• اکتوبر 6, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 6, 2026 10:18 شام
  • پاکستان

پولیس کی گرفتار افراد کو ٹیلر سوئفٹ کے گانے بار بار سنانے کی دھمکی

دریشم 3 نے بیٹے کو قاتل بنا دیا، 2000 کلومیٹر سفر طے کر کے باپ کو کیسے قتل کیا؟

ویڈیو: نوجوان نے بلندی سے گرنے والے بچے کو عین وقت پر بچا لیا

سی این جی بھروانے کے دوران کار میں زوردار دھماکا، فوٹیج جاری

اپنی آخری بیماری کے دوران فہمیدہ ریاض نے لکھنا پڑھنا بالکل چھوڑ دیا ہوا، ایسا ہرگز نہیں ہوا۔ وہ اسی طرح‌ لکھتی رہیں جیسے کوئی اپنے آپ سے باتیں کرتا رہتا ہو۔ لکھنا ان کے لیے خود کلامی کی ایک باضابطہ شکل تھا۔ اس دور میں انہوں نے نثر زیادہ لکھی اور شاعری برائے نام۔ اس کے باوجود یہ ایک نظم سامنے آگئی، جیسے انسان کے اس کائنات سے وابستہ و پیوستہ ہونے کا آخری عہد نامہ ہو۔

ان دنوں بیماری کی بڑھتی ہوئی کیفیت کے سبب فہمیدہ کا گھر سے نکلنا تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ گھر میں بھی وہ اپنے کمرے میں رہتی تھیں اور اس میں بھی زیادہ تر اس بستر پر جو کھڑکی کے ساتھ تھا۔ یہ کھڑکی باہر سڑک کی طرف کھلتی تھی، رواں دواں شہر کا شور سنائی دیتا۔ فہمیدہ اپنے بستر پر سوتی جاگتی سوچتی کچھ پڑھتی اور پھر کاغذوں پر کچھ نہ کچھ درج کرتی رہتی تھیں۔ یہ سب چیزیں ان کے سرہانے موجود رہتیں۔زندگی گزارنے کے لیے باقی ماندہ اسباب!

آپ یہاں اکیلی لیٹی رہتی ہیں! ان کے کئی دوستوں نے ان سے کہا اور کچھ اس قسم کی بات میں نے بھی کی۔ جب دیکھا کہ بعض دنوں میں ان کی طبیعت بہتر ہوتی ہے۔ دفتر جانا زبردستی چھوٹ گیا تھا اور فہمیدہ کا خیال تھا کہ اگر وہ با قاعدہ تیار ہوکر گھر سے نکلیں اور اپنے پرانے معمول کے مطابق لکھنے پڑھنے کا کام کریں تو وہ اپنے آپ کو صحت یاب ہوتے محسوس کر سکیں گی لیکن اندر ہی اندر ان کو اصل حقیقت کا احساس بھی تھا۔ ایسے ہی تقاضوں کا جواب انہوں نے اس نظم میں دے دیا اور دوستوں کو بتا دیا کہ کوئی انہیں اکیلا نہ سمجھے۔ چاند کے ہوتے ہوئے اور دنیا کی آوازیں سنتے ہوئے وہ بھلا اکیلی کیسے ہو سکتی ہیں؟

سبز رنگ کے ایک رجسٹر میں دوستوئیفسکی کے بارے میں اپنے نوٹس لکھتی جارہی تھیں جس کی کتاب انہوں نے بڑے جوش سے پڑھنا شروع کر دی تھی۔ اس کتاب کو دوبارہ پورا کر کے دم لیا۔ اس رجسٹر کے دوسرے صفحے پر انہوں نے بیماری کی تحریر کا عنوان قائم کر کے لکھنا شروع کیا۔

اس تحریر کا بڑا حصہ مکمل ہو چکا تھا اور ان کے زیر ہدایت دنیا زاد میں شائع ہوا۔ یہ رجسٹر ان کے ساتھ چلتا رہا۔ آگ کا دریا، کیشو ورما کی کتاب اور ایک جاپانی ناول کے بارے میں نوٹس اس کے آگے لکھے گئے۔ ان پر تاریخ درج نہیں ہے۔ اس کے بعد متفرق تحریریں ہیں… جن میں روزنامچہ کے انداز کے اندراج بھی ہیں اور ایک کہانی بھی۔ ان ہی کے درمیان، یہ افسانہ لکھنے کے فوراً بعد اسی صفحے کے وسط میں نظم درج ہے "کھڑکی میں‌ چاند” اور اس کے آگے لکھا ہے۔

اس کے بعد یہ نظم اسی طرح درج ہے۔ مگر اس میں ترمیم بھی ہوئی ہے۔ چوتھا مصرع تب مجھے دکھائی دیتا ہے کے بجائے تب مجھے دکھائی پڑتا ہے اور پانچویں مصرعے کو کھڑکی میں‌ چاند جھلکتا ہے کے بجائے کھڑکی میں چاند چمکتا ہے کر دیا گیا ہے۔ ایک مصرع کاٹ دیا گیا ہے۔ آخر میں "میں نہیں اکیلی دنیا میں” کے بعد یہ سطریں ہیں جو لکھ کر کاٹ دی گئی ہیں:

اور اب تو ایسے عالم میں عیسیٰ مجھ کو یاد آتا ہے ننھا جو نواسا ہے میرا دل خوشی سے جھوم کے گاتا ہے

یہ آخری سطریں نظم کی آخری شکل میں موجود نہیں ہیں جو انہوں نے اپنی بہن نجمہ کے کہنے پر لکھ لی تھیں اور پھر اسی طرح اپنی دوست نائلہ محمود کو سنائی جنہوں نے اسے ٹیلی فون پر ریکارڈ کرلیا۔ یہ ان کے لاہور جانے سے چند دن پہلے کی بات ہے۔ یہ ریکارڈنگ نائلہ محمود نے کئی دوستوں کو ارسال کی اور آغا خان یونیورسٹی میں منعقدہ تعزیتی اجلاس کے خاتمے پر میں نے وہاں سنوائی۔ اس ریکارڈنگ کا ذکر اس لیے تفصیل سے کر رہا ہوں کہ یہ فہمیدہ کی اپنی آواز میں ہے۔ نظم کے بعد اس مخصوص ہنسی کا تھوڑا سا حصہ بھی ریکارڈنگ میں آگیا ہے جس نے مرتے دم تک فہمیدہ کا ساتھ نہ چھوڑا۔

(ترقی پسند خیالات کی حامل ادیب، شاعر، حقوقِ نسواں کی علم بردار اور سماجی کارکن فہمیدہ ریاض کی رحلت کے بعد سہ ماہی ادبی پرچے نیا ورق میں شایع ہونے والے آصف فرّخی کے مضمون سے اقتباس)

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے