امریکی خبر رساں ایجنسی نے سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ میں ایرانی حملوں سے امریکی فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ تجزیے کے مطابق ایران نے منظم حکمتِ عملی کے تحت پہلے امریکی فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا اور پھر طیاروں اور عمارتوں کو تباہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق رواں برس فروری سے اگست تک ایران کی جانب سے 115 سے زائد ڈرون اور میزائل حملے کیے گئے جن سے 26 فوجی اڈوں کو نقصان پہنچا۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں امریکی فوجی سازوسامان کو اربوں ڈالر کا مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر سے تصدیق ہوتی ہے کہ کویت کے علی السالم ائیر بیس پر کم از کم 30 حملے کیے گئے جس سے وہاں موجود ہینگرز اور رہائشی عمارتیں تباہ ہوئیں۔ اس کے علاوہ بحرین، عراق، اردن، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی تنصیبات بھی ان حملوں کی زد میں رہیں۔
خبر ایجنسی کے مطابق ایران نے اردن، قطر اور سعودی عرب کے پرنس سلطان ائیر بیس پر نصب موبائل ریڈار نظاموں کو بھی نشانہ بنایا۔ مارچ میں سعودی عرب میں ہونے والے ایک حملے میں بوئنگ کا ای تھری سینٹری نگرانی کرنے والا طیارہ بھی متاثر ہوا تھا۔
خطے کے حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے بعد امریکا نے اپنے بہت سے فوجی اثاثے بشمول طیارے اور مواصلاتی نظام خلیج کے علاقے سے دوسری جگہ منتقل کر دیے ہیں۔ امریکی حکام نے بعض سیٹلائٹ کمپنیوں سے قومی سلامتی کے پیشِ نظر تصاویر کی اشاعت روکنے کی درخواست بھی کی تھی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل سامنے آنے والی رپورٹس میں 24 امریکی اڈوں اور 274 عمارتوں کے متاثر ہونے کا تخمینہ لگایا گیا تھا، جس کے بعد سے امریکی محکمہ دفاع اپنی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کر رہا ہے۔



اپنی رائے دیں