتفاقوفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا یورپین کمشنر میگنس برنر کے اعزاز میں عشائیہامریکی انتخابات سے قبل تیل کی قیمتیں بڑھانے کی سازش ہو رہی ہے، ڈونلڈ ٹرمپایران اور عمان کا آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے لیے عارضی معاہدے پر غورسعودی عرب: ظہران کی جانب داغا گیا حوثی بیلسٹک میزائل فضا میں تباہروم سے پرتھ جانے والی پرواز میں کھٹملوں کی موجودگی، طیارہ واپس اتر گیاجوڈیشل کمیشن نے احسن بھون کی تعلیمی ڈگری کو اصلی قرار دے دیاملک میں گندم کا وافر ذخیرہ موجود ہے، کسانوں کو فصل کا مناسب معاوضہ ملے گا: وزیرِ اعظمکینیڈا: سدھو موسے والا کے کمسن بھائی کا کنسرٹ میں اپنے بھائی کے انداز کی نقلمائیکل جیکسن کی مشہور ’تھرلر‘ جیکٹ دسمبر میں نیلامی کے لیے پیش کی جائے گی
پاکستان

سندھ کے مسائل کا حل چھوٹے انتظامی یونٹس میں ہے، مصطفیٰ کمال

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ سندھ حکومت عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔

سندھ کے مسائل کا حل چھوٹے انتظامی یونٹس میں ہے، مصطفیٰ کمال

اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ملک اور بالخصوص صوبہ سندھ کے تمام دیرینہ مسائل کا حتمی اور واحد حل صرف نئے اور چھوٹے انتظامی یونٹس کا قیام ہے۔ انہوں نے اس موقع پر زور دیا کہ موجودہ مروجہ انتظامی ڈھانچے کے ساتھ عوام کو ریلیف فراہم کرنا ناممکن ہو چکا ہے اور نظام کی اصلاح کے لیے فوری طور پر قدم اٹھانا ہوں گے۔

صوبائی حکومت اور اپنی ذات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ سندھ کے وزیراعلیٰ میرا سیاسی یا انتظامی وجود تسلیم کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں، ایسی صورت حال میں میں خود بھی انہیں کیسے تسلیم کر سکتا ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ باہمی تعاون کے بغیر معاملات کو آگے بڑھانا انتہائی مشکل امر بن چکا ہے۔

ملکی مجموعی سیاسی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے خیبر پختونخوا میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کا براہ راست ذمہ دار وہاں کے وزیراعلیٰ کو ٹھہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستوں اور صوبوں کے امور اس انداز سے ہرگز نہیں چلائے جا سکتے جیسے وہاں کی موجودہ قیادت چلانے کی کوشش کر رہی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور حامیوں کو سنجیدہ مشورہ دیتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ تمام دوستوں کو اب بھی کہتا ہوں کہ وہ کسی بھی صورت میں ریاست مخالف رویہ اختیار نہ کریں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات اور حکومتی پالیسیوں پر اعتراضات اپنی جگہ درست ہو سکتے ہیں مگر اس طرح ریاست کو تباہ نہیں کیا جانا چاہیے۔

معاشی حب کراچی کے سنگین مسائل کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے افسوس کا اظہار کیا کہ آج دنیا خلا اور چاند پر کمندیں ڈال رہی ہے جبکہ ہمارے سب سے بڑے شہر میں معصوم شہری کتے کے کاٹنے سے موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شہر کے اسی فیصد گھروں تک پینے کا صاف پانی ہی مہیا نہیں کیا جا رہا ہے۔

ڈیفنس سے لے کر شہر بھر کی پسماندہ کچی آبادیوں تک پانی کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے جس پر کسی کو کوئی پروا نہیں۔ انہوں نے مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ رات کے اوقات میں بجلی غائب رہتی ہے اور صبح کے وقت شہریوں کو گیس کی فراہمی بھی معطل رہتی ہے۔

شہر کی اہم شاہراہوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی روڈ پچھلے سات سال سے انتہائی خستہ حال اور تباہی کا شکار پڑی ہے۔ اس طویل تاخیر اور سڑک کی خرابی کی وجہ سے پانچ سے سات لاکھ افراد کا روزگار شدید متاثر ہو چکا ہے اور تاجر پریشان ہیں۔

کراچی کے قومی معیشت میں کردار کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پورے ملک کا ستر فیصد ریونیو دینے والے اس شہر کے بچے کھلے ہوئے گٹروں میں گر کر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ انہوں نے ایک دلخراش واقعے کی یاد دہانی کرائی کہ محض تیس ہزار روپے مالیت کے ایک موبائل فون کی خاطر ایک اٹھارہ سالہ نوجوان کو بیدری سے قتل کر دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب وہ کراچی کے ان دردناک مسائل کا ذکر کرتے ہیں تو ان کے چہرے پر کسی قسم کی مسکراہٹ نہیں آ سکتی کیونکہ حالات بہت زیادہ ابتر ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر صوبائی حکومت کی جانب سے شہر کے مسائل کے حل کے لیے کوئی سنجیدہ قدم اٹھایا گیا تو وہ اس کی بھرپور حمایت کریں گے۔

مردم شماری کے اعداد و شمار پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی پاکستان کا واحد شہر ہے جس کی درست اور شفاف آبادی کو شمار کرنے کے لیے صوبائی حکومت کبھی تیار نہیں ہوتی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ دو ہزار سترہ کی مردم شماری میں کراچی کی آبادی ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ریکارڈ کی گئی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد دو ہزار تیئس کی مردم شماری میں اسی آبادی کو اچانک گھٹا کر ایک کروڑ تیس لاکھ بتا دیا گیا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے اس ناانصافی کا نوٹس لیا گیا اور مردم شماری کے عمل میں چار مرتبہ توثیق کے ساتھ توسیع کی گئی۔

توسیع کے اس عمل کے بعد کراچی کی اصل آبادی مزید تہتر لاکھ افراد کے اضافے کے ساتھ سامنے آئی اور سرکاری کاغذات کے مطابق اب کراچی کی آبادی دو کروڑ تین لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اتنی بڑی آبادی کے لیے وسائل کی تقسیم بھی اسی تناسب سے ہونی چاہیے۔

موجودہ مالیاتی نظام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت قابلِ تقسیم محاصل میں سے ستاون اعشاریہ پانچ فیصد حصہ صوبوں کو منتقل کیا جاتا ہے۔ رواں مالی سال کے دوران تمام صوبوں کو مجموعی طور پر آٹھ ہزار آٹھ سو چوراسی ارب روپے کی خطیر رقم وفاق کی جانب سے فراہم کی گئی ہے۔

صوبہ سندھ کو ملنے والے فنڈز کا حساب کتاب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اکیلے سندھ کو پچھلے سترہ برسوں کے دوران بائیس ہزار ارب روپے کے فنڈز دیے گئے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنی بڑی اور بھاری رقوم کے باوجود یہ وسائل عام عوام تک کیوں نہیں پہنچ پائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ فنڈز دیانت داری اور شفاف طریقے سے خرچ کیے جاتے تو پورے سندھ کو پچاس مرتبہ نئے سرے سے تعمیر کیا جا سکتا تھا۔ اندرون سندھ کے دیہی علاقوں کی حالت زار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ غریب خواتین پینے کا پانی حاصل کرنے کے لیے بارہ بارہ کلومیٹر کا طویل سفر کرتی ہیں۔

دیہی سندھ کی خواتین مجبوری کے عالم میں جانوروں کے پانی پینے کی جگہوں اور تالابوں سے پانی بھرنے پر مجبور ہیں جو انسانی حقوق کا سنگین المیہ ہے۔ پمز ہسپتال کے منصوبے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ پولی کلینک ٹو کا منصوبہ مقررہ ایک سال کے عرصے میں مکمل کر لیا جائے گا جہاں فائر سیفٹی کے تمام معیاری انتظامات کیے جائیں گے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں