Breaking News
Home / بلاگ / انگریزی عربی کشمکش

انگریزی عربی کشمکش

انگریزی عربی کشمکش
مظفر علی جنگ
ہمارے بچپن میں دو ہی شوق تھے ایک انگریزی سیکھنا اور دوسرا کتے پالنا-ہم کتوں سے زیادہ کسی کو وفادار نہیں سمجھتے تھے اور ہمارے گھر والے ہماری ان حرکتوں کی وجہ سے ہمیں مسلمان نہیں سمجھتے تھے-اگرچہ ہم نے لاکھ سمجھایا کہ ہمارا کتا ہماری طرح نجیب الطرفین اور انہتائی سلجھا ہوا ہے-نزاکت اور شرافت کا اعلی نمونہ ہونے کے باوجود ہمارے کتے کو گھر میں کتے جتنی بھی عزت نہ دی گئی- ہمیں پورا یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن ہم اپنے کتے کو گھر میں ایک اعلی درجے کا مقام دلوانے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن ماسٹر مولا بخش جو ہمیں عربی اور فارسی پڑھانے آتے تھے انہوں نے ہماری تمام تدبیروں پر پانی پھیر دیا-انہیں میں اور میرا کتا ایک آنکھ نہیں بھاتے تھے-ویسے تو ہمارا کتا ہر اجنبی کو دیکھ کر ایک آنکھ کھولتا اورایک نازک اور پاکیزہ آواز میں “پخ” کر کے خاموش ہو کر دوبارہ آنکھیں بند کر کے لیٹ جاتا لیکن جیسے ہی ماسٹر مولا بخش گھر میں قدم رنجہ فرماتے ہمارا کتا ہڑ بڑا کر اٹھتا اور بھونکنا شروع کر دیتا-ماسٹر صاحب کی صلواتوں اور کتے کی آوازوں میں ہمیں تمیز کرنا بھول جاتا کہ پہلے کس کو چپ کروائیں-ہمارا زور ماسٹرصاحب پر تو چل نہیں سکتا تھا لہذا ہم ہمیشہ کتے کو ڈانٹ ڈپٹ کر خاموش کروا دیتے-ماسٹر صاحب مجھے اور میرے کتے کو جلالی نظروں سے گھورتے ہوئے یہ کہ کر بڑ بڑاتے ہوئے اندر چلے جاتے کہ ” عرفی تو میندیش ز غوغائے رقیباں آواز سگاں کم نکند رزق گدا را [عرفی تو رقیبوں کے شور وغل سے مت ڈر کیونکہ کتے کے بھونکنے سے فقیر کا رزق کم نہیں ہوتا۔کتے کے آنے کے بعد ماسٹر صاحب کی ہمارے ساتھ دشمنی دو چند ہو گئی اور جب تک کتے کو نجس اور مجھ کو خبیث کہنے کی ان کی گردان جاری رہتی تب تک ہم ان کا سامنا کرنے سے ہمیشہ کتراتے تھے-جیسے ہی ہماری اماں شربت کا ٹھنڈا گلاس لے کر اندر تشریف لاتیں تو وہ ایک ہی شکوہ کرتے کہ جس گھر میں نجس کتا ہو وہاں رحمت کے فرشتے قدم نہیں رکھتے-دو چار گھونٹ ٹھنڈے شربت کے پینے کے بعد جب ان کا چڑھا پارہ ذرا نیچے آتا تو وہ ہماری والدہ کو کہتے تمہارے اس بیٹے میں بوئے مسلمانی ہے اور نہ ہی خوئے مسلمانی-ایک نجس کتا اور اوپر سے اسے عیسائی میشنری استاد کافروں کی زبان پڑھانے آتا ہے-میں آپ کو لکھ کر دیتا ہوں یہ لڑکا انگریزی داں نہیں بلکہ انگریز داں بنے گا-ماسٹر صاحب مجھے شیخ سعدی کا بھتیجا بنانا چاہتے تھے جبکہ ان کے خیال میں میرا ٹیچر مجھے ملٹن کا غلام بنانے کی سازش کر رہا تھا- اگر ہم ایک طرف “گمشدہ جنت” کے متلاشی تھے تو دوسری طرف “گلستان سعدی” کے خوشہ چیں اورہمارے ایک ہاتھ میں بوستان سعدی اور دوسرے ہاتھ میں شکسپیئر ہوتا- ماسٹر صاحب اور ٹیچر منکر نکیر کی شکل میں ہمارے اوپر نگران استاد مقرر تھے-ان کی باہمی چپقلش کے نتیجے میں میرا گھر ارسطو کی درس گاہ کم اور رزم حق و باطل زیادہ تھا-ایک کے نزدیک جو چیز کامیاب زندگی کی علامت تھی اور دوسرے کے نزدیک وہی کفر اور الحاد کی طرف پہلا قدم اگر ایک زمانہ حال کا پرستار اور دوسرا ماضی کی جاہ و حشمت کا پیروکار-اگر کبھی ہم پینٹ کوٹ میں ملبوس ماسٹر مولا بخش کے سامنے زانو تلمذ خم کرتے تو ماسٹر صاحب کی گھنی بھووں میں خم آ جاتا اور وہ ہونٹوں کو اکڑا کر ناک منہ چڑاتے اور غضب ناک لہجے میں ہم پر برس پڑتے اور ہمیں وہ بے پر کی سناتے کہ ہمارا دل کرتا کہ کاش ہمارے پر ہوتے اور ہم اڑ کر کہیں دور چلے جاتے-فرنگیوں کا لباس بھی ماسٹر صاحب کے نزدیک ایک طرف کفر کا استعارہ اور دوسری طرف سو سالہ انگریز سامراج کا طوق جو غلامی کی یاد دلاتا تھا- ان کا طویل لیکچر سننے کے بعد ہمیں حقیقتا ایسا محسوس ہونا شروع ہو جاتا جیسے میرا واسطہ اسلامی قانون سے کم اور پتلون سے زیادہ ہے- دوسری طرف اگر ماسٹر صاحب کی فرمائش پر ہم شلوار قمیض اور شیروانی پہن کر اپنے انگریزی ٹیچر کے روبرو جاتے تو ہمیں قومی لباس میں دیکھ کر بے ساختہ ہنس پڑتے اور فورا ہی ہمیں ڈیم فول اور بلڈی فول کے القاب سے نواز دیتے اور ہم سے ایسے مخاطب ہوتے جیسے ہم ابھی ابھی اپنے کھونٹے سے رسی ٹروا کر آئے ہوں-ہمارے ٹیچر کے نزدیک دنیا میں نام کمانے کے لیئے انگریزی زبان اورکلچر اپنانا بہت ضروری تھا-ان کے اس پریکٹیکل اپروچ کی وجہ سے ہم کافی عرصہ انگریزی میں “کم” کو کمانا سمجھتے رہے-وہ ہمیں انگلو انڈین اسٹائل میں صرف ایک ہی بات کہتے تھے کہ آج کے دور میں پنڈٹ اور مولوی ہونا ایک بیکار چیز ہے انسان کو صرف گریجوایٹ ہونا چاہیئے-اگر ہمارے ٹیچر کا موڈ اچھا ہوتا وہ ہمیں پیار سے ڈارلنگ کہتے تو ہمارا سر آسمانوں کو جا لگتا اور ماسٹر صاحب اول تو میری شکل دیکھ کر ایسے منہ بناتے جیسے وہ کوئی کڑوی گولی نگل رہے ہوں-ہماری پڑھائی سے خوش ہو کر اگر ایک آدھ بار انہیں ہم پر پیار بھی آ جاتا تو انتہائی چاشنی بھرے لہجے میں جب ہمیں “بھوتنی کا” کہتے تو ہم جل بھن کر کباب ہو جاتے- مغربی میوزک کی دھن پر تھرکنا ہمارا محبوب ترین مشغلہ تھا اور یہ واحد کام تھا جو ہم اپنے ماسٹر صاحب اور گھر والوں سے چھپ کر کرتے تھے اور ایک دن ہم میڈونا کی ممنوع محبت کے گانے پر تھرک رہے تھے کہ اچانک ماسٹر صاحب فرشتہ اجل کی طرح نازل ہوئے اور انہوں نے جتنی اونچی آواز میں لاحول پڑھی ہمیں لگا کہ ہمارے کانوں میں صور پھونک دی گئی ہو-ہم نے ہڑ بڑا کر میوزک بند کردیا لیکن ماسٹر صاحب کا والیم کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا-ناہنجار، خبیث، ملعون اور ابلیس ثانی پتا نہیں ہمیں اور وہ کیا کیا کہہ رہے تھے یہ تو بھلا ہو ہمارے ان کانوں کا جنہیں ہمیشہ ایسے موقعوں پر صرف سائیں سائیں کی آواز کے سوا کچھ اور نہیں سنائی دیتا -ماسٹر صاحب کی آواز سن کر مردے بھی قبروں سے اٹھ آئیں لیکن مجال ہے ہمارے گھر والے جو ایسے موقعوں پر ہمارے مدد کو اٹھیں-ماسٹر صاحب کی آنکھوں میں ٹپکتا جاہ و جلال اور منہ سے اڑتی جھاگ دیکھ کر ہمیں لگا اب ہمارا یوم حساب آ گیا اور ہمیں یقین تھا کہ ماسٹر صاحب ہمارا دفتر عمل دیکھ کر ہمیں شرمسار کرتے ہوئے یہی کہیں گے کہ تمہاری دانش ہے افرنگی اور ایمان ہے زناری–یہ تو اچھا ہوا ماسٹر صاحب نے ہمارے ہاتھ پاوں توڑنے کی بجائے سہراب کی طرح للکارتے ہوئے گراموفون پر برق نا گہانی کی طرح گرے اور اسے پرزہ پرزہ کرنے کے بعد یوں فخر سے مسکرائے جیسے گراموفون نہیں بلکہ ان کے ہاتھ سے اسکے موجد تھامس ایڈیسن کا خاتمہ ہوا ہو-اس معرکہ حق سے سرخرو ہونے کے بعد انہوں نے جب پلٹ کر ہماری طرف دیکھا تب تک ہم با خیر و عافیت گھر کی دہلیز پار کر چکے تھے- ایک بار ہمارے پیٹ میں اتنا شدید درد ہوا کہ ہمارا برا حال ہو گیا-ہمارے ٹیچر نے مشورہ دیا کہ علاج انگریزی ادویات سے کیا جائے اور ماسٹر صاحب فورا “سیف الملوک” اٹھا لائے اور بڑے فخر سے دعوی کیا کہ جب کبھی ان کے پیٹ میں درد ہوا تو انہوں نے اپنا علاج ہمیشہ “سیف الملوک” کے لا زوال شعروں سے کیا ہے-ٹیچر ماسٹر صاحب کی باتیں سن کر آگ بگولہ ہو گئے اور چڑ کا ماسٹر صاحب کو کہا اگر آپ کے کان میں درد ہوا تو وہ اس بار سیف الملوک سے نہیں بلکہ انجن کے دھویں سے ان کے کان میں بھاپ دے کر کریں گے-ان کی آپس کی لڑائی دیکھ کر مجھے محسوس ہوا کہ میرا درد کم ہونا شروع ہو گیا ہے- انگریزی کے ٹیچر کی اپنی ڈفلی تھی اور ماسٹر صاحب کا اپنا راگ-ان کی آپس کی اس کھینچا تانی میں ہم ادھر کے رہے نہ ادھر کے ۔نہ دیندار بن سکے اور نہ ہی دنیادار بلکہ عربی اور انگریزی کی آمیزش سے ہماری شخصیت ارتقائی سفر طے کر ایک ایسے سانچے میں ڈھل گئی جو انوکھی وضع اور سارے زمانے سے نرالی تھی اور اب ہماری حالت یہ ہے کہ ہمیں ایک طرف عبادت کا شوق ہے اور دوسری طرف گانے کی عادت ہے اور ہمارے منہ سے دعائیں بھی ٹھمریاں بن کر نکلتی ہیں۔

مظفر علی جنگ گذشتہ بیس سالوں سے اردو اور انگریزی صحافت سے منسلک ہیں۔ انہوں نے صحافت کے تمام شعبوں میں کام کیا ہے اور گذشتہ کئی سالوں سے اردو زبان میں طنزیہ اور مزاحیہ کالم لکھے رہے ہیں۔ انہیں شعر و شاعری سے بھی لگاوَ ہے اور خود بھی اعلی اور معیاری شعر کہتے ہیں۔ ان کے مختلف کتابوں کے تراجم بھی چھپ چکے ہیں۔ تاریخ اور ادب سے انہیں خصوصی لگاوَ ہے۔آپ اہنی رائے انہیں muzaffar56@gmail.com اس ای میل پر بھیج سکتے ہیں

About Daily Pakistan

Check Also

سابق وزیر اعظم نواز شریف اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی والدہ انتقال کر گئیں

لاہور: نومبر 22 ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سابق وزیر اعظم نواز شریف اور …

Skip to toolbar