مواد پر جائیں
منگل، 27 اکتوبر 2026 16 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 9:58
بریکنگ
سرکاری اور مالیاتی اداروں کے ڈیجیٹل نظاموں پر سائبر حملوں کا خدشہبھارت: پسند کی شادی کیلئے لڑکی 100 فٹ بلند موبائل ٹاور پر چڑھ گئیملک میں جمہوریت اور قانون کی صورتحال لمحہ فکریہ ہے، شیر افضل مروتدفتر خارجہ میں اہم سفارتی تقرریوں اور تبادلوں کی تیاریاںلاہور فیشن ویک: تیسرے روز مشرقی و مغربی ملبوسات کا حسین امتزاجبرطانوی بینک بارکلیز کی ہزاروں ملازمین کی چھانٹی کی تیاریایف پی ایس سی کے ملتوی ٹیسٹوں کی نئی تاریخوں کا اعلان کر دیا گیاکویت میں ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے جدید نظام متعارفروزگار کیلئے مقامی انڈسٹری کا فروغ انتہائی ضروری ہے، مریم نوازرواں سال جولائی سے ستمبر تک کا توشہ خانہ ریکارڈ جاریاہلیہ سنیتا آہوجا کے الزامات پر بالی ووڈ اداکار گووندا کی خاموشی ختمایف بی آر کا ٹیکسٹائل اسپننگ یونٹس میں ویڈیو کیمرے لگانے کا حکمبس ڈرائیور کے بیٹے سے ’راکنگ سٹار یش‘ بننے کا دلچسپ سفربلوچستان کے شمالی علاقوں میں سردی کی شدت میں اضافہ، قلات کا درجہ حرارت ایک ڈگری ریکارڈجنوبی افریقا کے خلاف فیصلہ کن ٹیسٹ سے قبل اسٹیو اسمتھ کی فٹنس مشکوکلاہور میں سگریٹ کے ڈبوں میں ریت بھر کر فروخت کرنے والا نوسرباز گرفتاروزیراعلیٰ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام، 16,173 بچوں کے مفت آپریشن مکململک بھر میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافے کا رجحانایمان مزاری اور ہادی علی کی اسلام آباد ہائیکورٹ حکمنامے کیخلاف اپیلنریندر مودی کی 33 سال قبل وفات پانے والے سادھو کے ہولوگرام سے گفتگو وائرل
دنیا

بھارت: پسند کی شادی کیلئے لڑکی 100 فٹ بلند موبائل ٹاور پر چڑھ گئی

اتر پردیش میں خاندان کی مخالفت پر لڑکی نے ٹاور پر چڑھ کر ویڈیو کال کے ذریعے نکاح کر لیا۔

بھارت: پسند کی شادی کیلئے لڑکی 100 فٹ بلند موبائل ٹاور پر چڑھ گئی

بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع بہریچ میں پسند کی شادی کے حصول کے لیے ایک انوکھا اور غیر معمولی واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ایک 19 سالہ لڑکی نے اپنے محبوب سے نکاح کے لیے 100 فٹ بلند موبائل ٹاور کا سہارا لیا۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ مٹی پور کے علاقے کے گاؤں عشرینہ میں پیش آیا۔ مہک نامی لڑکی کا 21 سالہ نورالدین کے ساتھ گزشتہ پانچ ماہ سے تعلق قائم تھا، جسے دونوں خاندانوں کی جانب سے برادری کے فرق کی بنا پر مخالفت کا سامنا تھا۔

شادی کے معاملے پر اپنی والدہ کے ساتھ تلخ کلامی کے بعد مہک نے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے صبح چھ بجے موبائل ٹاور پر چڑھنے کا فیصلہ کیا۔ لڑکی نے ٹاور کی بلندی پر پہنچ کر دھمکی دی کہ اگر اسے زبردستی نیچے اتارنے کی کوشش کی گئی تو وہ چھلانگ لگا دے گی۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس اور بڑی تعداد میں لوگ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ پولیس اہلکاروں نے تقریباً چار گھنٹے تک لڑکی کو سمجھانے کی کوشش کی تاکہ وہ بحفاظت نیچے اتر آئے، تاہم مہک اپنے مطالبے پر ڈٹی رہی۔

پولیس کے مطابق لڑکا نورالدین روزگار کے سلسلے میں دو ماہ قبل ممبئی منتقل ہو چکا تھا، جس کی وجہ سے معاملے کو حل کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔ پولیس نے دونوں خاندانوں کے بزرگوں کو مذاکرات کے لیے آمادہ کیا اور انہیں شادی پر راضی کر لیا۔

خاندانوں کی رضامندی کے بعد ایک مقامی قاضی کو موقع پر طلب کیا گیا۔ نکاح کے لیے ممبئی میں موجود نورالدین سے ویڈیو کال کے ذریعے رابطہ کیا گیا اور گواہوں کی موجودگی میں لڑکی کا نکاح ٹاور پر ہی آن لائن پڑھا دیا گیا۔

نکاح کے بعد نکاح نامے پر دستخط کی کارروائی بھی مکمل کی گئی۔ اس کے بعد خواتین پولیس اہلکاروں نے انتہائی احتیاط کے ساتھ لڑکی کو ٹاور سے نیچے اتارا، جس کے بعد کئی گھنٹوں سے جاری کشیدہ صورتحال بحفاظت اختتام پذیر ہو گئی۔

اس واقعے نے مقامی سطح پر ایک بڑی ہلچل پیدا کر دی تھی، کیونکہ لڑکی کی جانب سے ٹاور پر چڑھنے کے بعد سے ہی علاقے میں خوف و ہراس پایا جاتا تھا۔ لوگ بڑی تعداد میں ٹاور کے نیچے جمع ہو گئے تھے اور صورتحال پر نظر رکھے ہوئے تھے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کی جانب سے اٹھایا گیا یہ قدم انتہائی خطرناک تھا، تاہم خوش قسمتی سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ حکام نے اس بات پر زور دیا کہ خاندانی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا ہی بہتر طریقہ ہے۔

علاقہ مکینوں کے مطابق مہک اور نورالدین کافی عرصے سے ایک دوسرے کو جانتے تھے اور دونوں ہی شادی کے لیے سنجیدہ تھے۔ تاہم برادری کے مسائل اور روایتی رکاوٹوں نے اس رشتے کو قانونی شکل دینے میں کافی مشکلات پیدا کر رکھی تھیں۔

ویڈیو کال کے ذریعے نکاح کا یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی کافی زیر بحث رہا، جہاں صارفین نے اس غیر معمولی طریقے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا۔ کچھ لوگوں نے اسے جذباتی اقدام قرار دیا جبکہ کچھ نے اسے شادی کے لیے ایک انوکھا راستہ بتایا۔

پولیس نے تصدیق کی ہے کہ نکاح کے بعد دونوں خاندانوں نے باہمی رضامندی ظاہر کر دی ہے، جس کے بعد لڑکی کو اس کے ورثاء کے حوالے کر دیا گیا۔ اب دونوں خاندانوں کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کی توقع کی جا رہی ہے۔

یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح بعض اوقات خاندانی دباؤ اور سماجی رکاوٹیں نوجوانوں کو انتہائی اقدامات پر مجبور کر دیتی ہیں۔ بہریچ پولیس نے اس معاملے کو خوش اسلوبی سے نمٹانے کے بعد کیس کو بند کر دیا ہے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں