Breaking News
Home / انٹر نیشنل / افغانستان کے شہر جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کے باہربھگڈر سے 15 افغانی ہلاک.

افغانستان کے شہر جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کے باہربھگڈر سے 15 افغانی ہلاک.

قونصلیٹ حکام سے ٹوکن کے حصول کے لیے ایک دوسرے کو دھکے دے رہے تھے اور ہجوم قابو سے باہر ہوگیا تھا جو بھگڈر کا باعث بنا۔

کابل ( ڈیلی پاکستان آن لائن) افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کے باہر ویزا کے حصول کے لیے آنے والے ہزاروں افراد کے مجمع میں بھگڈر سے 15 افراد ہلاک ہوگئے۔ قونصلیٹ کے باہر کھلے میدان میں 3 ہزار افراد جمع تھے جو ویزا درخواست کے لئے ٹوکن ملنے کا انتظار کررہے تھے.

حکام کا کہنا تھا کہ پاکستان قونصل خانے کے باہر ویزا ایپلیکیشن جمع کرانے کے لیے آئے ہزاروں افغان شہریوں کے ہجوم میں دھکم پیل کے دوران بھگدڑ کے باعث 15 افراد ہلاک ہوئے۔افغان نیوز چینل کی جانب سے تصاویر جاری کی گئیں جس میں پاسپورٹ پر اسٹیمپ لگوانے کے لیے آئے ہوئے ہزاروں افراد کو پاسپورٹ ہاتھوں میں پکڑے دیکھا گیا جبکہ بھگدڑ کے بعد لی گئی تصاویر میں پاسپورٹ زمین پر بکھرے ہوئے تھے۔

ایک عینی شاہد کے مطابق کہ وہ پوری رات قطار میں کھڑا رہا لیکن کچھ مواقع پر لوگ غصہ ہوئے اور دھکم پیل شروع ہوگئی جس کی وجہ سے ہم میں سے متعدد زمین پر گر گئے’۔ دوسری جانب جلال آباد میں صوبائی کونسل کے رکن سہراب قادری کا کہنا تھا کہ واقعے میں 15 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 11 خواتین شامل تھیں جبکہ کئی بزرگ شہری زخمی بھی ہوئے تھے۔ ادھر جلال آباد میں موجود ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ ویزا درخواست گزار قونصلیٹ حکام سے ٹوکن کے حصول کے لیے ایک دوسرے کو دھکے دے رہے تھے اور ہجوم قابو سے باہر ہوگیا تھا جو بھگڈر کا باعث بنا۔

خیال رہے کہ تعلیم، علاج اور روزگار کے لیے ہزاروں کی تعداد میں افغان باشندے ہر سال اپنے پڑوسی ملک پاکستان کی طرف سفر کرتے ہیں جبکہ دونوں ممالک تقریباً 2 ہزار 6 سو کلومیٹر طویل سرحد شیئر کرتے ہیں۔ پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ افغان مہاجرین اور کاروبار کے لیے آئے تارکین وطن موجود ہیں، جو اپنے جنگ سے متاثرہ ملک میں تشدد، قتل و غارت اور غربت کی وجہ سے نقل مکانی کرگئے تھے۔

افغانستان میں پاکستان کے سفیر منصور احمد خان کا کہنا تھا کہ وہ رپورٹ ہونے والی اموات پر ‘انتہائی غمزدہ’ ہیں۔ پاکستانی سفیر نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ ‘ہمیں متاثرین کے خاندانوں کے ساتھ ہمدردی ہے، ہم ویزا درخواست گزاروں کو بہتر سہولت فراہم کرنے کے لیے افغان حکام سے رابطے میں ہیں، ہم نئی ویزا پالیسی کے تحت افغان شہریوں کو ویزا جاری کرنے کا عزم برقرار رکھیں گے جبکہ ہم اپنی طرف سے اس عمل کو مزید ہموار بنا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس افغانستان کے شہر جلال آباد میں قائم پاکستانی قونصل خانے کے باہر دھماکا ہوا تھا جس میں ایک پولیس اہلکار سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے تھے جبکہ پاکستانی عملے کے تمام ارکان محفوظ رہے تھے، میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ دھماکا اس مقام پر ہوا جہاں لوگ ویزے کے حصول کے لیے قطار میں کھڑے تھے۔

اس سے قبل 30 اگست 2018 میں افغانستان میں پاکستانی سفارت خانے نے سیکیورٹی انتظامات پر مداخلت پر جلال آباد کا قونصل خانہ عارضی طور پر بند کردیا تھا، اس وقت کی جاری کردہ پاکستانی سفارتخانے کے اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ صوبہ ننگرہار کے گورنر حیات اللہ حیات کی جلال آباد کے قونصل خانے کے سیکیورٹی سمیت مختلف امور میں بے جا مداخلت افسوسناک اور 1963 کے ویانا کنونشن کی مکمل خلاف ورزی ہے۔

سفارت خانے کی جانب سے گورنر کی بے جا مداخلت کو روکنے کے لیے افغان وزارت خارجہ سے رابطہ کیا گیا اور قونصل خانے کی سیکیورٹی بحال کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا۔ بعد ازاں 08 اکتوبر 2018 کو افغان حکام کی جانب سے فول پروف سیکیورٹی کی یقین دہانی کے بعد پاکستان نے جلال آباد میں قائم اپنا سفارت خانہ کھول دیا تھا۔

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

شام کے 93 لاکھ شہریوں کو اس موسم سرما میں خوراک کی بڑھتی ہوئی کمی کا سامنا ہے،اقوام متحدہ

اقوام متحدہ۔ 29 نومبر (ڈیلی پاکستان آن لائن ): شام کے 93 لاکھ شہریوں کو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Skip to toolbar