وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اینٹی کرپشن سرکل کراچی نے غیر قانونی کرنسی کے کاروبار اور حوالہ ہنڈی میں ملوث ایک بڑے نیٹ ورک کے خلاف مؤثر کارروائی کرتے ہوئے نجی بینک کے برانچ منیجر سمیت پانچ ملزمان کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
یہ کارروائی شہر کے مصروف علاقے فیڈرل بی ایریا کے بلاک چار میں واقع ایک نجی بینک کی برانچ میں عمل میں لائی گئی جہاں ملزمان مبینہ طور پر غیر مجاز مالی سرگرمیوں اور کرنسی کے غیر قانونی لین دین میں مصروف تھے۔
ترجمان کے مطابق اس کارروائی کے دوران قانون نافذ کرنے والے ادارے نے ملزمان کے قبضے سے بھاری مقدار میں غیر ملکی کرنسی برآمد کی جس میں تین لاکھ سعودی ریال نقد شامل ہیں جو مبینہ طور پر حوالہ کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔
اس کے علاوہ کارروائی میں سات اسمارٹ ڈیوائسز، موبائل فونز اور مختلف شیڈولڈ بینکوں کی چیک بکس بھی ضبط کی گئی ہیں جنہیں ڈیجیٹل شواہد کے طور پر تفتیش میں شامل کیا جائے گا تا کہ مزید حقائق سامنے آ سکیں۔
حراست میں لیے جانے والے افراد کی شناخت فرحان احمد، فیصل احمد، کاشف علوی، محمد نسیم اور جنید احمد کے ناموں سے ظاہر کی گئی ہے جن سے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ان گرفتار شدگان میں کاشف علوی نامی شخص اسی نجی بینک کا برانچ منیجر ہے جو اس غیر قانونی نیٹ ورک کو مبینہ طور پر اندرونی سہولت فراہم کر رہا تھا اور اپنے عہدے کا غلط استعمال کر رہا تھا۔
ابتدائی تفتیش کے دوران برآمد کیے گئے موبائل فونز اور دیگر ڈیجیٹل آلات کا معائنہ کیا گیا ہے جس میں ہنڈی حوالہ نیٹ ورک سے جڑی واٹس ایپ چیٹس، ڈیجیٹل کھاتوں کے لیجرز اور رقوم کی ترسیل کے اہم شواہد ملے ہیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ یہ ڈیجیٹل شواہد اس مکروہ دھندے میں ملوث دیگر کرداروں، ماسٹر مائنڈز اور بڑے نیٹ ورک تک پہنچنے میں نہایت اہم ثابت ہوں گے جن کی گرفتاری کے لیے بھی لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے۔
ضبط کی گئی تمام نقدی، مواصلاتی آلات اور دیگر مالیاتی ریکارڈ کو باقاعدہ ضبطی میمو کے تحت تحویل میں لے لیا گیا ہے تاکہ عدالت میں شواہد کے طور پر پیش کیا جا سکے اور قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔
متعلقہ حکام کے مطابق اس نیٹ ورک کے باقی ماندہ کارندوں، فنڈز کے اصل ذرائع اور ممکنہ سہولت کاروں کی نشاندہی کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور اس انکوائری کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
گرفتار تمام ملزمان کے خلاف فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ اور دیگر متعلقہ قانونی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے تاکہ تمام قانونی تقاضے پورے کیے جا سکیں اور ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک دشمن اور معیشت کو نقصان پہنچانے والی ایسی تمام غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنایا جا سکے۔
ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے اور غیر قانونی ترسیلات زر کے خاتمے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں اور اس قسم کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے کارروائیوں میں تیزی لائی گئی ہے۔




اپنی رائے دیں