Breaking News
Home / دہشتگردی کے خلاف جنگ / علی گڑھ یونیورسٹی میں قائد اعظم کی تصویر پر انتہا پسند ہندووَں کا واویلا

علی گڑھ یونیورسٹی میں قائد اعظم کی تصویر پر انتہا پسند ہندووَں کا واویلا

User Rating: Be the first one !

تحریر
محمد عمران خان لوہانی
بھارتیہ جنتا پارٹی نے جان بوجھ کر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لائف ممبر کی حیثیت سے وہاں1938ء سے آویزان محمد علی جناح کی تصویر پر شور ہنگامہ کیا تاکہ کرناٹک میں اس پارٹی کو ا نتخابی فوائد حاصل ہوں مگر قابل تعریف ہیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جرأت مند و باشعور طلبہ جو بیک وقت حکومت، ہندوتوادیوں اور نام نہاد مخالف جناح عناصر کا مقابلہ کررہے ہیں۔ بی جے پی نے سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری کو مسلم یونیورسٹی کے طرف سے دئے جانے والے اعزاز اور طلبہ یونین کی تاعمر رُکنیت سے محروم کرنے کے لئے یونیورسٹی کے سرسید گیٹ پر جو طوفانِ بدتمیزی اُٹھایا تھا اور یونیورسٹی کے طلبہ پر تشدد کا مظاہرہ کیا تھا،اس کو چھپانے کے لئے اِن لوگوں نے یونیورسٹی طلبہ کی یونین کے ہال میں جناح کی تصویر کی موجودگی پر ہنگامہ کھڑا کیا۔ ورنہ یونیورسٹی میں یہ تصویر آزادی سے قبل بھی لگی ہوئی تھی لیکن کسی کو جناح صاحب کی یہ تصویر یاد نہیں آئی۔

اس موقع پر ٹی وی کے مختلف پروگراموں میں بعض خودساختہ مسلم دانشوروں اور اسلامی اسکالروں نے محمد علی جناح کی مخالفت میں جو قابل اعتراض زبان استعمال کی، اخلاق اس کی اجازت نہیں دیتا ۔ ہم صرف ایک مثال دیں گے ۔ ٹی وی والوں کے پسندیدہ ’’مسلم دھرم گرو‘‘ جو دہلی میں ایک فاونڈیشن چلاتے ہیں، انہوں نے جناح کی تصویر کی مخالفتمیں بلا وجہ اناپ شناپ بک کر اپنی سفلی ذہنیت کا مظاہرہ کیا جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ مطالبہ پاکستان کے علاوہ جناح صاحب کا کوئی نظریہ نہیں تھا۔ رہا دو قومی نظریہ تو اس کی شروعات سرسید کے زمانے سے ہورہی تھی اور ملک کی تقسیم کا مطالبہ بھی لالہ لاجپت رائے اور ساورکر نے 1930ء سے قبل ہی کیا تھا۔
علی گڑھ یونیورسٹی میں جناح کی تصویر رہے نہ رہے ،ہم کو اس سے کوئی غرض نہیں لیکن افسوس تو اس بات کا ہے کہ محض بانی ٔ پاکستان کی مخالفت میں اُن کو ملک کی تقسیم کا مجرم نمبر ون قرار دینا ٹھوس تاریخی حقائق سے اعراض کی کھلی دلیل ہے۔ اس تاریخی حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا ہے کہ برطانوی حکومت کے ہندوستان بھیجے ہوئے مشہور زمانہ ’’کابینی وفد‘‘ کی تجاویز کو منظور کرکے محمد علی جناح نے نہ صرف متحدہ ہندوستان کے نظریہ کو قبول کرلیا تھا بلکہ مطالبہ ٔپاکستان سے دستبرداری بھی اختیار کرلی تھی لیکن پہلے پنڈت نہرو نے متحدہ ہندوستان کی کابینی وفد کی تجویز کو ناکام بنایا کیونکہ انہوں نے کابینی وفد کی تجاویز میں ترمیم کئے جانے کے امکانات کو مسترد نہیں کیا۔ اس کے بعد 1946 ء میں ملک میں قائم شدہ ’’عارضی حکومت ‘‘ میں ملک پر شدید مالی کنٹرول قائم کرنے والے وزیر خزانہ لیاقت علی خاں سے سردار پٹیل کی بالکل نہیں بنتی تھی ۔ سردار پٹیل نے محض لیاقت علی خاں سے نجات پانے کے لئے نہرو کو مشور ہ دیا کہ ملک کی تقسیم کا مطالبہ قبول کرلیا جائے۔ کچھ ردوکد کے بعد پنڈت نہرو بھی اس پر راضی ہوگئے اور دونوں نے مل کر مہاتما گاندھی کو بھی جوں توں اس فارمولے پر راضی کرلیا۔ اگر سردار پٹیل لیاقت علی خاں سے نجات پانے اور پنڈت نہرو ، سردار پٹیل کے اثر میں نہ آتے یا کم از کم مہاتماگاندھی جو کہتے تھے ’’ملک کی تقسیم میری نعش پر ہی ممکن ہے‘‘ پٹیل اور نہرو کی باتیں نہ قبول کرتے تو ملک شاید تقسیم ہی نہ ہوا ہوتا۔ اس طرح اکیلے جناح صاحب کو ملک کی تقسیم کا ذمہ دار قرار دینا تاریخ کا مذاق اڑا نے کے مترادف ہے اور حقیقتوں کو جھٹلانا ہے۔ نہ صرف مولانا ابوالکلام آزاد، خوشونت سنگھ اور کئی غیر جانبدار مورخین نے مندرجہ بالا امور کو بڑی ساف گوئی کے ساتھ تفصیلاً اپنی کتابوں میں بیان کرتے ہوئے جناح صاحب کو ملک کی تقسیم کے الزام سے بری کیا ہے۔ اس کے علاوہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے پرسنل سکریٹری نے بھی اپنی کتاب ’’The Great Divide‘‘میں مندرجہ بالا امور کا پوری تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے لیکن کانگریسی حضرات اسے گزشتہ 70 ؍سال سے جھٹلارہے ہیں کیونکہ کانگریسی نہرو اور گاندھی کو ملک کی تقسیم کا ذمہ دار کیسے قرار دے سکتے ہیں؟ بھاجپا جو ہر معاملہ میں نہرو اور گاندھی کو مطعون کرتی ہے، وہ بھی ان باتوں سے محض اس وجہ سے گریز کرتی ہے کہ اس سے ملک کی تقسیم کا الزام سردار پٹیل پر آتا ہے اور سردار پٹیل سنگھ پریوار کے سب سے بڑے آئیڈیل تھے اور آج بھی ہیں۔ پٹیل پربھلا کوئی سنگھی قائد یا کارکن اتنے بڑیا الزام لگاسکتا ہے؟ اس طرح ملک کی تقسیم کا سارا الزام جناح صاحب کے سر مڈھا جاتاہے ۔ گزشتہ 70؍ سال میں جو نصابی کتابیں لکھی گئیں ان میں بھی مہاتما گاندھی، پنڈت نہرو اور سردار پٹیل کو ہر الزام سے بری کرتے ہوئے صرف جناح صاحب کو تقسیم کے لئے موردِالزام ٹھہرایاگیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ جن لوگوں نے ملک کی سیاسی تاریخ کو کبھی پڑھا ہی نہیں خاص طور پر نام نہاد مسلم دانشور ، علماء اور سیاست دان وہ اس سلسلہ میں اپنی کم علمی اور ناقص معلومات کو چھپانے کے لئے سنگھ پریوار کا ساتھ دیتے ہیں۔
رہا محمد علی جناح کی تصویر کا معاملہ تو ان کی نہ صرف تصویر بلکہ ان کی یادگار میں عمارتیں، ادارے اور سڑکیں ملک بھر میں ہیں۔ اِس موقع پر جنوبی ہند کے قارئین کے لئے یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ آندھراپردیش کے مشہور شہر گنٹور میں بھی ایک چوراہے کا نام جناح اسکوائر ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں مہاتما گاندھی کے نام پر اب بھی سڑکیں اور باغ منسوب ہیں۔ کراچی کا گاندھی گارڈن بڑا مشہور ہے۔ گوکہ بعض انتہاء پسند مسلمانوں نے ان ناموں کو بدلنے کی کوشش کی لیکن ہندوستان کی طرح پاکستان کے انتہاء پسند کامیاب نہیں ہوسکے۔ حال ہی میں بی جے پی کے کٹر مخالف سابق پولیس آفیسر سنجیو بھٹ نے فیس بک پر بتایا ہے کہ اسلام آباد کی دستور ساز اسمبلی کی عمارت میں مہاتما گاندھی کی تصویر آویزاں ہے۔ اس طرح جو لوگ مسلم یونیورسٹی میں جناح کی تصویر کی موجودگی پر اعتراضات کرتے ہیں، وہ اپنی کوتاہ نظری اور غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرکے ہندوستان کو بھی کوتاہ نظر قرار دینے پر آمادہ ہیں۔
جناح صاحب کی تصویر ہٹانے کا جواز پیدا کرنے کے لئے سنگھ پریوار والے خاص طور پر سنگھ کے مشہور نظریہ ساز پروفیسر راکیش سنہا جو عام طور پر ہرٹی وی چینل پر نظر آتے ہیں، تاریخ کو بری طرح ہر پروگرام میں مسخ کرتے پھر تے ہیں اور 1946ء کے مسلم لیگ کے راست اقدام Direct Actionمیں جناح صاحب کے حکم پر 16ہزار ہندووں کے قتل کا من گھڑت الزام لگاکر فرقہ پرستی پھیلا رہے ہیں۔ پروفیسر سنہا کی پذیرائی کی جگہ ان پر دستور کی دفعہ 153A کے تحت فرقہ پرستی پھیلانے کا مقدمہ قائم کرنا چاہئے۔
کرناٹک کے حالیہ انتخابات تھے یا 2019ء میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات ہوں ،پورا سنگھ پریوار بدترین فرقہ پرستی بلکہ دراصل مسلم دشمنی پھیلاکر عوام کے ووٹ تقسیم کرکے کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے کیونکہ عام حالات میں بی جے پی کے لئے کامیابی حاصل کرنا مشکل نظر آتا ہے۔ 2014ء کے پارلیمانی انتخابات یا یوپی کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے اسی حربہ کو بڑی کامیابی سے استعمال کیا تھا۔ اسی حربہ کو ہر جگہ استعمال کرکے کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ الیکشن کمیشن کا فرض ہے کہ وہ بی جے پی کی اس پالیسی پر پوری شدت سے گرفت کرے اور اسے ایسے مذموم حربوں کے ذریعہ کامیابی حاصل کرنے سے روکے، ورنہ ملک میں شدید بد امنی اور قتل و غارت گری کا خطرہ ہوسکتا ہے۔

About Daily Pakistan

Check Also

حکومت پاکستان دسمبر 2022تک پاکستان میں فائیو جی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے لئے کوشاں ہے، امین الحق

اسلام آباد۔ 23نومبر (ڈیلی پاکستان آن لائن ) :وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی …

Skip to toolbar