مواد پر جائیں
اتوار 27، جمادی الاول 1448ھ 8، نومبر 2026ء آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
اسرائیل: صدر نے نیتن یاہو کے بجائے گی ڈی آئزن کوٹ کو حکومت سازی کی دعوت دے دیاپ ڈیٹ: اسرائیلی صدر نے گادی آئزن کوٹ کو حکومت سازی کی دعوت دے دیغزہ میں شدید بارشوں سے ہزاروں خیمے زیرِ آب، بے گھر فلسطینی مشکلات کا شکارلا لی گا: ریئل میڈرڈ کی والنسیا کے خلاف 3-0 سے شاندار فتحپاکستان اور سوڈان کا سکیورٹی، سائبر کرائم اور پولیس ٹریننگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاقسری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کی تیاریاں تسلی بخش ہیں، محمد عباسپاکستان نے 23ویں ایشین ٹیم سکواش چیمپئن شپ کا فائنل جیت لیااسلام آباد ایکسپریس وے سروس روڈ ایسٹ کی بحالی پر ترقیاتی کام جاریملک کے 97 اضلاع میں انسدادِ پولیو مہم، دو کروڑ چونتیس لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسینیشناسلام آباد میں پاکستان ٹورازم، سپورٹس اینڈ فیملی فیسٹیول جاریمحمد شعیب نے دسویں شہریار میموریل پاکستان اوپن ٹینس کا ٹائٹل جیت لیااسکردو میں میاں بیوی اور بچوں کے قتل میں ملوث ملزمان کرم سے گرفتارہارون اختر نے نئی آٹو پالیسی کا حتمی مسودہ پیش کر دیایمن میں فضائی حملوں سے 25 افراد جاں بحق، 30 زخمیویمنز سپر لیگ: مانچسٹر سٹی کی ویسٹ ہیم کے خلاف بڑی کامیابی، چیلسی کا میچ ڈراپاکستان نے 23 ویں ایشین ٹیم اسکواش چیمپئن شپ کا ٹائٹل اپنے نام کر لیاابوظہبی چیمپئن شپ: جان رہم کی ایک شاٹ کی برتری کے ساتھ فائنل راؤنڈ میں انٹریاطالوی وزیر خارجہ کا ذاتی ڈیٹا ڈارک ویب پر لیک، روس نواز ہیکرز پر الزامگیل مونفلس فرانس کی ڈیوس کپ ٹیم کے نئے کپتان مقررامریکی سینیٹر عبدالسید نے ‘حبیبی پی اے سی’ کے نام سے سیاسی کمیٹی قائم کر دی
دنیا بریکنگ نیوز

اسرائیل: صدر نے نیتن یاہو کے بجائے گی ڈی آئزن کوٹ کو حکومت سازی کی دعوت دے دی

اسرائیلی صدر نے اپوزیشن لیڈر گی ڈی آئزن کوٹ کو نئی حکومت بنانے کا مینڈیٹ سونپ دیا ہے جس کے بعد سیاسی صورتحال میں بڑی تبدیلی متوقع ہے۔

اسرائیل: صدر نے نیتن یاہو کے بجائے گی ڈی آئزن کوٹ کو حکومت سازی کی دعوت دے دیتصویر: aljazeera.com

اسرائیل میں جاری سیاسی کشمکش کے دوران صدر نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر گی ڈی آئزن کوٹ کو ملک کی اگلی حکومت تشکیل دینے کے لیے باضابطہ طور پر مدعو کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ موجودہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے مقابلے میں کیا گیا ہے، جس نے ملک کے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

اسرائیلی صدر کی جانب سے یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں طویل عرصے سے جاری سیاسی تعطل کو ختم کرنے کے لیے کوششیں کی جا رہی تھیں۔ گی ڈی آئزن کوٹ کو حکومت سازی کا مینڈیٹ ملنا اسرائیلی سیاست میں ایک غیر متوقع موڑ سمجھا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، گی ڈی آئزن کوٹ کو یہ ذمہ داری اس لیے سونپی گئی ہے کیونکہ انہیں مختلف سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہونے کا امکان ہے۔ اپوزیشن کے مختلف دھڑے بنجمن نیتن یاہو کی پالیسیوں کے خلاف متحد ہو کر ایک نئی حکومت بنانے کے لیے کوشاں تھے۔

اسرائیل میں حکومت سازی کا یہ عمل اس وقت شروع ہوا جب موجودہ حکومتی اتحاد کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے تھے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ نیتن یاہو کے خلاف اپوزیشن کا اتحاد اس فیصلے کی بنیادی وجہ بنا ہے۔

گی ڈی آئزن کوٹ اب پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لیے اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کا عمل شروع کریں گے۔ انہیں مقررہ مدت کے اندر اپنی کابینہ اور حکومتی ایجنڈے کو حتمی شکل دے کر صدر کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔

دوسری جانب، بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے اس پیش رفت پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ نیتن یاہو، جو طویل عرصے سے اسرائیلی سیاست کے مرکز میں رہے ہیں، اب اقتدار سے باہر ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

اسرائیلی صدر کا یہ فیصلہ ملک کے آئینی اور سیاسی عمل کا حصہ ہے جس کے تحت پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ حمایت رکھنے والے رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دی جاتی ہے۔ گی ڈی آئزن کوٹ کی کامیابی کا انحصار اب ان چھوٹی جماعتوں پر ہوگا جو حکومت سازی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔

مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں نیتن یاہو کی مخالفت ایک مشترکہ نقطہ نظر کے طور پر ابھری ہے۔ اسی اتحاد کی بنیاد پر اپوزیشن نے صدر پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ نئی حکومت سازی کا موقع فراہم کریں۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق، گی ڈی آئزن کوٹ کے لیے چیلنج یہ ہوگا کہ وہ مختلف نظریات رکھنے والی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا رکھ سکیں۔ حکومت سازی کا یہ عمل آئندہ چند دنوں میں مزید واضح ہو جائے گا۔

اگر گی ڈی آئزن کوٹ پارلیمنٹ میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اسرائیل میں ایک نئی حکومت کا قیام عمل میں آئے گا۔ یہ تبدیلی ملکی خارجہ اور داخلہ پالیسیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں گی ڈی آئزن کوٹ جلد ہی اپنی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں وزارتوں کی تقسیم اور حکومتی ترجیحات کا تعین کیا جائے گا۔

اسرائیلی صدر کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک کو معاشی اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ نئی حکومت کے قیام کے بعد ان مسائل پر قابو پانے کے لیے اقدامات متوقع ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اسرائیلی جمہوریت کے لیے ایک امتحان ہے، جہاں سیاسی اتحادوں کی تشکیل حکومت کی بقا کے لیے ناگزیر ہوتی ہے۔

گی ڈی آئزن کوٹ کی جانب سے حکومت سازی کی دعوت قبول کرنے کے بعد اب تمام تر نظریں اسرائیلی پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس پر مرکوز ہیں۔ اس اجلاس میں ہی حکومت سازی کا حتمی فیصلہ ہو سکے گا۔

اس موضوع پر مزید خبریں

دنیا کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں