مواد پر جائیں
اتوار، 25 اکتوبر 2026 14 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 5:58
بریکنگ
سعودی عرب: حوثی ملیشیا کے مکہ اور مدینہ پر بیلسٹک میزائل حملے ناکامسندھ میں عام استعمال کی 6 ادویات کے 7 بیچز جعلی قرارپاک چین دوستی کے 75 برس، چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ کل پاکستان پہنچیں گیملک بھر میں ایل پی جی اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہافغان طالبان دہشت گرد تنظیموں کی معاونت ختم کریں، پاکستان کا دو ٹوک مطالبہڈیرہ اسماعیل خان: کواڈ کاپٹر گرنے سے بچہ جاں بحق، ماں اور بھائی زخمیپاکستان کے سیکیورٹی خدشات کا جواب دینے کے بجائے افغان حکومت گمراہ کن الزامات لگا رہی ہے، وزارت اطلاعاتکراچی ایئرپورٹ پر عمرہ زائرین کی ویکسینیشن معطل، کاؤنٹر ہٹا دیا گیاپنجاب: آئی جی جیل خانہ جات کو رشوت کی پیشکش کرنے والا سپرنٹنڈنٹ گرفتارکراچی: ناظم آباد میں پولیس کی فائرنگ سے نوجوان زخمی، اہل خانہ کا انصاف کا مطالبہپاکستان کشمیریوں کے حقوق کی حفاظت کر رہا ہے، فاروق عبداللہمسلم لیگ (ق) کے وفد کی چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات، ملکی صورتحال پر تبادلہ خیالچیف جسٹس امین الدین خان کا دورہ آذربائیجان، عدالتی تعاون بڑھانے پر اتفاقلاہور: مجاہد سکواڈ کی کارروائی، پتنگیں اور ڈور فروخت کرنے والے 2 ملزمان گرفتارانڈین پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ بھگونت مان کی لاہور آنے کی خواہشکراچی: لیاقت آباد میں خاتون کے قتل کا معمہ حل، مقتولہ کا دوست گرفتاروزیراعظم شہباز شریف سے لاہور چیمبر آف کامرس کے فاؤنڈرز گروپ کے وفد کی ملاقاتپی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں تنظیمی امور، بیرسٹر گوہر کی جانب سے ہدایات جاریناسا کی جانب سے انتہائی سرد موسم میں کارآمد جدید بیٹری تیارمشرق وسطیٰ میں امن کیلئے پاکستان سمیت 8 ممالک کا سفارتی حل پر اتفاق
پاکستان

کراچی: ناظم آباد میں پولیس کی فائرنگ سے نوجوان زخمی، اہل خانہ کا انصاف کا مطالبہ

ناظم آباد میں پولیس اہلکاروں نے موٹر سائیکل سوار نوجوان کو ڈاکو سمجھ کر فائرنگ کا نشانہ بنایا، زخمی نوجوان کو اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

کراچی: ناظم آباد میں پولیس کی فائرنگ سے نوجوان زخمی، اہل خانہ کا انصاف کا مطالبہ

کراچی کے علاقے ناظم آباد میں پولیس کی مبینہ غفلت اور غیر تربیت یافتہ رویے کے باعث ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں پولیس اہلکاروں نے موٹر سائیکل پر سوار ایک نوجوان کو ڈاکو سمجھ کر فائرنگ کر دی۔ اس واقعے میں شوریم نامی نوجوان شدید زخمی ہوا ہے جسے طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

زخمی نوجوان کے کزن محمد طیب نے میڈیا کو بتایا کہ وہ اور شوریم ناظم آباد نمبر 3 کے رہائشی ہیں اور واقعے کے وقت موٹر سائیکل پر کہیں جا رہے تھے۔ اس دوران پیچھے سے آنے والے پولیس اہلکاروں نے بغیر کسی تصدیق کے ان پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ایک گولی شوریم کی پیٹھ میں لگی۔

شوریم نے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ موٹر سائیکل پر گزر رہا تھا کہ پیچھے سے آنے والی ایک موٹر سائیکل کی آواز سن کر خوفزدہ ہو گیا اور رفتار بڑھانے کی کوشش کی۔ اسی دوران پولیس اہلکاروں نے اسے ڈاکو قرار دیتے ہوئے گولیاں چلا دیں، جس سے وہ زخمی ہو کر گر گیا۔

متاثرہ نوجوان کے کزن کا الزام ہے کہ فائرنگ کے بعد پولیس اہلکار شوریم کو اپنی موٹر سائیکل پر بٹھا کر لے گئے اور راستے میں کسی کو فون کر کے ڈاکو پکڑنے کا ڈرامہ رچایا۔ اہلکاروں نے نوجوان پر اسلحہ پھینکنے کا جھوٹا الزام بھی عائد کیا، تاہم بعد میں اسے عباسی شہید اسپتال چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

محمد طیب نے مزید الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکار واقعے کے بعد ان کی موٹر سائیکل اور موبائل فون بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ محلے کے لوگوں کے جمع ہونے پر جب اہلکاروں کو حقیقت کا علم ہوا کہ وہ ڈاکو نہیں بلکہ علاقے کے رہائشی ہیں، تو وہ وہاں سے نکل گئے۔

زخمی نوجوان کی والدہ نے جناح اسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شوریم ان کا اکلوتا بیٹا اور گھر کا واحد کفیل ہے، جو سرینا موبائل مارکیٹ میں دکان چلاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے بیٹے کی جلد شادی ہونے والی تھی اور اس واقعے نے ان کی زندگی کو شدید صدمے میں ڈال دیا ہے۔

والدہ نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے اور ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد تاحال کسی بھی پولیس افسر نے ان سے رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی کوئی تسلی دی ہے۔

اس واقعے نے کراچی پولیس کی کارکردگی اور اہلکاروں کی تربیت پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے اس طرح کی جلد بازی اور بغیر تصدیق فائرنگ کسی بھی بے گناہ کی جان لے سکتی ہے، جس کی روک تھام ضروری ہے۔

فی الحال زخمی نوجوان شوریم جناح اسپتال میں زیر علاج ہے جہاں ڈاکٹرز اسے طبی امداد فراہم کر رہے ہیں۔ اہل خانہ کی جانب سے انصاف کے مطالبے کے بعد اب دیکھنا یہ ہے کہ محکمہ پولیس اس معاملے پر کیا موقف اختیار کرتا ہے اور ذمہ داروں کا تعین کیسے کیا جاتا ہے۔

پولیس حکام کی جانب سے تاحال اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ کراچی میں پولیس کے ہاتھوں شہریوں کے زخمی ہونے کے یہ واقعات شہر میں خوف و ہراس کا باعث بن رہے ہیں اور عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

شہری حلقوں نے آئی جی سندھ اور وزیراعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ ناظم آباد فائرنگ کیس کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس کو عوام کے تحفظ کے لیے مامور کیا گیا ہے، نہ کہ ان کی جانوں سے کھیلنے کے لیے۔

اس واقعے کے بعد علاقے میں پولیس کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ پولیس اہلکاروں کے لیے تربیت کے معیار کو بہتر بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے اور کسی اور بے گناہ کو نقصان نہ پہنچے۔

واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام کا مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے تاکہ ملوث اہلکاروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔ متاثرہ خاندان اب صرف انصاف کی امید پر حکام بالا کی جانب دیکھ رہا ہے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں