اسلام آباد سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان کے سابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے گھر ایک طویل انتظار کے بعد خوشی کا سماں پیدا ہوا ہے۔ ان کے ہاں اکیس سال کے طویل وقفے کے بعد بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے جس پر ان کے تمام رشتہ داروں اور چاہنے والوں میں بے حد مسرت پائی جا رہی ہے۔
اس خوشی کے موقع پر ملک بھر کے کونے کونے سے سیاسی شخصیات، اہم رہنماؤں، رشتہ داروں اور خیر خواہوں کی جانب سے سابق چیئرمین سینیٹ کو مبارکباد کے پیغامات بھیجے جا رہے ہیں۔ ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس نو ولادت پر نیک خواہشات کا اظہار کر رہے ہیں۔
صادق سنجرانی پاکستانی سیاسی منظر نامے میں ایک نمایاں اور جانی پہچانی حیثیت رکھتے ہیں جنہوں نے ملکی پارلیمانی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے ملک کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کے چیئرمین کی حیثیت سے ایک طویل عرصہ تک نہایت احسن طریقے سے فرائض سر انجام دیے۔
ان کا یہ دورِ وزارتِ عظمیٰ اور سینیٹ کی سربراہی کا سفر مارچ دو ہزار اٹھارہ سے شروع ہوا تھا اور یہ منصب وہ مارچ دو ہزار چوبیس تک کامیابی کے ساتھ سنبھالے رہے۔ اس دوران انہوں نے پارلیمانی روایات کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
صادق سنجرانی کا تعلق صوبہ بلوچستان کے پسماندہ لیکن اہم ضلع نوشکی کے علاقے نوکنڈی سے ہے، جہاں ان کے خاندان کی سماجی اور سیاسی حیثیت کافی مضبوط مانی جاتی ہے۔ انہوں نے مقامی سطح سے اٹھ کر ملکی سطح پر اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔
تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو وہ صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پہلے ایسے سیاست دان ہیں جنہیں اس اعلیٰ ترین آئینی عہدے پر فائز ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ بلوچستان کے عوام کے لیے بھی یہ بات فخر کا باعث رہی کہ ان کے خطے کے نمائندے نے ایوانِ بالا کی سربراہی کی۔
اس کے علاوہ ایک اور اہم تاریخی حقیقت یہ ہے کہ وہ محض انتالیس سال کی عمر میں سینیٹ کے چیئرمین کے منصب پر فائز ہوئے تھے۔ اتنی کم عمر میں اتنی بڑی آئینی ذمہ داری سنبھالنا ملکی پارلیمانی تاریخ میں ایک منفرد ریکارڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔
سابق چیئرمین سینیٹ کا سیاسی کیریئر محض چند سالوں پر محیط نہیں ہے بلکہ اس کا دائرہ کار کئی دہائیوں پر پھیلا ہوا ہے جس کے دوران انہوں نے مختلف حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کیا۔ انہوں نے اپنی سیاسی صلاحیتوں کا لوہا مختلف ادوار میں منوایا ہے۔
اپنے طویل سیاسی سفر کے دوران انہوں نے اٹھارہ اور ننانوے کے اواخر میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی ٹیم کے ساتھ بطور کوآرڈینیٹر کے انتہائی اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔ اس دوران انہوں نے انتظامی امور میں گہرا تجربہ حاصل کیا۔
ان کے کیریئر کا ایک اور نمایاں دور دو ہزار آٹھ سے لے کر دو ہزار تیرہ تک کا ہے جب پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت برسرِ اقتدار تھی۔ اس دوران وہ وزیراعظم سیکریٹریٹ کا ایک اہم حصہ بنے رہے اور حکومتی امور میں ہاتھ بٹایا۔
وزیراعظم سیکریٹریٹ کے اندر ان کی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا کیونکہ انہوں نے کٹھن حالات میں بھی اپنے فرائض کو انتہائی دیانت داری اور خوش اسلوبی کے ساتھ نبھانے کی کوشش کی تھی۔ اس تجربے نے انہیں قومی سیاست میں پختہ کیا۔
خاندانی ذرائع کے مطابق نومولود اور اس کی والدہ کی صحت بالکل تسلی بخش ہے اور گھر میں خوشی کا ماحول دیکھا جا سکتا ہے۔ دوست احباب اور سیاسی اکابرین کی جانب سے مبارکباد دینے کا یہ سلسلہ تاحال مسلسل جاری و ساری ہے۔
اس خوشی کے موقع پر ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی صادق سنجرانی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے اور اسولہ اور خاندانی خوشیوں کے اس لمحے میں ان کے ساتھ بھرپور مسرت کا اظہار کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا اور دیگر ابلاغی ذرائع پر بھی اس خبر کے سامنے آنے کے بعد سے مبارکباد کے پیغامات کا تانتا بندھا ہوا ہے اور ہر کوئی اس خوبصورت موقع پر سابق چیئرمین سینیٹ کے اہل خانہ کو دعائیں دے رہا ہے۔




اپنی رائے دیں