مشرق وسطیٰ میں ہونے والے ایرانی حملوں کے نتیجے میں چوبیس امریکی فوجی اڈے اور ان کی دو سو چوہتر عمارتیں تباہ ہونے کی تصدیق سامنے آئی ہے۔ اس بات کا انکشاف ایک موقر امریکی اخبار کی جانب سے کیا گیا ہے جس نے اپنی رپورٹ میں اس خطے میں امریکی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات کا تفصیلی احاطہ کیا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی اس تحقیقی رپورٹ کے مطابق یہ جائزہ سیٹلائٹ سے حاصل کی گئی تصاویر اور امریکی فوجی حکام کے ساتھ کیے گئے انٹرویوز کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ تنازع کے ابتدائی دو ہفتوں کے دوران ہی مختلف مقامات پر ایک سو انیس عمارتیں شدید متاثر ہوئی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے جنگ کے پہلے چھ ماہ کے دوران مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی موجودگی کی چوبیس تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی محکمہ دفاع نے اس تمام نقصان کا ابتدائی تخمینہ کم از کم پانچ ارب ڈالر لگایا ہے۔
تحقیقی جائزے میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ کارروائیوں کے دوران فوجیوں کی رہائشی عمارتوں کو بھی براہِ راست نشانہ بنایا گیا جس سے مجموعی طور پر پندرہ ارب ڈالرز کا نقصان ہوا۔ ان تباہ شدہ اڈوں کی دوبارہ تعمیر پر چار ارب ڈالرز سے زائد کے اخراجات آنے کا تخمینہ ظاہر کیا گیا ہے۔
موجودہ صورتحال کے تناظر میں امریکی حکام کی جانب سے خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو محدود کرنے پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ امریکی فوجی حلقوں کی یہ مشاورت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن میں بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔





اپنی رائے دیں