Home / بزنس / ڈیٹا پروٹیکشن پالیسی ہو یا سوشل میڈیامعاملہ، ملکی سلامتی اورمفاد عامہ پہلی ترجیح ہے،سید امین الحق

ڈیٹا پروٹیکشن پالیسی ہو یا سوشل میڈیامعاملہ، ملکی سلامتی اورمفاد عامہ پہلی ترجیح ہے،سید امین الحق

ڈیٹا پروٹیکشن پالیسی ہو یا سوشل میڈیامعاملہ، ملکی سلامتی اورمفاد عامہ پہلی ترجیح ہے،سید امین الحق

قومی سلامتی، نفرت انگیزی، اور غیر اخلاقی ڈیٹا پر پاکستانی قواعد کی پاسداری سب پر لازم ہوگی، وفاقی وزیر

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن سید امین الحق نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا کی کسی بھی ایپلی کیشن کی بندش کی کبھی حمایت نہیں کریں گے تاہم جہاں ملکی سلامتی، مفاد عامہ کی بات آئے گی وہاں کسی قسم کی رعایت بھی نہیں دی جاسکتی۔ انھوں نے یہ بات اسلام آباد میں وزیر اعظم ٹاسک فورس برائے آئی ٹی و ٹیلی کام کے نویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، اجلاس میں سیکرٹری آئی ٹی شعیب احمد صدیقی، پروفیسر عطاءالرحمان سمیت ٹاسک فورس کے ارکان اور وزارت آئی ٹی کے حکام نے شرکت کی۔

سید امین الحق نے کہا کہ کچھ دن پہلے ٹک ٹاک ایپلی کیشن کو عارضی طور پر بند کیا گیا جس پر میں نے اپنا واضح موقف دیا تھا کہ کسی بھی ایپلی کیشن کی بندش مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ انھیں قواعد و ضوابط کے دائرے میں لاکر صحیح سمت کی جانب راغب کرنا ضروری ہے اور ہم اس ضمن میں تیزی سے کام کررہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ صرف سوشل میڈیا ہی نہیں بلکہ کسی بھی پلیٹ فارم کے ذریعے ملکی سلامتی کے خلاف پروپیگنڈہ، ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہی سرائی، اسلامی و معاشرتی اقدار کے منافی حرکات اور مذہبی ہم آہنگی کو سبوتاڑ کرنے کیلئے نفرت انگیز گفتگو کسی صورت میں برداشت نہیں کی جاسکتی۔

وفاقی وزیر آئی ٹی نے بتایا کہ سوشل میڈیا قواعد کی کابینہ نے منظوری دی جس کے بعد وزارت آئی ٹی کے تحت ہی اس کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا ہے انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا رولز کی طرح ڈیٹا پروٹیکشن پالیسی پر بھی بین الاقوامی سطح پر پاکستان پر نگاہیں مرکوز ہیں اور ہم نے ہر جگہ اپنا یہی اصولی موقف رکھا ہے کہ پاکستان تعمیر و ترقی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں کسی بھی جدت اور بزنس ڈویلپمنٹ کا بھرپور حامی ہے ہماری پالیسیاں غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے بڑی مراعات کی حامل ہیں. ہم سہولیات بھی دے رہے ہیں اور بے بناہ منافع کی وسیع پاکستانی مارکیٹ کو بھی اوپن کررہے ہیں لیکن قومی سلامتی، نفرت انگیزی، اور غیر اخلاقی ڈیٹا پر پاکستانی قواعد کی پاسداری سب پر لازم ہوگی۔

سید امین الحق نے اجلاس میں واضح کیا کہ کچھ دن قبل فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاز نیٹ ورک کے ہیڈ آفس کی ٹیکس کے معاملات پر بندش پسندیدہ عمل نہیں تھا جس پر انھوں نے اپنے تحفظات کا اظہار متعلقہ فورم پر کردیا ہے، وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں آفس کو سربمہر کرنے کے بجائے کوئی دوسرا راستہ بھی اختیار کیا جاسکتا تھا لیکن ایف بی آر کے اس عمل نے پاکستان میں نیٹ ورکنگ کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں اور مستقبل کے بیرونی سرمایہ کاروں کے اذہان میں خدشات بیدار کردیئے ہیں جو ملکی معیشت کیلئے کسی طور خوش آئند قرار نہیں دیئے جاسکتے،ہماری کوشش ہے کہ اس طرح کا عمل آئندہ کسی آئی ٹی یا ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کے ساتھ نہ ہوسکے۔

دریں اثناءاجلاس کے شرکاءکو سندھ میں آئی ٹی مصنوعات کی برآمدات پر سیلز ٹیکس میں کمی کے حوالے سے وزیر اعلیٰ سندھ سے ہونے والے مثبت مذاکرات سے بھی آگاہ کیا گیا، شرکاءنے ملک بھر میں یونیورسل سروس فنڈ کے تحت پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں موبائل ٹاورز کی تنصیب اور فائبر آپٹکس کے ذریعے موبائل فون رابطوں میں توسیع، بہتری اور براڈ بینڈ سروسز کی فراہمی کے جاری اور آئندہ کے منصوبوں پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔
#سیدامین_الحق، #ڈیٹا_پروٹیکشن_پالیسی، #فائبرآپٹکس، #آئی_ٹی،

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

نائیجیریا میں اغوا کے خوف سے 12 ملین سے زائد بچوں نے سکول جانا بند کر دیا

نائیجیریا میں اغوا کے خوف سے 12 ملین سے زائد بچوں نے سکول جانا بند …

Skip to toolbar