قطر نے لبنان میں توانائی کے شدید بحران پر قابو پانے اور بجلی کی فراہمی کو بہتر بنانے کیلئے ایک بڑے پیمانے پر شمسی توانائی کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے اپنے حالیہ دورہ بیروت کے دوران لبنانی ہم منصب نواف سلام سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے توانائی کے شعبے میں درپیش چیلنجز اور ان کے حل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قطری وزیراعظم نے بتایا کہ قطر اور لبنان توانائی کے شعبے میں تعاون کیلئے ایک جامع ڈھانچہ تشکیل دینے پر متفق ہو گئے ہیں۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد لبنان میں بجلی کی قلت کو کم کرنا اور پائیدار توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا ہے۔
اس منصوبے کے تحت ’قطر انرجی‘ اور فرانسیسی کمپنی ’ٹوٹل انرجیز‘ کے درمیان ایک اہم معاہدہ طے پایا ہے۔ اس شراکت داری کے ذریعے لبنان میں ایک جدید سولر پاور پلانٹ تعمیر کیا جائے گا جو ملک میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔
شیخ محمد بن عبدالرحمن نے مزید کہا کہ اس منصوبے کا دائرہ کار وسیع ہے اور اس کا مقصد ایک ایسی بڑی سرمایہ کاری کرنا ہے جس سے لبنانی معیشت کو استحکام ملے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس منصوبے میں حصہ لینے والی قطری کمپنیوں اور اداروں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے قطر کی جانب سے اس تعاون کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ توانائی کے شعبے سے متعلق ان منصوبوں کو جلد ہی اپنی کابینہ کے سامنے پیش کریں گے تاکہ ان پر عملی کام کا آغاز کیا جا سکے۔
لبنان گزشتہ کئی برسوں سے بجلی کے شدید بحران کا شکار ہے جس کی وجہ سے وہاں صنعت و تجارت کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کی زندگی بھی متاثر ہوئی ہے۔ قطر کا یہ اقدام اس بحران سے نکلنے میں لبنان کیلئے ایک اہم سہارا ثابت ہو سکتا ہے۔
توانائی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ شمسی توانائی کے اس منصوبے سے لبنان کی انحصار درآمدی ایندھن پر کم ہوگی۔ قابل تجدید توانائی کے اس منصوبے سے نہ صرف بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ ماحول دوست توانائی کے استعمال کو بھی فروغ ملے گا۔
قطر کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس طرح کے بین الاقوامی تعاون کے منصوبے نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ خطے میں استحکام لانے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
قطری حکام کا کہنا ہے کہ وہ لبنان کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔ توانائی کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کیے جا رہے ہیں تاکہ لبنانی عوام کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔
اس منصوبے کی تکمیل سے لبنان کے قومی گرڈ پر بوجھ کم ہونے کی توقع ہے۔ سولر پلانٹ کی تنصیب سے بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی آئے گی جس سے ملکی معیشت کے پہیے کو دوبارہ تیزی سے گھمانے میں مدد ملے گی۔
دونوں ممالک کی جانب سے اس منصوبے پر عملدرآمد کیلئے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ بھی تشکیل دیا جا سکتا ہے جو کام کی پیش رفت کی نگرانی کرے گا۔ اس سے منصوبے کی شفافیت اور بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
لبنانی عوام نے اس اعلان کو خوش آئند قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے ملک میں توانائی کے بحران کا مستقل حل نکلے گا۔ قطر کا یہ اقدام خطے میں توانائی کے شعبے میں ایک نئی مثال قائم کرے گا۔





اپنی رائے دیں