اسرائیل میں جاری سیاسی کشمکش کے دوران صدر نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر گی ڈی آئزن کوٹ کو ملک کی اگلی حکومت تشکیل دینے کے لیے باضابطہ طور پر مدعو کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ موجودہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے مقابلے میں کیا گیا ہے، جس نے ملک کے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
اسرائیلی صدر کی جانب سے یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں طویل عرصے سے جاری سیاسی تعطل کو ختم کرنے کے لیے کوششیں کی جا رہی تھیں۔ گی ڈی آئزن کوٹ کو حکومت سازی کا مینڈیٹ ملنا اسرائیلی سیاست میں ایک غیر متوقع موڑ سمجھا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، گی ڈی آئزن کوٹ کو یہ ذمہ داری اس لیے سونپی گئی ہے کیونکہ انہیں مختلف سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہونے کا امکان ہے۔ اپوزیشن کے مختلف دھڑے بنجمن نیتن یاہو کی پالیسیوں کے خلاف متحد ہو کر ایک نئی حکومت بنانے کے لیے کوشاں تھے۔
اسرائیل میں حکومت سازی کا یہ عمل اس وقت شروع ہوا جب موجودہ حکومتی اتحاد کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے تھے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ نیتن یاہو کے خلاف اپوزیشن کا اتحاد اس فیصلے کی بنیادی وجہ بنا ہے۔
گی ڈی آئزن کوٹ اب پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لیے اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کا عمل شروع کریں گے۔ انہیں مقررہ مدت کے اندر اپنی کابینہ اور حکومتی ایجنڈے کو حتمی شکل دے کر صدر کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔
دوسری جانب، بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے اس پیش رفت پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ نیتن یاہو، جو طویل عرصے سے اسرائیلی سیاست کے مرکز میں رہے ہیں، اب اقتدار سے باہر ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
اسرائیلی صدر کا یہ فیصلہ ملک کے آئینی اور سیاسی عمل کا حصہ ہے جس کے تحت پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ حمایت رکھنے والے رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دی جاتی ہے۔ گی ڈی آئزن کوٹ کی کامیابی کا انحصار اب ان چھوٹی جماعتوں پر ہوگا جو حکومت سازی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔
مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں نیتن یاہو کی مخالفت ایک مشترکہ نقطہ نظر کے طور پر ابھری ہے۔ اسی اتحاد کی بنیاد پر اپوزیشن نے صدر پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ نئی حکومت سازی کا موقع فراہم کریں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، گی ڈی آئزن کوٹ کے لیے چیلنج یہ ہوگا کہ وہ مختلف نظریات رکھنے والی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا رکھ سکیں۔ حکومت سازی کا یہ عمل آئندہ چند دنوں میں مزید واضح ہو جائے گا۔
اگر گی ڈی آئزن کوٹ پارلیمنٹ میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اسرائیل میں ایک نئی حکومت کا قیام عمل میں آئے گا۔ یہ تبدیلی ملکی خارجہ اور داخلہ پالیسیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں گی ڈی آئزن کوٹ جلد ہی اپنی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں وزارتوں کی تقسیم اور حکومتی ترجیحات کا تعین کیا جائے گا۔
اسرائیلی صدر کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک کو معاشی اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ نئی حکومت کے قیام کے بعد ان مسائل پر قابو پانے کے لیے اقدامات متوقع ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اسرائیلی جمہوریت کے لیے ایک امتحان ہے، جہاں سیاسی اتحادوں کی تشکیل حکومت کی بقا کے لیے ناگزیر ہوتی ہے۔
گی ڈی آئزن کوٹ کی جانب سے حکومت سازی کی دعوت قبول کرنے کے بعد اب تمام تر نظریں اسرائیلی پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس پر مرکوز ہیں۔ اس اجلاس میں ہی حکومت سازی کا حتمی فیصلہ ہو سکے گا۔





اپنی رائے دیں