• ستمبر 15, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 15, 2026 10:26 شام
  • پاکستان

اے آئی انسانوں کی موت کا سبب بن سکتی ہے، خوفناک انکشاف

اسمارٹ گلاسز : خواتین کی خفیہ ویڈیوز کیخلاف اہم اقدام

چلتی ٹرین کے ساتھ مسافر کے گھسٹنے کی لزرہ خیز ویڈیو

ڈاکٹروں کا انوکھا کارنامہ، مریض کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر پلاسٹر کے بجائے گتا باندھ دیا

جیسا کہ میں اپنی گزشتہ تحریر میں نمکو کے بے تاج بادشاہ ‘سموسے’ کے مستقبل اور اس کی سالمیت کو لاحق خطرات پر تفصیل سے روشنی ڈال چکا ہوں، تو چلیے آج بات کرتے ہیں سموسے کی ‘مشرقیت’ کو لاحق دشمن نمبر ایک یعنی "اسپرنگ رول” کی۔

یہ بھی پڑھیے:سلطنتِ نمکو کا واحد وارث "آلو والا سموسہ”

اسپرنگ رول دیکھنے میں تو مشرقی خواتین کی پسند کے تینوں عناصر (Tall, Dark & Handsome) کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، لیکن یہ چاہے جتنے بھی اجزائے ترکیبی بدل لے، آج بھی دستر خوان کو تنِ تنہا سنبھالنے سے قاصر ہی دکھائی دیتا ہے۔ اسپرنگ رول کو دسترخوان پر اپنی اہمیت قائم رکھنے کے لیے کچھ دوسرے نمکین و شیریں لوازمات مثلاً پیٹیز، وان ٹان، ماربل کیک اور پیسٹریز کی معیّت ہمیشہ درکار رہتی ہے۔ اس کے برعکس، سموسہ اگر دسترخوان پر تنہا بھی جلوہ افروز ہو تو ہر زاویے سے راج کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ سموسہ صرف ایک نمکو آئٹم نہیں، بلکہ ایک مکمل نظامِ حکومت ہے۔ اس کی موجودگی میں باقی تمام اشیائے خور و نوش محض اتحادی جماعتوں کا کردار ادا کرتی ہیں۔ پیٹیز لاکھ جدید سہی اور رول جتنا بھی اسمارٹ ہو جائے، مگر سموسے کے سامنے سب کی حیثیت کچھ ایسی ہی ہے جیسے کسی بڑے سیاسی جلسے میں آخری صف میں کھڑا کوئی خاموش کارکن!

اسپرنگ رول کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ اپنی شناخت کے لیے ‘سوس’ کا محتاج ہے، جب کہ سموسہ چٹنی کے ساتھ صرف تعلق رکھتا ہے، انحصار نہیں۔ چٹنی نہ بھی ہو تو سموسہ اپنی پوری عزتِ نفس کے ساتھ پلیٹ میں موجود رہتا ہے؛ البتہ چٹنی میسر ہو تو اس کی شخصیت میں وہ نکھار آتا ہے جسے جدید زبان میں "Completeness” کہا جا سکتا ہے۔ پھر سموسے کی ایک اور خوبی دیکھیے کہ اس نے کبھی اپنے نام کے ساتھ "Spring” یا کسی بھی موسم کا سہارا نہیں لیا۔ وہ گرمی میں بھی سموسہ ہے، سردی میں بھی سموسہ، برسات میں بھی سموسہ اور رمضان میں تو باقاعدہ ایک ‘قومی ضرورت’ کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ رول کبھی "اسپرنگ” کا لاحقہ لگا کر موسم کے نام کا سہارا لیتا ہے، کبھی "چائنیز” کہلا کر علاقے سے شناخت جوڑتا ہے، تو کبھی "کرمبز” (Crumbs) کے پیچھے چھپ کر وجود قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ دوسری طرف سموسہ کسی موسم یا علاقے کا محتاج نہیں؛ بلکہ موسم خود اس کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

اور اگر بات کی جائے شکل و صورت کی، تو اسپرنگ رول خواہ کتنا ہی سیدھا، لمبا اور نفیس کیوں نہ ہو، سموسے کی وہ سحر انگیز ‘تکون’ کہاں سے لائے گا؟ وہ تکون جو صدیوں سے ہماری پلیٹ، ہماری چائے اور ہماری شاموں کے درمیان ایک مضبوط جذباتی رشتہ قائم کیے ہوئے ہے۔

لہٰذا میری تحقیق، مشاہدے اور میرے ذائقے کی روشنی میں یہ بات بلا خوف و تردد کہی جا سکتی ہے کہ اسپرنگ رول سموسے کا حریف ضرور بن سکتا ہے، مگر متبادل ہرگز نہیں۔ وہ دسترخوان کے ایک کونے میں جگہ تو بنا سکتا ہے، سموسے کا ‘تخت’ نہیں چھین سکتا۔ فیصلہ محفوظ نہیں، بلکہ صادر ہو چکا ہے:

اسپرنگ رول جدید ضرور ہے، مگر سموسہ آج بھی بادشاہِ وقت ہے!

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے