مواد پر جائیں
جمعرات، 5 نومبر 2026 25 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
تازہ
اپ ڈیٹ: وزیراعظم کا پیٹرول ریلیف نہ دینے والے پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکمپنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ 7 فروری 2027 کو ہوگاوکٹر ومبنیاما کے 52 پوائنٹس کے شاندار کھیل سے سپرز کی ڈلاس میورکس پر کامیابیامریکی ریاست کولوراڈو میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہیسوات: خاتون سے زیادتی میں ملوث 2 پولیس اہلکار گرفتار، مقدمہ درجفیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کو ایم پی او کیسز سننے سے روک دیاآبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکرز اور ٹگ بوٹ میں آگ لگ گئی، ایرانی پاسداران انقلاب کا دعویٰبینک آف پنجاب نے پاکستان کا پہلا ماسٹر کارڈ ورلڈ ایلیٹ متعارف کرا دیاآٹزم کے شکار افراد میں پارکنسنز کے مرض کا خطرہ دو گنا زیادہ ہونے کا انکشافوی رات کوہلی کی شاندار بیٹنگ، بھارت نے نیوزی لینڈ کو پہلے ون ڈے میں شکست دے دییو ایف سی کے سربراہ ڈانا وائٹ کا اسلام مخاچیف کو فائٹس بڑھانے کا مشورہلندن: عوامی مقامات اور ٹرانسپورٹ پر فیشل ریکگنیشن کیمروں کا منصوبہ تیاربھارت: چاکلیٹ کے تنازع پر 12 سالہ لڑکی نے 4 سالہ بچے کو قتل کر دیاپاکستان 23 ویں ٹیم اسکواش چیمپئن شپ کے سیمی فائنل میں پہنچ گیاامریکی وسط مدتی انتخابات: فلوریڈا اور جارجیا میں تاریخی نتائج سامنے آ گئےعالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی، بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا امکانکامو کا یوئیفا چیمپئنز لیگ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ، لینس کو ایک کے مقابلے میں نو گول سے شکستون کنسٹیٹیوشن ایونیو منصوبے میں سنگین مالی بے ضابطگیوں کا انکشافایران جنگ امریکی انتخابات میں شکست کی بڑی وجہ بنی، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعتراف190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلیں 10 نومبر کو سماعت کے لیے مقرر
صحت

تمباکو نوشی مردوں اور خواتین میں بانجھ پن کا خطرہ بڑھاتی ہے، نئی تحقیق

برطانیہ میں ہونے والی ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تمباکو نوشی انسانی تولیدی صحت کو شدید متاثر کرتی ہے۔

جدید دور میں بانجھ پن کے مرض میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جو کہ دنیا بھر کے طبی ماہرین کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں ہر چھ میں سے ایک شخص کو اپنی زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر اس پیچیدہ مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس سنگین مسئلے کی وجوہات جاننے کے لیے طبی محققین کی جانب سے مسلسل عالمی سطح پر سائنسی پژوہش کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے۔ اسی سلسلے میں برطانیہ کی نامور یونیورسٹیوں کے ماہرین نے ایک نئی اور جامع تحقیق مکمل کی ہے جس کے حیرت انگیز نتائج سامنے آئے ہیں۔

اس مشترکہ سائنسی تحقیق میں برطانوی اداروں شیفیلڈ یونیورسٹی اور ناٹنگھم یونیورسٹی کے ماہرین نے بنیادی طور پر سگریٹ نوشی اور تولیدی صحت کے باہمی تعلق کا گہرائی سے جائزہ لیا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی کی نقصان دہ عادت مردوں اور خواتین دونوں کے جسمانی نظام پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔

طبی جریدے فرنٹیرز ان ٹاکسیکالوجی میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق سگریٹ نوشی بانجھ پن کے خطرات کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ اگرچہ یہ بات پہلے سے معلوم تھی کہ سگریٹ پینا مجموعی صحت کے لیے مضر ہے، مگر اب اس کی مخصوص وجوہات بھی سامنے آ چکی ہیں۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے جانوروں بالخصوص نر اور مادہ چوہوں پر سگریٹ کے دھوئیں کے اثرات جانچنے کے لیے طویل تجربات کیے۔ بارہ ہفتوں تک جاری رہنے والے ان سائنسی تجربات میں یہ دیکھا گیا کہ تمباکو کا دھواں کس طرح تولیدی اعضا کو نقصان پہنچاتا ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ چوہوں پر کیے گئے تجربات کے نتائج سے یہ واضح ہو گیا کہ سگریٹ کا دھواں مردانہ اور زنانہ دونوں نظامِ تولید کو یکساں طور پر متاثر کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں تولیدی صلاحیت کمزور ہو جاتی ہے اور مستقبل میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

برطانوی محققین نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ تمباکو نوشی کے ناصرف براہ راست نوش کرنے والے پر بلکہ اس کے تولیدی خلیات پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس تحقیق کی مدد سے طبی ماہرین کو بانجھ پن کی بنیادی وجوہات کو سمجھنے میں مزید مدد ملی ہے۔

اب اس شعبے کے سائنسدان مزید تحقیق کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ والدین کی تمباکو نوشی کی عادت اگلی نسل میں بانجھ پن کا خطرہ بنتی ہے یا نہیں۔ اس ضمن میں مزید طبی و سائنسی تجربات کا دائرہ کار وسیع کیا جا رہا ہے۔

بانجھ پن کے اس مسئلے پر دنیا بھر میں اس سے قبل بھی کئی اہم طبی تحقیقات ہو چکی ہیں جو اس بیماری کے مختلف محرکات کو سامنے لاتی ہیں۔ دسمبر دو ہزار چوبیس میں امریکا کی ایموری یونیورسٹی میں بھی تولیدی صحت کے حوالے سے ایک بڑی تحقیق منظر عام پر آئی تھی۔

اس امریکی تحقیق میں فضائی آلودگی کو مردوں اور خواتین دونوں میں بانجھ پن کا ایک اور بڑا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ اس تحقیق کے لیے چودہ سو ایسے جوڑوں کا انتخاب کیا گیا جو کہ مصنوعی طریقہ تولید یعنی آئی وی ایف کے ذریعے والدین بننے کی کوشش کر رہے تھے۔

محققین نے ان افراد کے رہائشی علاقوں کے فضائی معیار کے اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعلقہ مراکز کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی۔ نتائج سے ثابت ہوا کہ فضا میں موجود مضر ذرات اور کاربن کے اجزاء تولیدی صحت کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔

فضائی آلودگی کے حوالے سے عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ صرف خواتین کو متاثر کرتی ہے مگر اس تحقیق نے واضح کیا کہ مرد بھی اس سے محفوظ نہیں۔ صنعتی مراکز، ڈیزل گاڑیوں اور جنگلات کی آگ سے اٹھنے والا دھواں اس مسئلے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جہاں فضائی آلودگی کی شرح زیادہ ہوتی ہے وہاں قدرتی طور پر حمل ٹھہرنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کے ماحول میں آئی وی ایف کے ذریعے علاج کروانے والے جوڑوں کو بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

صحت کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں