Home / بلاگ / عمران اور بزدار حکومت کا تبدیلی والی سرکار سے “تبادلے والی سرکار” تک کا سفر

عمران اور بزدار حکومت کا تبدیلی والی سرکار سے “تبادلے والی سرکار” تک کا سفر

محمد ناصراقبال خان

تخت اسلام آباد پربراجمان تبدیلی سرکارکے اپنے ناقص تجربات اورناعاقبت اندیشانہ اقدامات نے اسے” تبادلے سرکار” میں تبدیل کردیا ہے لہٰذا اب تبدیلی سرکار کو”تبادلے سرکار”کے نام سے لکھا اورپکارا جائے۔

انہیں دوبرسوں میں یوں تو کوئی بھی انتظامی کام ڈھنگ سے کرنا نہیں آیا لیکن انہوں نے تبادلے کرنے اور اس آڑ میں اپنے پیاروں پر نوازشات کرنے کا ہنر خوب سیکھ لیا ہے۔ کپتان اوربزدار سے ایک سوال ہے؟ انہوں نے جس ڈی سی یا ڈی پی او کو ڈیلیورنہ کرنے کی پاداش میں ایک شہرسے دوسرے شہرٹرانسفر کیا وہ اس ڈسٹرکٹ میں اپنے منصب سے انصاف کرے گااس بات کی کیاضمانت ہے؟

کپتان کی تقدیرانہیں اقتدارمیں تولے آئی لیکن ڈیلیورکرنے کیلئے انہیں جس” تدبراورتدبیر” کی ضرورت ہے وہ ان دونوں صفات سے محروم ہیں ۔میں پھرکہتاہوں بار بار بلکہ ضرورت کے بغیر تبادلے کرنے سے ملک میں تبدیلی نہیں آئے گی۔وزیراعظم عمران خان نے کئی بار وفاقی وزراءکے قلمدان تبدیل کئے لیکن پاکستان مزید مقروض اورمعاشی طورپرمفلوج ہوگیا۔
حکمرانوں کا کہنا ہے اپوزیشن ان سے کوئی سوال نہ کرے کیونکہ وہ پانچ سال بعد صرف عوام کوجواب اورحساب دیں گے جبکہ انہوں نے سرکاری آفیسرزکوشٹل کاک بنایا ہوا ہے ۔کسی آفیسر سے ٹائم فریم کے بغیر عمدہ نتیجہ مانگنا یاامید لگانا حماقت بلکہ جہالت ہے ۔

میں وثوق سے کہتا ہوں سیاستدانوں کے مائنڈ سیٹ اور سیاسی کلچر کی تبدیلی تک ملک میں کچھ نہیں بدلے گا۔

جس طرح پانی آسمان سے زمین پربرستا اور بلندی سے نشیب کی طرف بہتا ہے اس طرح معاشرے میں صحتمند تبدیلی کاسفر اوپر سے شروع ہوکربتدریج نیچے کی طرف آئے گا،جس روزمنتخب ایوانوں میں براجمان سیاسی قیادت نے اپناآمرانہ مزاج بدل لیا اس دن” اداروں” میں بیٹھے بابوﺅں کے ”ارادوں” میں بھی مثبت تبدیلی آجائے گی۔

دوسرے ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی ہرسال” کلینڈر” تبدیل ہوتا ہے مگرہمارے ہاں حکمران ہرروز کئی بار” بلنڈر” کرتے ہیں اسلئے پرانا پاکستان ہویا نیا پاکستان اس میں عوام کی” تقدیر”بدلی نہ بدلے گی کیونکہ اس کیلئے وفاق سے صوبوں تک ارباب اقتدارواختیار کوزندہ ضمیر،تاثیر اور تدبیر کی ضرورت ہے ۔

اب بھی وقت ہے موثرریاستی نظام اورسیاسی ومعاشی استحکام کیلئے حکمران طبقہ فوری طورپر” تکبر ”کے بے لگام گھوڑے سے اتر کر”تدبر ”کادامن تھام لے جبکہ چھچھوروں اورسیاسی بونوں کی بجائے داناﺅں کو اپنامشیربنائے جوانہیں مفیدمشورے دیں۔

جمہوری نظام کے علمبرداروں نے مشیر کے مفہوم اور منصب کومذاق بنا دیا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں ان افراد کومشیر بنایاجاتا ہے جوخوشامد کرنے میں پی ایچ ڈی ہوں۔

ایک طرف حکمرانوں کا کہنا ہے بیوروکریسی سے وابستہ لوگ خودکام کر تے ہیں اورنہ ہمیں کوئی کام کرنے دیتے ہیں جبکہ حقیقت میں کسی آفیسرکواعتماد اوراطمینان کے ساتھ ڈیلیورنہیں کرنے دیاجارہا۔قائدؒ کے فرمان ،”کام ،کام اورکام”کامفہوم عہدحاضر کے حکمرانوں نے کچھ اس طرح سمجھا ہے،”آرام،آرام اورآرام” اورکچھ کے نزدیک یہ” دام ،دام اوردام”یعنی ہر کام ہوگالیکن ہرکام کااپنااپنا ”دام” ہوگا۔

حکمرانوں کی کسی بات میں” دم” نہیں لیکن وہ دونوں ہاتھوں سے ”دام ”وصول کررہے ہیں ۔آپ اورمیں منتخب ایوانوں میں ان بیسیوں ارکان کواچھی طرح جانتے ہیں جو ا پنے اپنے حلقہ انتخاب سے مسلسل آٹھ نویادس بار منتخب ہورہے ہیں اورزندگی بھر ہوتے رہیں گے اوراب صرف موت انہیں سیاست سے ریٹائرڈ کرسکتی ہے جبکہ سرکاری ادارو ں میں بیٹھے آفیسرز کیلئے حکمرانوں اورسیاستدانوں کے میرٹ اورضابطے بہت مختلف ہیں ۔

ایک آفیسرکو ابھی اپنے آفس سٹاف کے نام تک یاد نہیں ہوتے تو اسے ٹرانسفر کاپروانہ تھمادیاجاتا ہے۔پنجاب کے ناتجربہ کارمنتظم اعلیٰ کے ساتھ کوئی اہلیت اورقابلیت کاحامل آفیسر زیادہ دیراوردورتک نہیں چل سکتا۔

پنجاب میں امن وامان کی صورتحال میں بہتری اورمہنگائی میں کمی آفیسرز کے دھڑادھڑ تبادلے کرنے سے نہیں بلکہ عثمان بزدار کی تبدیلی اورکسی مستعدومضبوط وزیراعلیٰ کے انتخاب سے آئے گی ۔پنجاب میں سردارعثمان بزدار کاتجربہ بری طرح” ناکام” بلکہ حکمران جماعت کے ”بدنام” ہونے کے باوجودوزیراعظم عمران خان” بزدار” کی بجائے اپنے کسی ”بردبار”اورتجربہ کارٹیم ممبرکو تخت لاہور پر بٹھانے کیلئے تیارنہیں کیونکہ اس طرح انہیںوزیراعلیٰ آفس کے اختیارات سے محروم ہوناپڑے گا۔

شروع دن سے عثمان بزدار کے “پلے” کچھ نہیں ہے کیونکہ سیاسی طورپر چوکا ،چھکا لگانے کے شوقین کپتان اختیارات کے “بلے”کسی دوسرے کودینے کیلئے تیارنہیں ہیں۔بزدارکوبرقراررکھنا کپتان کی ضرورت نہیں سہولت بلکہ ضد ہے اوراس ایشوپرحکمران جماعت کے اندر بددلی سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ میں حیران ہوں پنجاب کی وزرات اعلیٰ کیلئے سراپااخلاص وایثار میاں اسلم اقبال ساموزوں ترین،بہترین ،جہاندیدہ اورسنجیدہ ٹیم ممبر اپنے کپتان کی نگاہوں سے کیوں اوجھل ہے۔

میاں اسلم اقبال کے وزیراعلیٰ منتخب ہونے سے جہاں صوبائی سطح پر گڈگورننس کادورشروع ہوگاوہاں پی ٹی آئی لاہورسمیت پنجاب بھر میں طاقتورہوگی ۔میاں اسلم اقبال کی صورت میں تخت لاہورپر ایک موثر،بااثراورانتھک عوامی وزیراعلیٰ کے براجمان ہونے سے مرکز میں عمران خان کے اقتدارکودوام اوراستحکام ملے گا۔

” تخت لاہور”جوپچھلے دوبرس سے وزیراعظم کے ہاتھوں” تختہ مشق” بناہوا ہے،عمران خان وزیراعظم ہیں مگر انہوں نے جان بوجھ کر خود کوپنجاب کی سیاست میں الجھایاہوا ہے۔پنجاب میںچارچیف سیکرٹری اورچارآئی جی پولیس تبدیل کرنے کے بعد وزیراعظم عمران خان کی طرف سے گذشتہ روز لاہورمیں حسب عادت بیوروکریسی اورپنجاب پولیس میں بڑے پیمانے پراکھاڑ پچھاڑ کی گئی ہے۔پاکستان میں تبدیلی کے داعی کپتان یہ ”تبادلے” اسلام آباد میں بیٹھ کربھی کرسکتے تھے مگراس کیلئے انہیں خصوصی طورپرلاہورآناپڑا ورنہ عوام اورسرکاری حکام کوکس طرح معلوم ہوتا اختیارات کس کے پاس ہیں۔تبدیلی سرکار بلکہ” تبادلے سرکار” نے سی سی پی اولاہور سمیت 3آرپی اواور20ڈی پی اوتبدیل کردیے ہیں۔

پنجاب پولیس کے باصلاحیت اورپروفیشنل ڈی آئی جی طارق عباس قریشی ساہیوال ڈویژن کیلئے موزوں آفیسر ہیں،انہیں اب تک جہاں بھی تعینات کیا گیاانہوں نے وہاں ڈیلیورکیاہے۔

سابقہ سی سی پی اولاہور ذوالفقارحمید کی تبدیلی کے پیچھے ان کی اناپرستی کا بھی بہت دخل ہے،وہ دوسروں کوعزت دینے سے ڈرتے ہیں،کاش انہوں نے اپنے پاس آنیوالے شہریوں اوراہلکاروں کوعزت دی ہوتی۔ موصوف نے 29نومبر2019ءکو بحیثیت سی سی پی اولاہوراپنے منصب کاچارج لیا تھا جبکہ 2ستمبر2020ءکوانہیں اچانک ہٹاتے ہوئے ان کے ہم منصب ڈی آئی جی عمرشیخ کوسی سی پی اولاہورتعینات کر دیا گیا جوسردارعثمان بزدار کے رواں دوراقتدارمیں آرپی اوڈی جی خان رہے ہیں۔

ڈی جی خان میں عثمان بزدار سے عمرشیخ کا”واسطہ” لاہورمیں اہم ترین منصب کیلئے آسان ”راستہ” بن گیا۔اگرحکمران طبقہ چاہتا ہے ہمارا ملک ٹیک آف کرے توپھرتعلقات کی بجائے ا ہلیت اورقابلیت کومعیار بناناہوگا۔اگر محض حکمرانوں کے ساتھ” واسطے” کی بنیادپر حکام کیلئے” راستے” ہموارہوتے رہے توپھر ہماراملک قیامت تک ”راہ راست “پرنہیں آئے گا۔

تبدیلی سرکار نے جس شدت کے ساتھ میرٹ کی دھجیاں بکھیری ہیں ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔مجھے تعجب ہے دوسروں کیلئے دن رات میرٹ کی گردان کرنیوالے آفیسر جب خود کسی منصب کے میرٹ پرپورانہیں اترتے تووہ چارج کیلئے کیوںدوڑے چلے آتے ہیں ،انکار کیوں نہیں کرتے ۔

ذوالفقارحمید اورعمرشیخ دونوں نے ڈی آئی جی ہوتے ہوئے سی سی پی اولاہور کامنصب کیوں قبول کیاجس کیلئے ایڈیشنل آئی جی ہوناضروری ہے ۔عمرشیخ کی سی سی پی اولاہور کی حیثیت سے تقرری سے ایک روزقبل ان کے حوالے سے ایک ”سپانسرڈ” ویڈیومیں ان کی شان میں ہوشربا قصیدہ خوانی کی گئی تھی ،اُس پراسرارویڈیومیں انہیں صرف” بانی پاکستان ”کہنا باقی رہ گیاتھا۔

وزیراعلیٰ پنجاب اورآئی جی پنجاب وضاحت کریں کیا پنجاب پولیس میں ایڈیشنل آئی جی آفیسرز کاکال پڑگیا ہے ۔بزدار حکومت نے اپنے شروع دنوں میں خیبرپختونخوا کے نیک نام اوروہاںڈیلیورکرنیوالے آئی جی محمدطاہرکو تھانہ کلچر کی تبدیلی کاٹاسک دیتے ہوئے پنجاب پولیس کاکمانڈر مقرر کیا تھالیکن محض ایک ماہ بعد ان کے گریڈ میں کمی کوجوازبناتے ہوئے انہیں ٹرانسفر کردیا گیا ،پھراس کے بعد پنجاب میں” انتظامی “نہیں بلکہ” انتقامی” بنیادوں پر تبا دلوں کا سیلاب اہل پنجاب کیلئے عذاب بن گیا ۔اگرایک گریڈ کی کمی کے سبب ”تبادلے سرکار” کیلئے محمدطاہرکوآئی جی کے منصب پربرقراررکھنا دشوار تھا توپھرانہیں لگایا کیوں تھااوراب دوسری بار کس قانون کے تحت ایک ڈی آئی جی کو ایڈیشنل آئی جی کی سیٹ پر سی سی پی اولاہورتعینات کیا گیاہے۔

کیپٹن (ر)محمدامین وینس اوربی اے ناصر دونوں نہایت زیرک ، پروفیشنل اورایڈیشنل آئی جی تھے ، وہ دونوں اب اس منصب پر نہیں ہیں لیکن آج بھی ان کاکام بولتا ہے۔ملک میںقانون کی دھجیاں بکھیرنے اورانصاف کی فراوانی کاوعدہ وفانہ کرنیوالی حکمران جماعت کانام ”تحریک انصاف” نہیں ہوناچاہئے ۔

کپتان عمران خان تو اپنی اے ٹی ایم برانڈ ”دھرناتحریک ”کے زور پر اقتدارمیں آگئے لیکن پاکستان کاعام آدمی آج بھی اپنے حقوق اور” انصاف ”سے محروم جبکہ پنجاب میں ہرطرف کرپشن کی دھوم ہے ۔

محمد ناصراقبال خان سینئر کالم نگار ہیں اور وہ گذشتہ کئی سالوں سے مختلف اخبارات میں کالم لکھ رہے ہیں.

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

این اے 249: ضمنی الیکشن کا میدان پیپلز پارٹی نے مار لیا

این اے 249: ضمنی الیکشن کا میدان پیپلز پارٹی نے مار لیا غیر حتمی نتائج …

Skip to toolbar