Home / بلاگ / زمانہ جدید کا نمرود اور اولاد ابرہیم

زمانہ جدید کا نمرود اور اولاد ابرہیم

زمانہ جدید کا نمرود اور اولاد ابرہیم

مظفر جنگ

اقبال نے خیروشر کی ابدی کشمکش کو مختلف استعاروں میں پیش کیا ہے۔کبھی برائی کو شرار بولہبی سے تشبیہ دی ہے اور کبھی نمرود کی جلائی آگ سے۔ اچھائی اور برائی کی جنگ اس دنیا میں انسان کی آنکھ کھولنے سے شروع ہے اور تاقیامت جاری رہے گی۔ اقبال نے ایک جگہ کہا تھاکہ
آگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے

اگر دیکھا جائے توابراہیم کے زمانے کا نمرود محدود دائرے میں صرف اپنے لوگوں پر ظلم کرتا تھا لیکن وہ بھی حضرت ابراہیم ؑ سے برداشت نہ ہوا۔ انہوں نے آگ کو ٹھنڈا کیا اور نمرود کی نمردویت کا بھی خاتمہ کر دہا۔

اب موجودہ حالات میں امریکہ کو دیکھیں۔ آج اس نمرود کے علاقے اور طاقت کو دیکھیں۔ اس نے جمہوری قبا پہن رکھی ہے جب چاہتا ہے وہ جاپان پر بم برساتا ہے تا کہ آنے والی نسلیں نارمل پیدا نہ ہوں۔وہ ویت نام پر حملہ کرتا ہے کہ لوگ برسوں اس المیے سے نہ نکل سکیں۔ وہاں کی عورتوں کی عصمت دری ہی نہیں بلکہ ان کو جسم فروشی پر بھی مجبور کرتا ہے۔اور اقوام متحدہ میں جب بھی انسانی حقوق کی بات اٹھائی جاتی ہے تو اسے اپنے ویٹو کے بوٹوں تلے کچل دیتا ہے ۔ اسرائیل سے کہتا ہے کہ فلسطینی عوام کے جمہوری حقوق کچل دو۔ فیڈل کاسٹرو کو چین سے نہ بیٹھنے دو ۔ ملا عمر اور اسامہ بن لادن کو لیڈر بنا کر طالبان کی فوج کھڑی کرو اور ملک کو سوویت یونین سے سے آزاد کرانے کے نام پر پاکستان اور ایران اور دیگر ایشیائی ممالک میں انتشار برپا کردو ۔
اور کبھی عراق سے کہو کہ ایران پر حملہ کرو اور دونوں سے ہمدردی کا اظہار کرو ۔آگ تھوڑی ٹھنڈی پڑے تو عراق سے کہو کہ کویت تمہارا ہے حملہ کرو اور لے لو ۔ پھر کویت کی طرف سے فوج بھیج کر عراق کی عوام کو اپنے بوٹوں تلے روند ڈالو ۔
اگر لاکھوں بچے اور بیمار بغیر دودھ اور دواں کے ہسپتالوں میں دم توڑ دیں کوئی بات نہیں۔ تیل کے کنواں پر تو اپنا قبضہ پکا کرو ۔ پھر اگر اپنے ہی مہرے سر اٹھانے لگیں تو انہیں بھی کچل دو ۔ چاہے انہیں کچلنے کی جدوجہد میں سب کو تباہی کی آگ میں جلنا پڑے اور وہاں کی وادیوں کو بموں کی بارش کر کے چٹیل میدان میں تبدیل کرنا پڑے ۔
لیکن اولاد ابراہیم کیا کر رہی ہے ؟
سب سے بڑی اسلامی ریاست کا دعوی کرنے والے سعودی حکمران تو آج اس نمرود کی ایک آواز پر پر ان کے جوتوں پر اپنی پگڑی رکھنے کو تیار ہیں ہیں پاکستانی حکمران اپنی آقا کے حکم کی خلاف ورزی کی بات خواب و خیال میں بھی نہیں لا سکتے ۔
امریکہ کی مرضی کے بغیر یہاں ایک پتہ تک نہیں ہلتا۔ ہم ان کے ایک اشارے پر اپنے بینک، اپنی فیکٹریاں اور اپنے قدرتی وسائل سب کچھ بیچنے کو تیار ہیں۔ آج امریکہ کے خلاف آواز اٹھانے کا مطلب دہشتگردی کے مترادف ہے
ہمارے اندر باطل سے ٹکرانے کا حوصلہ ختم ہو چکا ہے۔ ہماری جدوجہد کا مرکز ذاتی مفادات اورطاقتور کے آگے سر جھکانے تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ ہماری اسی بے حسی پر حبیب جالب نے کہا تھا کہ
کہاں تک دوستوں کی بے دلی کا ہم ماتم کریں
چلو اس بار بھی ہم ہی سر مقتل نکلتے ہیں
اور پھرکہیں احمد فراز کی آواز بے چین کرتی ہے
میرے ضمیر نے قابیل کو نہیں بخشا
میں کیسے صلح کروں قتل کرنے والوں سے
کہنے کو تو فیض احمد فیض لطیف احساسات اور دھیمے لہجے کا شاعر ہے لیکن کبھی کبھار تو وہ بہت سخت لہجہ اختیار کر لیتا ہے ۔فیض کے بقول:
بول یہ تھوڑا وقت بہت ہے
جسم و زباں کی موت سے پہلے
بول کے سچ زندہ ہے

مظفر علی جنگ ایک سینئر صحافی، مورخ اور تجزیہ نگار ہیں. وہ عرصہ بیس سال سے اردو اور انگریزی اخبارات اور رسائل کے لیے لکھ رہے ہیں. ان سے اس ای میل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے
muzaffar56@gmail.com

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

نیہا ککڑ اور روہن پریت سنگھ کی لو اسٹوری سوشل میڈیا میں ہوئی وائرل

نیہا ککڑ اور روہن پریت سنگھ کی لو اسٹوری سوشل میڈیا میں ہوئی وائرل ممبئی: …

Skip to toolbar