Home / انٹر نیشنل / موسم اتنا عجیب برتاو کیوں کر رہا ہے؟

موسم اتنا عجیب برتاو کیوں کر رہا ہے؟

موسم اتنا عجیب برتاو کیوں کر رہا ہے؟
پیرس (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکہ میں جاری گرمی کی لہر اور یورپ میں سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریاں میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیںجس کی وجہ سے ہم مجبور ہو گئے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی اور انتہائی صورت اختیار کرتا موسم میں قائم تعلق کا از سر نو تجزیہ کر سکیں۔ صرف پچھلے ہفتے ہی چین کے صوبے ہینن میں سیلاب کی وجہ سے380,000افراد کو نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جبکہ دریاوں میں سیلاب کی وجہ سے یوگنڈا کے 30دیہات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ بمبئی میں بارشوں کی وجہ سے مٹی کے تودے گرنے سے 25افراد لقمہ اجل بن گئے۔ترکی اور شمالی افریقہ میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا جبکہ جنوبی افریقہ اور برازیل سردی سے منجمد ہوگئے ہیں۔ سائبیریا ایک بار پھر جنگل کی آگ سے لڑ رہا ہے۔ فن لینڈ میں لگاتار 31دن درجہ حرارت 25ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ رہا ہے اور گرمی کی یہ لہر فن لینڈ کی تاریخ میں طویل ترین سمجھی جا رہی ہے جس کی وجہ سے لوگ دل کے عارضے اور پانی کی کمی کا شکار ہو چکے ہیں۔ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ اس طرح کی لمبی گرمی کی لہر سے اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور زیادہ تر بوڑھے افراد اس کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق فن لینڈ میں ہیٹ ویو کے نتیجے میں 2018میں 380اموات ریکارڈ کی گئی تھیں۔ ایران میں خشک سالی سے پانی کی قلت پیدا ہونے سے ملک میں مظاہرے پھوٹ پڑے جس کے نتیجے میں ایک شخص اور پولیس والا ہلاک ہو گئے۔ یہ ایک ایسی دنیا کی تصویر کشی کر رہا ہے جس میں صنعتی انقلاب کے بعد 1.2ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ہو چکا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں گرمی میں مزید اضافہ ہو گا۔ جرمنی کے ماہر موسمیات جوہانس کواس نے گذشتہ ہفتے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ دنیا کی آب و ہوا میں پہلے جیسا توازن نہیں رہا جس کی وجہ سے حال ہی میں جرمنی میں سیلاب کی تباہی کی وجہ سے 170افراد ہلاک ہو گئے اور سینکڑوں افراد ابھی بھی لاپتہ ہیں۔ گرین ہاس گیس کے اخراج کے بارے میں ہماری آب و ہوا کا رد عمل فوری نہیں ہے۔گرمی اور نتیجہ خیز موسم کے واقعات جو ہم آج دیکھ رہے ہیں وہ اخراجوں کا رد عمل ہے جو دہائیاں قبل ماحول میں داخل ہوئے تھے۔ کواس نے کہا ، “یہاں تک کہ اگر معاشرے کاربن ڈائی آکسائیڈ آلودگی کو 2050 میں صفر تک کم کرنے کے ہدف پر پورا اتریں بھی تو اس کے بعد بھی سیارے گرم رہے گا۔کرہ ارض کو ایک نیا توازن حاصل کرنے کی ضرورت ہے اور اس وقت تک گرم ہوتا رہے گا جب تک کہ یہ تواز ن حاصل نہ ہوجائے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اگر ہم حرارت کے اخراج کے عالمی اہداف ہو حاصل بھی کر لیتے ہیں تب بھی ہمارا کرہ ارض 1.5سے لر کر2ڈگری سینٹی میٹر تک گرم ہو سکتا ہے۔ اگرچہ ماضی میں ان کی حرارت کی پیشگوئی درست رہی ہے ، لیکن اس بات کا قطعی یقین کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ درجہ حرارت میں اضافہ کب رکے گا۔

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

بائیڈن 2024 میں بھی صدارتی الیکشن لڑیں گے، ترجمان وائٹ ہاوس جین ساکی

بائیڈن 2024 میں بھی صدارتی الیکشن لڑیں گے، ترجمان وائٹ ہاوس جین ساکی واشنگٹن (ڈیلی …

Skip to toolbar