Breaking News
Home / بلاگ / کیا عنان حکومت پاکستان میں کسی دیوتا کے ہاتھ میں ہونی چاہیئے؟

کیا عنان حکومت پاکستان میں کسی دیوتا کے ہاتھ میں ہونی چاہیئے؟

مظفر جنگ
شراب کا نشہ گھڑی دو گھڑی کا ہوتا ہے ترش لیمن کا جوس پینے سے ہی اتر جاتا ہے لیکن اقتدار کا نشہ ایک بار چڑھ جائے یہ رگ و پے میں سرایت کر جاتا ہے یہ تلخ ترش باتوں، جوتیوں اور لاتوں سے بھی نہیں اترتا۔صدر مشرف سے لے کر نواز شریف تک سب نے گالیاں بھی کھائیں اور جوتے بھی لیکن اقتدار کے حصول کے لیے عزت و ناموس دونوں ہی ہتھیلی پر رکھ پھونک مار کر اڑا دیں۔مریم نواز نے ایک بار بڑے فخر سے کہا تھا کہ وہ ایک شاہی خاندان سے ہے۔درست لیکن ہمارے ہاں جمہوریت میں شاہی خاندان ہو نہ ہو شاہی محلہ ضرور ہوتا ہے۔کچھ عرصے بعد ہی میڈیا میں ایسی کرپشن کی خبریں چھپیں کہ یہ شاہی سے چور خاندان سے مشہور ہو گئے۔
ہمارا ایک کائناتی مسئلہ ہے کہ ہم پاک اور پوتر حکمران چاہیتے ہیں جو مرغن کھانے کی جگہ صرف عوام کا غم کھائیں۔شاندار محلات کی جگہ عوام کے دلوں میں رہتے ہوں۔ کفالت صرف غریب بچوں کی کریں تںخواہ لیں تو کسی خیراتی ادارے کو دے دیں لیکن حقیقت میں ہوتا الٹ ہے بلکہ یہ خیرات کے نام پر اکٹھا ہوا پیسے سے دبئی اور نیو یارک میں فلیٹس خرید لیتے ہیں اور منی ٹریل کی جگہ منی بیگم کی غزلوں والی کیسٹ یہ کہہ کر ہاتھ میں پکڑا دیتے ہیں کہ “کرپشن میں حد سے گزر جانا چاہیئے” ۔
کرپٹ اور لٹیرے حکمرانوں سے تنگ آئی عوام اور ہمیشہ نت نئے تجربات کرتی ہماری اسٹیبلیشمنٹ نے سوچا کہ اب ایک ایسا حکمران لے کر آئیں جو فلمی ہیرو کی طرح ہو جو نواز شریف کی ایسے ہی دھلائی کرے جیسے انیل کپور مسٹر انڈیا میں امریش پوری کی کرتا ہے۔آیڈیا برا نہیں تھا کم ازکم ہماری اسٹیبلیشمنٹ کے پاس دماغ ہو نہ ہو ائیڈیا ان کے پاس بہت ہوتے ہیں۔قصور ان کا بھی نہیں وہ آج بھی فملی دنیا میں رہتے ہیں جہاں وہ ہیرو کا رول اور ولن کا رول کبھی روس، کبھی امریکہ اور انڈیا ادا کرتا ہے۔یہ خیالوں میں ہی دشمن ملکوں پر قبضہ کر کے انہیں تکنی کا ناچ نچا دیتے ہیں اور بھڑکیں مارتے ہوئے چیختے چلاتے رہتے ہیں کہ “ناچ بسنتی ناچ”۔ یہ تو ہمیں بعد میں پتا چلا کہ بسنتی کو ہندو اپسرا نہیں بلکہ خود ہماری اپنی عوام ہے جنہیں یہ گذشتہ 70 سالوں سے اپنے اشاروں پر نچا رہے ہیں۔ تو ہم کہہ رہے تھے کہ انہیں اب ایک ایسا حکمران چاہیئے جو انسان ہو مگر اس کے اندر اوصاف دیوتا جیسے ہوں۔انہوں نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو ان کی مہربان نظر عمران خان پر پڑی۔سیانے کہتے ہیں جسے دھڑم نیچے گرانا ہو پہلے اسے بانس پر چڑھاتے ہیں لیکن انہیں بانس تو نہ ملا انہوں نے عمران خان کو کنٹینر پر چڑھا دیا۔ خان کنٹیرز پر کیا چڑھا اس کے ارد گرد موسیقی کی مدھر سر، دھول کی تھاپ اور ناچتی اپسراوَں نے شام ڈھلے ڈیڑے جمانےشروع کر دیے۔کہنے والے کہتے ہیں کہ بعض اوقات فلمی دنیا والے بھی آتے جو اپنے فلمی گانوں کی دھنیں اور گلوکاری عمران خان سے کروانے پر بضد تھے یہ تو انہیں سمجھایا جناب یہ نیازی خان ہیں کوئی ڈوھلکی پیٹنے والے استاد نتھو خان صاحب نہیں۔ ہمیں تو استاد نتھو خان صاحب اور عمران خان میں کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہوتا وہ چمڑی سے بنی ڈھولکی باجتے ہیں اور یہ بھی چمڑی والی ڈھولکی ہی بجاتے ہیں اگر کسی کو یقین نہیں تو ریحام خان سے پوچھ لیں۔بقول ریحام خان کے عمران خان کو ڈھولکی پیٹنے اور پٹوانےدونوں طرح کا شوق تھا۔ ہماری تو دور کی نظر کمزور ہے پتہ نہیں اٹبلیشمنٹ کو عمران خان میں کیا نظر آیا اسے وزیر اعظم بنا دیا۔یہ تو ہمیں بعد میں کسی ستم ظریف بتایا کہ آپ کی صرف دور کی نظر کمزور ہے عمران خان کے انتخاب کے بعد یہ ثابت ہو گیا کہ اسٹبلیشمنٹ کی قریب اور دونوں طرح کی نظر کمزور ہے۔
لوگوں کے نزدیک عمران خان ایک دیوتا تھا جو نہ خود کھاتا تھا نہ کسی کو کھانے دیتا تھا یہ تو ریحام خان کی مہربانی کہ اس نے ہمیں بتایا کہ عمران خان کا کیچن بھی کسی اور کی جیب سے چلتا ہے وہاں سے پکا کھانا صرف عمران ہی کھاتا ہے بلکہ مہمانوں کو تو وہ چائے کا کپ تک نہیں پلاتا۔ اب کوئی پوچھے تو نواز شریف میں کیا برائی تھی وہ تو کھاتا تھا تو کھلواتا بھی تھا۔عوام کو بہت جلد احساس ہو گیا کہ انہوں نے غلط دیوتا کا چناوَ کر لیا ہے جو دیوتا نہیں بلکہ ایک عام سا معوملی انسان ہے جو عقل سے پیدل اور حوصلے سے خالی ہے۔عوام کچھ بھی سمجھے لیکن عمران خان جب بھری سگریٹ کا سوٹا لگاتا ہے تو خود کو وہ ایک دیوتا ہی سمجھ رہا ہوتا ہے۔
کہتے ہیں جوش ملیح آبادی شراب کا رسیا اور ملحدانہ خیالات والا انسان تھا۔ایک وقت تھا کہ جوش کی انقلابی شاعری نے ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں نیا ولولہ اور جوش پیدا کر دیا تھا ان کی نظمیں ہر مذہب، رنگ اور نسل سے بالا تر ہر آزادی پسند ہندوستانی کے لبوں پر جاری تھیں۔لیکن جب جوش نے پاکستان ہجرت کی اچانک وہ دونوں ملکوں میں اجنبی ہو گئے۔ناشروں نے ان کی کتابیں چھاپنے چھوڑ دیں۔ان پر ہر طرح کے الزامات لگائے گئے لیکن جوش نے اپنی روش نہیں چھوڑی۔ صدر ایوب کو للکارتے ہوئے انہوں نے اقتدار اورمرد کامل کا فرق بتایا تھا جو آج بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے
آپ کو آگاہ کرتا ہے یہ رند بادہ خوار
قلب انسان کو سڑا دیتا ہے لمس اقتدار
کاربار اقتداء کو مرد کامل چاہیئے
اہل حکمت کا دماغ اور شیر کا دل چاہیئے
یہ جنوں پرور حکومت ہے وہ آب آتشیں
آدمی جس کو چڑھا کر ہوش میں رہتا نہیں
یہ وہ صہبا ہے جو پی لیتی ہے خود انسان کو
دیوتا ہی ہضم کر سکتے ہیں اس طوفان کو

سینیئر صحافی، کالم نگار، مورخ اور ادیب مظفر جنگ کا طنز و مزاح سے بھر پور کالم

you may contact him on his email: alijournalist@hotmail.com

About Daily Pakistan

Check Also

بیگم صفدراعوان کا ”ووٹ کو عزت دو“کا نعرہ دراصل ”مجھے لندن جانے دو“کی دہائی ہے‘ فیاض الحسن چوہان

بیگم صفدراعوان کا ”ووٹ کو عزت دو“کا نعرہ دراصل ”مجھے لندن جانے دو“کی دہائی ہے‘ …

Skip to toolbar