امریکی مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی غیر متوقع شکست کے بعد پارٹی کے اندر شدید اختلافات اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے جہاں پارٹی رہنماؤں نے شکست کا ذمہ دار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قرار دیا ہے۔
منگل کے روز ہونے والے ان انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے ٹیکساس، کینساس اور ساؤتھ کیرولائنا جیسی روایتی ریپبلکن ریاستوں میں بھی شاندار کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے کانگریس کا کنٹرول حاصل کر لیا۔
انتخابی نتائج کے منظر عام پر آنے کے بعد ریپبلکن حلقوں کی جانب سے صدر ٹرمپ پر سخت تنقید کی گئی اور ان کی پالیسیوں کو شکست کی بڑی وجہ قرار دیا گیا۔
ٹیکساس کے ایک سرفہرست ریپبلکن لا بی ماسٹر بل ملر نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ صدر ٹرمپ کی مکمل اور واضح ناپسندیدگی کا اظہار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال کی کسی کو توقع نہیں تھی اور یہ پہلے درجے کی ایک بڑی تباہی ہے۔
مینیسوٹا کے ریپبلکن اسٹریٹجسٹ گریگ پپین نے مؤقف اختیار کیا کہ ریاست در ریاست عوام نے صدر کی پالیسیوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک اتحادی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایران کے ساتھ جنگ، ٹیرف اور تارکینِ وطن کے خلاف سخت کارروائیوں پر عوامی سطح پر پایا جانے والا عدم اطمینان نومبر کے انتخابات میں ایک طوفان کی شکل اختیار کر گیا۔
پارٹی کے اندر پائی جانے والی شدید مایوسی کا رخ براہِ راست صدر ٹرمپ کی طرف ہے اور ان کے طرزِ عمل پر حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے ردعمل میں کہا کہ وہ ان انتخابات میں براہِ راست امیدوار نہیں تھے اور اگر وہ بیلٹ پر ہوتے تو پارٹی شاندار کامیابی حاصل کرتی۔
بعد ازاں نیویارک ٹائمز اور فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویوز میں صدر ٹرمپ نے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ نتائج سے کچھ حد تک حیران ہیں۔
صدر نے فاکس نیوز سے گفتگو میں تسلیم کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں نے بھی ووٹرز کو متاثر کیا، جس سے انتخابی نتائج میں ریپبلکنز کو نقصان اٹھانا پڑا۔
تاہم انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ امریکی تاریخ میں عام طور پر مڈٹرم انتخابات میں وائٹ ہاؤس میں موجود حکمران جماعت کو تنزلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ٹرمپ کے حامیوں اور ان کی سرکردہ سپر پیک 'ماگا ان کارپوریشن' نے صدر پر الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جارجیا، مشی گن اور ٹیکساس جیسی ریاستوں میں امیدواروں کی کمزور مہم بھی شکست کی ایک وجہ تھی۔
ٹیکساس میں سینیٹ کے لیے ریپبلکن نامزد امیدوار کین پی کس ٹن کی مہم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایک اور پارٹی آپ ری ٹو نے دعویٰ کیا کہ یہ دونوں جماعتوں کی جانب سے ملک کی بدترین سینیٹ مہم تھی۔
آئیووا کے ریپبلکن نیشنل کمیٹی مین اسٹیو شیفلر نے مڈٹرم سے قبل اپنے بیان میں کہا کہ اگرچہ صدر کا اثر و رسوخ کم نہیں ہوا، تاہم مہم کے دوران کچھ باتوں کو مختلف انداز میں پیش کیا جا سکتا تھا۔
مڈٹرم انتخابات کے انعقاد کے وقت تاریخی طور پر 1934 کے بعد سے وائٹ ہاؤس کی حامل جماعت نے صرف تین بار مڈٹرم انتخابات میں نشستیں حاصل کی ہیں۔
انتخابی مہم کے دوران تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کی توجہ ملکی امور، واشنگٹن میں تعمیراتی منصوبوں اور بین الاقوامی محاذ پر مرکوز رہی۔
ڈیموکریٹس نے اس مہم کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور موڈریٹ امیدواروں کے ذریعے ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیابی حاصل کی۔



اپنی رائے دیں