مواد پر جائیں
بدھ، 4 نومبر 2026 24 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
تازہ
بابا وانگا کی پیشگوئی اور خلا سے موصول سگنل، حقیقت کیا ہے؟امریکی وسط مدتی انتخابات 2026: ڈیموکریٹس کی اہم ریاستوں میں کامیابیڈبلیو ٹی اے فائنلز: رائبی کینا اور کو کو گاف ایک ہی گروپ میں شاملآبنائے ہرمز پر کشیدگی: ایران کا امریکی جواب مسترد، امریکی صدر کی فضائی کارروائی کی تصدیقفل فوڈن اپنی بہترین فارم کی بحالی کے لیے پرعزمعبدال السید امریکی ریاست مشی گن سے سینیٹر منتخب ہونے والے پہلے مسلمان بن گئےغزہ میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر آدم حموی امریکی کانگریس کے رکن منتخبامریکی انتخابات: ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لیکیشا لانس باٹمز امریکی ریاست جارجیا کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر منتخبامریکی انتخابات: ڈیموکریٹک امیدواروں نے جنوبی اور شمالی کیرولائنا میں نشستیں جیت لیںلیگ آف لیجنڈز ورلڈ چیمپئن شپ: انوکٹس گیمنگ سیمی فائنل میں پہنچ گئییورپ میں پروازوں اور بحری جہاز کو بم کی دھمکیاں، تمام الرٹ جھوٹے نکلےچیمپئنز لیگ: مانچسٹر یونائیٹڈ کی روما کے خلاف شاندار کم بیک فتحچیمپیئنز لیگ: بارسلونا کی ایستون ولا کے خلاف 0-3 سے شاندار کامیابینیویارک جائنٹس اور کارنر بیک گریگ نیوسم کے درمیان 46 ملین ڈالر کا معاہدہملیحہ علی نے آئی ایم ایم اے ایف ورلڈ چیمپئن شپ میں روسی حریف کو شکست دے دیامریکی محکمہ انصاف کی جانب سے ملک بھر میں ایک ہزار الیکشن مانیٹرز تعیناتامریکی وسطی مدتی انتخابات، کانگریس میں اکثریت کا فیصلہ کن مرحلہمریم نواز کا چوہدری سالک حسین کو 5 ارب روپے کا ہتکِ عزت کا نوٹسبلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشت گرد ہلاک، ایک سپاہی شہید
عدالت

190 ملین پاؤنڈ کیس: بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست مسترد

وفاقی آئینی عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل میں بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی۔

وفاقی آئینی عدالت نے ملک کے ایک انتہائی اہم اور زیر بحث مقدمے میں ایک سو نوے ملین پاؤنڈ سکینڈل سے جڑے ایک معاملے پر اہم ترین فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے اس قانونی کارروائی کے دوران بشریٰ بی بی کی جانب سے دائر کی جانے والی سزا معطلی کی درخواست کو سرے سے ناقابلِ سماعت قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

اس قانونی چارہ جوئی کی سماعت کے لیے عدالتِ عظمیٰ کا ایک دو رکنی خصوصی بینچ تشکیل دیا گیا تھا جس نے فریقین کے دلائل کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس معزز بینچ کی قیادت وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے خود کی جبکہ ان کے ہمراہ بینچ میں دوسرے جج بھی شامل تھے۔

مقدمے کی اس باضابطہ سماعت کا آغاز اسلام آباد میں ہوا جہاں تمام متعلقہ فریقین کے نامور قانونی نمائندے کمرہ عدالت میں پیش ہوئے۔ دفاعی وکلاء نے عدالت کے روبرو اپنے دلائل پیش کرنے کے لیے بھرپور تیاری کی ہوئی تھی اور وہ اپنے مؤقف کے حق میں دلائل دے رہے تھے۔

بشریٰ بی بی کی جانب سے پیش ہونے والے معروف وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت میں اپنے دلائل کا آغاز کیا اور کیس کے مختلف قانونی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ ان کے ساتھ دوسرے سینئر وکیل سلمان اکرم راجہ بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے جو اس موقع پر قانونی ٹیم کا حصہ تھے۔

وکیل صفدر نے عدالت کے روبرو اپنا موقف اختیار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ملکی عدالتوں کی روایات رہی ہیں کہ خواتین کے مقدمات میں ہمیشہ نرم گوشہ رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس بنیاد پر بھی سزا کے معاملے میں عدالت کی طرف سے نرمی کا رویہ اپنایا جانا چاہیے۔

اپنے دلائل کو آگے بڑھاتے ہوئے دفاعی وکیل نے نیب کے مجموعی کردار پر بھی سخت سوالات اٹھائے اور تیرہ ماہ کے عرصے پر اعتراض ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طویل دورانئیے میں قومی احتساب بیورو کا کنڈکٹ انتہائی قابل اعتراض رہا ہے اور ادارے نے طریقہ کار کے دوران مسائل پیدا کیے۔

عدالت کو مزید بتایا گیا کہ نیب کی طرف سے تفتیشی اور عدالتی کارروائی کے دوران متعدد سماعتوں پر جان بوجھ کر التوا حاصل کیے گئے۔ وکیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب نیب کی باری آئی تو انہوں نے سزا معطلی کی اس باقاعدہ درخواست پر بھی بھرپور انداز میں اعتراضات دائر کیے۔

دفاعی ٹیم نے عدالت کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ ٹرائل کورٹ کی طرف سے سزا سنائے جانے کے بعد اب قانون کے تحت ضمانت کا مکمل جواز بن چکا ہے۔ وکیل کا مؤقف تھا کہ چونکہ درخواست گزار ایک خاتون ہیں لہذا قانون کے ان تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سزا کو معطل کیا جانا چاہیے تھا۔

عدالت کو یہ نکتہ بھی سمجھایا گیا کہ اس پورے عرصے کے دوران زیادہ تر توجہ اور فوکس بانی پی ٹی آئی کی مرکزی اپیل پر ہی مرکوز رہا ہے۔ دفاعی وکلاء کا کہنا تھا کہ ان تمام وجوہات کی بنا پر سزا معطلی کی اس درخواست کو میرٹ پر سن کر اس پر مثبت فیصلہ دیا جانا چاہیے۔

کارروائی کے دوران چیف جسٹس امین الدین خان نے دلائل پر ریمارکس دیتے ہوئے وکیل کو ہدایت کی کہ اس ابتدائی مرحلے پر مقدمے کے اصل میرٹ پر جانے سے گریز کیا جائے۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ اس وقت عدالت کے روبرو صرف سزا معطلی کی حد تک کا محدود کیس زیرِ غور ہے جس پر بات کی جائے۔

بینچ کے معزز رکن جسٹس باقر نجفی نے بھی اس موقع پر استفسار کیا کہ اس مقدمے کی مرکزی اپیل باقاعدہ سماعت کے لیے اب تک کتنی مرتبہ عدالت کے سامنے پیش کی جا چکی ہے۔ عدالت نے ان تمام قانونی نکتوں کا بغور جائزہ لیا جو دونوں اطراف کے فریقین کی جانب سے اٹھائے گئے تھے۔

عدالت نے فریقین کے تمام ابتدائی دلائل کو سننے کے بعد اس کیس کی مزید زبانی سماعت کو باضابطہ طور پر مکمل کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے بیرسٹر سلمان صفدر کو ہدایت کی کہ وہ اپنے تمام زبانی دلائل کے اہم نکات تحریری شکل میں عدالت میں جمع کروائیں۔

عدالت نے اس معاملے پر اپنا فیصلہ کچھ دیر کے لیے محفوظ کر لیا تھا جو بعد میں باضابطہ طور پر اوپن کورٹ میں سنا دیا گیا۔ وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے سنایا گیا یہ فیصلہ ملکی قانونی حلقوں میں ایک بڑی خبر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اس پر تبصرے جاری ہیں۔

اس موضوع پر مزید خبریں

عدالت کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں