جمعرات کے روز کھیلے گئے قابیخا ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقا کی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسٹریلیا کو ایک اننگز اور اکتیس رنز سے شکست دے دی۔ اس بڑی کامیابی کے ساتھ ہی تین میچوں کی اس اہم ٹیسٹ سیریز ایک ایک سے برابر ہو گئی ہے کیونکہ مہمان ٹیم نے پہلا میچ اپنے نام کیا تھا۔
میچ کے دوران آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز کی قیادت میں کھیلنے والی کینگروز ٹیم دونوں اننگز میں مکمل طور پر ناکام نظر آئی اور مجموعی طور پر میزبان ٹیم کی پہلی اننگز کے اسکور تک بھی رسائی حاصل نہ کر سکی۔ آسٹریلوی بیٹنگ لائن جنوبی افریقی بولنگ اٹیک کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور کھل کر رنز بنانے میں ناکام رہی۔
پہلی اننگز میں آسٹریلوی ٹیم صرف ننانوے رنز کے مجموعی اسکور پر پویلین لوٹ گئی جس کے بعد میزبان ٹیم کو واضح برتری حاصل ہو گئی۔ جنوبی افریقی بولرز نے نپی تلی بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے حریف بلے بازوں کو پچ پر ٹکنے کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا۔
آسٹریلیا کی ٹیم جب فالو آن کا شکار ہو کر دوسری اننگز کے لیے میدان میں اتری تو اس بار بھی صورتحال زیادہ مختلف نہیں رہی۔ مہمان ٹیم اپنی دوسری باری میں دو سو پچانوے رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی جو کہ اننگز کی شکست سے بچنے کے لیے ناکافی ثابت ہوئے۔
جنوبی افریقا کی فتح میں کپتان ٹمبا باووما کی شاندار اور ذمہ دارانہ بیٹنگ نے سب سے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ٹیسٹ کیریئر کی بہترین اننگز کھیلی اور ایک سو اناسی رنز کی مایہ ناز باری تو لی۔
کپتان ٹمبا باووما کی اس طویل اور گراں قدر اننگز کی بدولت میزبان ٹیم نے ایک بہت بڑا مجموعہ بورڈ پر سجایا جس کے بوجھ تلے آسٹریلوی ٹیم دبی رہی۔ شاندار سنچری بنانے پر انہیں میچ کا بہترین کھلاڑی یعنی مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔
اس ٹیسٹ میچ کی فتح سے جنوبی افریقی ٹیم کے حوصلے کافی بلند ہو چکے ہیں اور وہ سیریز کے آخری اور فیصلہ کن معرکے کے لیے پرامید دکھائی دے رہے ہیں۔ دوسری جانب آسٹریلوی ٹیم کو اپنی خامیوں پر قابو پانے کے لیے اس شکست کے بعد سنجیدہ حکمت عملی بنانی ہوگی۔
تین میچوں پر مشتمل اس سنسنی خیز ٹیسٹ سیریز کا اب فیصلہ کن اور آخری معرکہ ستائیس اکتوبر سے کیپ ٹاؤن کے میدان میں کھیلا جائے گا۔ دونوں ٹیمیں سیریز اپنے نام کرنے کے لیے اس آخری میچ میں پوری قوت کے ساتھ مد مقابل آئیں گی۔
کرکٹ کے شائقین اس وقت کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کے حوالے سے انتہائی پرجوش ہیں کیونکہ یہ طے کرے گا کہ سیریز کا ٹرافی آخرکار کس کے حصے میں آتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے روایتی اور کڑے مقابلے دیکھنے میں آتے رہے ہیں۔
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے تناظر میں بھی یہ سیریز دونوں ٹیموں کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ پوائنٹس ٹیبل پر پوزیشن بہتر بنانے کے لیے ہر میچ اور ہر کامیابی قیمتی ہے۔
جنوبی افریقا کے میدانوں پر اس طرح کی کارکردگی دکھانا ہمیشہ سے مہمان ٹیموں کے لیے ایک کڑا امتحان رہا ہے اور آسٹریلیا کو بھی یہاں اسی نوعیت کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
کھیل کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کیپ ٹاؤن کا آخری ٹیسٹ میچ انتہائی دلچسپ اور کانٹے دار ہوگا جہاں دونوں فریقین ایک دوسرے کو شکست دینے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔
پہلے ٹیسٹ میچ میں شکست کھانے والی جنوبی افریقی ٹیم نے اس دوسرے معرکے میں جس انداز میں کم بیک کیا ہے اس نے شائقین کو دنگ کر دیا ہے۔ سیریز کا فیصلہ اب کیپ ٹاؤن میں ہوگا جہاں دونوں ٹیمیں پوری تیاری کے ساتھ میدان میں اتریں گی۔





اپنی رائے دیں