Home / بلاگ / سگریٹ نوشی مضر صحت ہے

سگریٹ نوشی مضر صحت ہے

سگریٹ نوشی مضر صحت ہے

مظفر جنگ

وسیم اکرم سے کسی نے پوچھا آپ کی فٹنس کا کیا راز ہے؟ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میں سگریٹ نہیں پیتا ۔ قدکاٹھ اور جسامت میں کے لحاظ سے” پپو ڈھولکیا“ کی بھی صحت قابل رشک ہے۔ کسی نے پوچھا آپ کی صحت کا کیا راز ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں خالی سگریٹ نہیں پیتا۔دام زلف میں پھنسا کر کسی شاعر کی شاعری اپنے نام سے چھپوانا بیشک جائز ہو لیکن سگریٹ نوشی کو ”نوشی گیلانی“ بھی اچھا نہیں سمجھتی ۔ حالانکہ ہمارے شعراءجب تک ”امرت رس“ پینے کے بعد ایک ڈیڑھ پیکٹ سگریٹ نہ پی لیں انہیں شاعرانہ الہام نہیں ہوتا۔ ہم نے ایک منحنی سی صورت اور مجنوں سی سیرت والے ایک شاعر سے ان کی عشق کی ناکامیوں اور شاعری میں ”کامرانیوں“ کے بارے میں پوچھا تو موصوف نے فی البدہیہ ایک شعر جڑ دیا
بنیاد ڈالتے ہیں ہم حکمت کے باغ کی
وسکی سے ہو رہی ہے صفائی دماغ کی
شعر سن کر ہماری بے ساختہ ہنسی نکل گئی اور ہم نے اسے سر سے لے کر پاو¾ں تک اور انکی غزل کے مطلع سے مقطع تک سب جانچ لیا سوائے ان کے گھونسلے نما سر کے بالوں اور کھچڑی نما ڈاڑھی کے ہمیں کہیں بھی ”حکمت کا باغ“ نظر نہیں آیا۔
ہم نے انہیں عاجزی سے مشورہ دیا کہ آپ کے دماغ کو صفائی کے لیے وسکی کی نہیں بلکہ سر دھونے کے لیے شیمپو کی ضرورت ہے تاکہ آپ کے دماغ کی خشکی دور ہو سکے۔ انہوں نے جھٹ سگریٹ کے دھوئیں کا مرغولہ ہمارے منہ پر چھوڑتے ہوئے کہا ” جتنی نامعقول تمہاری شکل ہے اتنی ہی واہیات تمہارا مشور ہ ہے©©“۔ تم شاعر فطرت کو فطرت کشی پر اکسا رہے ہو۔ ہم اپنی جیب سے کھانا اور نہانا گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں۔ ہمارا ایک دوسرا شاعر دوست جو اکثر ان ڈیروں پر پایا جاتا ہے جہاںبھنگ اور سگریٹ مفت میں ملیں۔وہ چرس سے بھری ہوئی سگریٹ کو فرشتوں کی راکھ کہتا تھا۔ وہ جنت میں جانے سے بھی اس لیے انکاری تھا کہ وہاں حوروشراب کو میسر ہوں گے لیکن سگریٹ نہیں ملے گی ۔
شاعروں کے بعد سگریٹ نوشی عاشقوں کا محبوب ترین مشغلہ ہے۔عشق میں مبتلا ہونے کے بعد سگریٹ نوشی میں مبتلا ہونامحبت کا پہلا قرینہ خیال کیا جاتا ہے۔ عاشق کے لیے گھر سے نکلنے کے بعد ہر رستہ محبوب کی گلی میں جاتا ہے۔ہوا میں سگریٹ کے دھویں سے آلودگی پھیلاتے اور مراتب علی کی دکھی غزل گنگناتے جب وہ اپنے محبوب کی گلی میں پہنچتے ہیں تو ان کا سب سے پہلے خیر مقدم محبوب کی گلی کا کتا کرتا ہے۔اگر محبوب کا کوئی چھوٹا بھائی نہیں تو یہ کتے سے ہی دوستی گاڑھ لیتے ہیں۔ کتے کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے قصائی سے منت سماجت کے بعد حاصل کئے چھچھڑوں سے اسکی تواضع کرتے ہوئے حسرت بھری نظروں سے محبوب کے گھر کی طرف دیکھ کر ٹھنڈی آہیں بھرتے ہیں اوراچانک گلی کی نکڑ میں دودھ دہی کی دوکان پر لگے ڈیک سے اونچی آواز میں لالہ عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کے یہ بول ماحول کا سینہ چیڑتے سنائی دیتے ہیں
ادھر زندگی کا جنازہ اٹھے گا ادھر زندگی ان کی دلہن بنے گئی
قیامت سے پہلے قیامت ہے یارب میرے سامنے میری دنیا لٹے گئی
پہلے وقتوں میں لڑکیاں محبوبہ کا کردار کم اور ماں کا کردار زیادہ نبھاتی تھیں۔ ا ن کی صرف ایک ہی فرمائش ہوتی تھی کہ سگریٹ چھوڑ دو یا پھر مجھے چھوڑ دو۔لیکن آج کل صورتحال مختلف ہے۔آج وہ خود کہہ رہی ہوتی ہیں کہ آتے ہوئے میرے پسند والے برانڈ کی سگریٹ لیتے آنا۔
سگریٹ سے ہمارا تعلق بھی بہت پرانا ہے اور سگریٹ کے دھویں سے دل بنانا بہترین مشغلہ ہے۔جب ہوا میں دھویں کے بگولے بیباکی سے رقصاں نظر آتے ہیں تو ہمیں نرگس و دیدار ا مست الست رقص بھی بھول جاتا ہے۔
ہمارے ایک دوست نے پوچھا تم لائٹ سگریٹ کیوں پیتے ہو ؟ ہم نے معصومیت سے کہا یہ سگریٹ پینے والے پر منحصر ہے کہ وہ ایک سو بیس کی رفتار سے دوڑتی گاڑی کو دیوار سے ٹکرانا چاہتا ہے یا پھر ستر کی رفتار سے۔ آخر میں ہونی تو ٹکر ہے بس ذرا یہ تسلی ہوتی ہے کہ ستر کی رفتار سے ٹکراتے ہوئے چوٹیں کم لگتی ہیں۔
ہمارا یہ مشاہدہ رہا ہے کہ انسان ہر چیز چھوڑ سکتا ہے لیکن سگریٹ پینا اور جھوٹ بولنا نہیں چھوڑتا۔آپ جب بھی سگریٹ پینے والے سے پوچھیں گے کہ آپ سگریٹ پینا کیوں نہیں چھوڑ دیتے تو وہ آگے سے فلسفیانہ منہ بنا کر سگریٹ کا دھواں چھوڑتے ہوئے کہے گا ©”چھٹتی نہیں یہ منہ سے کافر لگی ہوئی“ کچھ لوگوں کو دھواں اور بڑی بڑی چھوڑنے کی عادت ہوتی ہے۔ ایسے میں کسی نے مشہور مزاح نگار مارک ٹوئین نے پوچھا آپ سگریٹ پینا کیوں نہیں چھوڑ دیتے تو انہوں نے اپنے مخصوص لہجے میں کہا ”میرے نزدیک تو دنیا کا آسان ترین کام سگریٹ چھوڑنا ہے اورمیں یہ میں یہ کام ہزار بار کر چکا ہوں۔ اس آدمی نے پوچھا جو سگریٹ پیتے ہیں آپ انہیں کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ مارک ٹوئین نے کہا جو بھی کام کریں انہیں مروجہ اصولوں کے مطابق کریں” جیسے میں سونے کے بعد اور اٹھنے سے پہلے کبھی سگریٹ نہیں پیتا۔
کرونا وائرس کی وبا میں عالمی ادارہ صحت نے تنبیہ کی ہے کہ سگریٹ پینے والی ڈیڑھ ارب آبادی کرونا وائرس کا بڑی آسانی سے شکار ہو سکتی ہے۔یہی سوچ کر میں نے ایک نانبائی سے کہا کہ کرونا وائرس سے بچنا ہے تو سگریٹ نوشی ترق کر دو۔ آگے سے اس نے روائتی پاکستانی لہجے میں کہا۔ پائن، تسی ٹینشن نہ لو۔ سانوں پکی رپورٹ اے کہ چرس والے سگریٹ پینے سے کرونا گلے ہی میں کر جاتا ہے۔ میں اس کی لوجیک سن کر ایک لمحے کے لیے ٹھٹک گیا۔ مجھے کچھ اور سمجھ نہ آئی تو میں نے کہا وہ تو ٹھیک ہے لیکن ہاتھ میں لگا کرونا وائرس تو نہیں مرے گا۔میری بات سن کر وہ زور زور سے ہنسنے لگا اور بولا صاحب جی تسی پڑھے لکھے لوگ وی عقل توں پیدل ہوندے نے۔ تسی آپ ہی دسو، تندور وچ جنی تیز اگ اے جدھوں میں نان لان لی ایتھے ہاتھ واڑنا اے اتھے کرونا دا کی بچنا اے۔ ا س کی بات سن کر مجھے بھی یقین ہو گیا کہ دنیا میں دو طرح کے لوگ کرونا سے محفوظ ہیں ایک چرسی اور دوسرا نانبائی۔
لاہور میں ایک سروے کے مطابق سب سے زیادہ سگریٹ نوشی کا رحجان میڈیکل کالجز کے ہوٹلوں میں سال اول کے طالب علموں میں پایا جاتا ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق پاکستان میں گزشتہ سالوں کی نسبت سگریٹ نوشی میں تقریباً دس سے پندرہ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور یہ کمی صرف شادی شدہ لوگوں میں دیکھی گئی ہے جن کے لیے بچوں کی فیس ادا کرنا، ٹماٹر اور پیاز خریدنے مشکل ہو گیا ہے اور اتنی مہنگائی میں سگریٹ نوشی جیسی عیاشی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

مظفر علی جنگ ایک سینئر صحافی، مورخ اور تجزیہ نگار ہیں. وہ عرصہ بیس سال سے اردو اور انگریزی اخبارات اور رسائل کے لیے لکھ رہے ہیں. ان سے اس ای میل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے
muzaffar56@gmail.com

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

نیہا ککڑ اور روہن پریت سنگھ کی لو اسٹوری سوشل میڈیا میں ہوئی وائرل

نیہا ککڑ اور روہن پریت سنگھ کی لو اسٹوری سوشل میڈیا میں ہوئی وائرل ممبئی: …

Skip to toolbar