امریکی مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ممکنہ بڑی فوجی کارروائی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے خلیجی ممالک کو ایران پر ممکنہ حملوں کے منصوبوں سے آگاہ کر دیا ہے، جن میں جوہری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا شامل ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے رہی ہے۔ اس سلسلے میں ٹیکساس سے پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کا ایک اضافی یونٹ اسرائیل منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ طیارہ بردار بحری بیڑے کے جنگی گروپ اور میرینز دستے کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر سخت موقف اپناتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران 1979 سے امریکا کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ انہوں نے تہران پر ہزاروں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے فوجی کارروائی کو اپنی بڑی کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی صدر کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اپنے سفارتی وعدوں سے پھرنے کا طویل ریکارڈ رکھتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کسی بھی جارحیت کی صورت میں بھرپور جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
پینٹاگون کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ایران کے خلاف جاری کشیدگی پر امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔ یہ رقم جولائی کے تخمینے سے 25 فیصد زیادہ ہے، جس میں اسلحے کی خریداری اور فوجی سازوسامان کی تبدیلی شامل ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں چین کے مندوب فوکانگ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کا حل صرف سفارت کاری ہے۔ انہوں نے امریکا پر زور دیا کہ وہ طاقت کے استعمال سے گریز کرے کیونکہ اس سے خطے میں مزید تباہی پھیل سکتی ہے۔
آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے بھی صورتحال پر تشویش جتائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد سے عالمی معائنہ کاروں کی ایران کی جوہری تنصیبات تک رسائی محدود ہو گئی ہے، جس سے جوہری مواد کی نگرانی متاثر ہوئی ہے۔
خطے میں کشیدگی کا اثر سعودی عرب اور یمن تک بھی پہنچ چکا ہے۔ سعودی فوجی اتحاد نے حوثیوں کی جانب سے طائف کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ جدہ اور ینبع میں ہنگامی الرٹس بھی جاری کیے گئے۔
یمنی مسلح افواج کے ترجمان ماجد النزیلی کے مطابق حوثی ملیشیا کے خلاف 'فجر الیمن' آپریشن کے تحت گزشتہ 24 گھنٹوں میں 1382 حملے کیے گئے۔ ان کارروائیوں میں باب المندب اور تعز سمیت مختلف علاقوں میں حوثی دراندازی کی کوششیں ناکام بنائی گئیں۔
ایران کی وزارت خارجہ کے اہلکار محمود مالکی نے قطر پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ثالثی کی ذمہ داریاں نبھائے۔ تہران کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے کسی ملک کی سرزمین یا تنصیبات کا استعمال علاقائی اعتماد کے منافی ہے۔
ایران کے سیکرٹری سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل محسن رضائی نے حوثی عہدیدار ابراہیم محمد الدیلمی سے ملاقات میں فلسطین اور غزہ کے دفاع میں حوثیوں کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے خطے کے ممالک کے داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
امریکی کانگریس رکن سہاس صبر امنیم نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث امریکا میں مہنگائی بڑھی ہے اور ہیلتھ کیئر سسٹم پر دباؤ پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی مشکلات کے اثرات عوام پر مرتب ہو رہے ہیں۔
مجموعی طور پر مشرق وسطیٰ میں جاری یہ کشیدگی عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ پاکستان سمیت دیگر دوست ممالک خطے میں امن کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بڑی جنگ کو روکا جا سکے۔




اپنی رائے دیں