Home / رائے / پولیس

پولیس

پولیس
مظفر علی جنگ
میں آج تک یہ فیصلہ نہیں کر سکا مجھے سب سے زیادہ ڈر کاکروچ سے لگتا ہے یا کسی پولیس والے سے۔البتہ یہ سچ ہے کہ دونوں کو جہاں کہیں دیکھتا ہوں خوف سے میرے ہاتھ پاوٗں پھول جاتے ہیں آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا جاتا ہے اور زبان میں لکنت آجاتی ہے۔ ایک دن میں نے اپنے ڈرائیور سے پوچھا تمہیں پولیس والوں نے کیوں مارا؟ وہ شرمندہ سا ہو کر بولا ناکے پر پولیس والوں نے روک کر پیسے مانگت تھے، میں نے بے چوں و چرا سو کا نوٹ تھما دیا اور بڑبڑاتے ہوئے واپس گاڑی میں بیٹھنے لگا تو ایک پولیس والا بولا تم ہمیں گالیاں کیوں دے رہے ہو؟میں نے کہا نہیں جناب میں تو پولیس والوں کا بڑا احترام کرتا ہوں۔اس پر پولیس اہلکار نے دو تھپڑ جڑ دیے اور کہا جب ساری دنیا ہمیں گالیاں دیتی ہے تو تم کیوں نہیں دیتے۔ اس کی بات سن کر میں نے ہنس کر کہا پولیس والے بھی دنیا کی عجیب مخلوق ہے جنہیں لوگ منہ پر جی حضور اور پیٹھ پیچھے گالیاں دیتے ہیں۔اگر پولیس والا کسی مجرم کو پکڑ لے تو خوش قسمت اگر نہ پکڑ ے تو ڈرپوک، اگر پروموٹ ہو جائے تو سیاسی سفارش اگر نہ ہو سکے تو احمق۔کالج کے زمانے میں ہمارے ایک مسکین سے شاعر دوست کو پولیس پکڑ کر لے گئی۔میں اسے چھڑوانے کے لیے جب تھانے گیا تو دیکھا پولیس والوں نے مار مار کر اسکا بھرتہ بنا دیا تھا۔اس کی سوجی ہوئی آنکھیں اور پھٹے ہوئے ہونٹ دیکھ کر میں نے تھانیدار سے پوچھا جناب میرے معصوم سے دوست کو کس جرم میں پکڑا ہے؟ وہ اپنی بڑھی ہوئی توند پر ہاتھ پھیر کر بولا کہ ہمارے ہاں ایک کہاوت بہت مشہور ہے کہ پولیس اکثر معصوم لوگوں کو ہی پکڑتی ہے مجرم تو وہ بعد میں بنتے ہیں۔ ویسے بھی تمہارا شاعر دوست اتنا معصوم بھی نہیں۔ یہ ہمارے ڈپٹی صاحب کی بیٹی کو کالج میں لہک لہک کر یہ شعر سنا رہا تھا ۔
میں بھی گریجوایٹ ہوں تو بھی گریجوایٹ
علمی مباحثے ہوں ذرا پاس آ کے لیٹ
شعر سنانے کے بعد تھانیدار نے اپنی مونچھوں کو تاوٰ دیتے ہوئے کہا کہ شکر کرو اس پر صرف ریرسل کی ہے اصل مار تو ابھی اس کو پڑنی ہے۔ ہمارے ایک شادی شدہ شخص کے خیال میں بیوی اور پولیس میں ایک قدر مشترک ہے۔دونوں آپ سے اس جرم کا بھی اعتراف کروا لیتے ہیں جو کبھی آپ نے کیا ہی نہیں۔ ہمارے ایک دانشور دوست اکثر ہمیں کہتے تھے کہ عقلمند شخص وہ ہوتا ہے جو عورت، سانپ اور پولیس والے کو دیکھ کر راستہ بدل لے۔ہم نے وجہ پوچھی تو وہ بولا آپ جتنی مرضی احتیاط کر لیں ان تینوں کی صحبت سے آپ کو نقصان ہی پہنچے گا اور بعد میں آپ جتنا مرضی چیخے چلائیں قصور پھر بھی لوگ آپ کا ہی نکالیں گے۔ ہم نے ایک دن اپنے سب انسپکٹر دوست سے پوچھا حکومت نے پولیس والوں کی تنخواہ کی ڈبل کردی ہے۔اب تو آپ لوگ رشوت لینا چھوڑ دیں تو آگے سے بے شرمی سے ہنس کر بولااگر ہم نے تنخواہ پر ہی گزارا کرنا ہے تو لعنت ہماری اس نوکری پر۔ کچھ دن پہلے پولیس والے لڑکیوں کے کالج کے سامنے چند اوباش نوجوانوں کو مرغا بنا کر پھینٹی لگا تے ہوئے کہہ رہے تھے اوئے ہمارے ہوتے ہوئے تم لوگوں کو لڑکیوں کو چھیڑنے کی ہمت کیسے ہوئی۔بھیڑ میں سے کسی ستم ظریف نے یہ آواز لگائی کہ پولیس کے ہوتے ہوئے یہ کام کوئی اور کرے یہ انہیں برداشت نہیں ہوتا۔ اگر مینڈک اچھل کر ہاتھی کو لات مارے تو اتنی حیرت نہیںہو گی جتنی کسی پولیس والے کو انگریزی بولتے دیکھ کر ہو گی۔میں تھانے میں اپنی گاڑی چوری ہونے کی رپٹ لکھوانے گیا تومحرر نے کہا تمہاری گاڑی چوری نہیں ہوئی بلکہ اسے ’’کلفٹر‘‘ اٹھا کر لے گیا۔میں نے ذہن پر زورڈال کر کہا شاید آپ کلیکٹر کہنا چاہتے ہیں تو وہ بولا اوئے جاہل میں اسکی بات کر رہا ہوں جس کی مدد سے ٹریفک پولیس لوگوں کی گاڑیاں اٹھاتی ہے۔ہم نے شرمندہ سا ہو کر کہا اچھا آپ ’’لفٹر‘‘ کی بات کر رہے ہیں۔ ہمارے دوست البرٹو کے خیال میں ہمارے ملک کی ہر گلی محفوظ ہے غیر محفوظ تو لوگ بناتے ہیں۔ایک فیصد سے بھی کم پولیس والے اپنی وردی سے انصاف کرتے ہیں مگرپھر بھی یہ تناسب کئی محکموں سے بہتر ہے۔ البرٹو کے خیال میں قانون کے لمبے ہاتھ صرف معصوم لوگوں کی گردن اور جیبوں تک ہی پہنچتے ہیں اگر ملک سے غربت اور پولیس کو ختم کر دیا جائے تو جرم خودبخود ختم ہو جائیں گے۔

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

نورا فتحی کسی منی لانڈرنگ کا حصہ نہیں، ترجمان

نورا فتحی کسی منی لانڈرنگ کا حصہ نہیں، ترجمان بمبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) معروف …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Skip to toolbar