مواد پر جائیں
جمعرات، 15 اکتوبر 2026 4 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 9:17
تازہ
بالی ووڈ اداکار عمران خان کو 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کا نوٹس جاریبالی وڈ اداکار عمران خان کو انڈیا چھوڑنے کا حکم جاریحوثیوں نے علاقائی فریقین کی مدد سے جدید ٹیکنالوجی حاصل کی: ترجمانپی ٹی اے کی جانب سے بہتر کالنگ اور انٹرنیٹ سروس کی ہدایات جاریبجلی صارفین کیلئے ریلیف، ستمبر کی فیول ایڈجسٹمنٹ کم کر دی گئیعالمی اور مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کے نرخ برقرار رہےقومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے اپنی سالگرہ سادگی سے منا لیانیل کپور نے 39 سال بعد مشہور فلم مسٹر انڈیا کا اصل لباس پہن لیامعروف اداکارہ سکینہ خان رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیںرواں برس کا مون سون سیزن سات سال میں گرم ترین ریکارڈاینڈرائیڈ فون سے کمپیوٹر شٹ ڈاؤن اور ری اسٹارٹ کرنا ممکنیمن کے حوثی گروپ کی مدینہ منورہ پر میزائل حملے کی سخت تردیدتمباکو نوشی مردوں اور خواتین میں بانجھ پن کا خطرہ بڑھاتی ہے، نئی تحقیقمظفرگڑھ میں گھریلو تنازع پر بیوی کے مبینہ زہر دینے سے شوہر ہلاکپشاور اسکول عمارت گرنے کا واقعہ، طالبات کے اہم انکشافات سامنے آ گئےاپنا گھر اسکیم: درخواست کے لیے دستاویزات کی شرط کم کر دی گئیخیبر پختونخوا کے مختلف محکموں میں تعینات 300 قانونی مشیر نوکری سے فارغجسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھا لیا750 روپے والے پرائز بانڈ کی 108 ویں قرعہ اندازی کے نتائج کا اعلانقومی ٹیسٹ کپتان بابر اعظم نے اپنی بتیس ویں سالگرہ منا لی
صحت

سندھ فوڈ اتھارٹی کی کوٹری میں کارروائی، غیر معیاری گھی تیار کرنے والا یونٹ سیل

سندھ فوڈ اتھارٹی نے کوٹری میں کارروائی کرتے ہوئے زائد المیعاد کیمیکلز سے گھی اور کوکنگ آئل تیار کرنے والا کارخانہ سیل کر دیا۔

سندھ فوڈ اتھارٹی کی کوٹری میں کارروائی، غیر معیاری گھی تیار کرنے والا یونٹ سیل

روزمرہ استعمال کی اشیائے خورونوش بالخصوص کوکنگ آئل اور گھی کے استعمال کے حوالے سے شہریوں کے لیے انتہائی اہم اور تشویشناک خبر سامنے آئی ہے جہاں خوراک کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ سندھ فوڈ اتھارٹی نے صوبے کے مختلف علاقوں میں خوراک کے معیار کی جانچ پڑتال کے دوران ایک بڑی کارروائی عمل میں لائی ہے جس کے دوران متعدد سنگین خلاف ورزیوں کا پردہ فاش کیا گیا ہے۔

یہ کارروائی سندھ کے شہر کوٹری میں واقع ایک کوکنگ آئل اور گھی تیار کرنے والے یونٹ پر کی گئی جہاں مبینہ طور پر شہریوں کی صحت سے سنگین قسم کا کھلواڑ کیا جا رہا تھا۔ محکمہ فوڈ اتھارٹی کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی بیان کے مطابق معائنے کے دوران اس کارخانے سے کئی حیران کن اور تشویشناک حقائق عیاں ہوئے ہیں۔

ترجمان نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ معائنے کے وقت اس بات کا انکشاف ہوا کہ متعلقہ یونٹ کا لائسنس اپنی مدت پوری کر چکا تھا مگر اس کے باوجود وہاں پروڈکشن کا عمل غیر قانونی طور پر جاری رکھا گیا تھا۔ بغیر کسی قانونی اجازت اور تجدید شدہ لائسنس کے گھی اور کوکنگ آئل کی تیاری قانون کی صریح خلاف ورزی ہے جس پر فوری ایکشن لیا گیا۔

تحقیقاتی ٹیم نے جب کارخانے کے اندرونی امور کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ تیار شدہ کوکنگ آئل اور گھی کو مارکیٹ میں عام صارفین تک پہنچانے سے پہلے کسی بھی مستند لیبارٹری سے ٹیسٹ نہیں کروایا جا رہا تھا۔ بغیر کسی کوالٹی رپورٹ اور جانچ پڑتال کے یہ اشیاء مارکیٹ میں سپلائی کی جا رہی تھیں جو انسانی صحت کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی تھیں۔

فوڈ سیفٹی کے اصولوں کے مطابق کسی بھی خوراک کو بازار میں لانے سے قبل اس کا لیبارٹری ٹیسٹ لازمی قرار دیا جاتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ کھانے کے قابل ہے یا نہیں۔ اس یونٹ نے تمام تر قانونی تقاضوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے بغیر کسی کوالٹی چیک کے پیداوار کو مارکیٹ میں دھکیلنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا۔

معائنے کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ کارخانے کے اندر پروڈکشن اور معیار کی جانچ پڑتال کے نام پر انتہائی خطرناک اور زائد المیعاد کیمیکلز کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا تھا۔ یہ کیمیکلز نہ صرف غیر معیاری تھے بلکہ ان کی تاریخ بھی گزر چکی تھی جو انسانی جانوں کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہو سکتے تھے۔

محکمہ فوڈ اتھارٹی کے ماہرین کے مطابق زائد المیعاد اور خطرناک کیمیکلز کا استعمال خوراک کے معیار کو یکسر تباہ کر دیتا ہے اور اس سے مختلف پیچیدہ بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔ حکام نے موقع سے اس قسم کے مضر صحت کیمیکلز کو اپنی تحویل میں لے کر مزید جانچ پڑتال شروع کر دی ہے۔

کارروائی کے دوران حکام نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ گھی کو دوبارہ پیک کرنے کا عمل بھی بغیر کسی قانونی کنٹریکٹ مینوفیکچرنگ لائسنس کے انجام دیا جا رہا تھا۔ ری پیکنگ کے اس پورے مرحلے میں بھی کسی قسم کی لیبارٹری ٹیسٹنگ یا معیار کی جانچ کا کوئی نظام موجود نہیں تھا۔

اس کے علاوہ پروڈکٹس پر عوام کو دھوکہ دینے کے لیے نہایت گمراہ کن اور غلط لیبل چسپاں کیے گئے تھے تاکہ خریداروں کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ وہ کوئی اعلیٰ معیار کی منظور شدہ پروڈکٹ خرید رہے ہیں۔ اس مکروہ طریقے سے صارفین کو جان بوجھ کر اندھیرے میں رکھا جا رہا تھا۔

معائنے کے اس عمل کے دوران یہ بھی دیکھا گیا کہ کارخانے کے اندر صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحت کے بنیادی اصولوں کو مکمل طور پر ہوا میں اڑا دیا گیا تھا۔ کارخانے کے احاطے میں صفائی کا فقدان تھا اور خوراک کی تیاری کے لیے جو ماحول درکار ہوتا ہے وہ بالکل ناپید پایا گیا۔

حفظان صحت کے اصولوں کی اس طرح کی سنگین پامالی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ انتظامیہ کو عوام کی صحت کی کوئی پروا نہیں تھی اور ان کا واحد مقصد کسی بھی طرح سے اپنے تجارتی فوائد کا حصول تھا۔ فوڈ اتھارٹی کے عملے نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔

سندھ فوڈ اتھارٹی کے اعلیٰ حکام کا اس حوالے سے دوٹوک مؤقف ہے کہ صوبے بھر میں عوام کو معیاری اور محفوظ اشیائے خورونوش کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ قانون کی دھجیاں اڑانے والے اور عوام کی صحت سے کھیلنے والے عناصر کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔

اس کامیاب چھاپہ مار کارروائی کے بعد پولیس اور فوڈ اتھارٹی نے مشترکہ طور پر تفتیش کے دائرہ کار کو مزید وسیع کر دیا ہے تاکہ اس غیر قانونی دھندے میں ملوث تمام اہم کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے گے۔ ذمہ داران کے خلاف باقاعدہ قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

صحت کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں