• ستمبر 15, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 15, 2026 8:32 شام
  • پاکستان

اسمارٹ گلاسز : خواتین کی خفیہ ویڈیوز کیخلاف اہم اقدام

چلتی ٹرین کے ساتھ مسافر کے گھسٹنے کی لزرہ خیز ویڈیو

ڈاکٹروں کا انوکھا کارنامہ، مریض کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر پلاسٹر کے بجائے گتا باندھ دیا

نوجوان لڑکوں کو لوٹنے والی لٹیری دلہن فرضی رشتے داروں سمیت گرفتار، طریقہ واردات بھی سامنے آگیا

ستمبر۱۷۹۶ء میں ایک فرانسیسی، پروں، جو اپنی قسمت آزمانے ہندوستان آیا تھا، دولت راؤ سندھیا کی ’شاہی فوج‘ کا سپہ سالار بنا دیا گیا۔ اس حیثیت سے وہ ہندوستان کا گورنر بھی تھا۔ اس نے دہلی کا محاصرہ کرکے اسے فتح کر لیا اور اپنے ایک کمانڈر لے مارشاں کو شہر کا گورنر اور شالم عالم کا محافظ مقرر کیا۔ اس کے بعد اس نے آگرہ پر قبضہ کیا۔

اب شمالی ہندوستان میں اس کے مقابلے کا کوئی نہیں تھا اور اس کی حکومت ایک علاقے پر تھی جس کی سالانہ مال گذاری دس لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ تھی۔ وہ علی گڑھ کے قریب ایک محل میں شاہانہ شان وشوکت سے رہتا تھا۔ یہیں سے وہ راجاؤں اور نوابوں کے نام احکامات جاری کرتا اور بغیر کسی مداخلت کے چمبل سے ستلج تک اپنا حکم چلاتا تھا۔

۱۵ ستمبر ۱۸۰۳ء کو جنرل لیک، سندھیا کے ایک اور سردار بورگی میں کو شکست دے کر فاتحانہ انداز سے دہلی میں داخل ہوا۔ بورگی میں کا کچھ عرصہ تک شہر پر قبضہ رہ چکا تھا اور اس نے اسے انگریزوں کے لیے خالی کرنے سے پہلے بہت اہتمام سے لوٹا تھا۔ جنرل لیک شہنشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا، اسے بڑے بڑے خطاب دیے گئے اور شاہ عالم اور اس کے جانشین ایسٹ انڈیا کمپنی کے وظیفہ خوار ہو گئے۔

اٹھارہویں صدی کا دوسرا حصہ وہ زمانہ تھا جب یورپ سے سپاہی اور تاجرہندوستان میں اپنی قسمت آزمانے آئے اور انہوں نے خوب ہنگامے کیے۔ اس کے مقابلے میں وسط ایشیا سے موقع اور معاش کی تلاش میں آنے والوں کی تعداد کم تھی، مگر تھوڑے بہت آتے ہی رہے۔ انہیں میں سے ایک مرزا قوقان بیگ، محمد شاہی دور کے آخر میں سمر قند سے آئے اور لاہور میں معین الملک کے یہاں ملازم ہوئے۔ ان کے بارے میں ہمیں بہت کم معلوم ہوا ہے۔ ان کے دو لڑکے تھے، مرزا غالب کے والد عبد اللہ بیگ اور نصر اللہ بیگ۔ عبد اللہ بیگ کو سپہ گری کے پیشے میں کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی۔ پہلے وہ آصف الدولہ کی فوج میں ملازم تھے، پھر حیدر آباد میں اور پھر الور کے راجہ بختاور سنگھ کے یہاں۔ بیشتر وقت انہوں نے ’’خانہ داماد‘‘ کی حیثیت سے گزارا۔ ۱۸۰۲ء میں وہ ایک لڑائی میں کام آئے، جب غالب کی عمر پانچ سال کی تھی۔ ان کے سب سے قریبی عزیز، لوہارو کے نواب بھی ترکستان سے آئے ہوئے خاندان کے تھے اور ان کے جد اعلیٰ اسی زمانے میں ہندوستان آئے تھے جب کہ مرزاقوقان بیگ۔

ایسے حالات، جب کہ نظام زندگی کے قائم رہنے کا اعتبار نہ ہو اور نراج اور تشدد کا دور دورہ ہو، جب معلوم ہوتا ہو کہ سب کچھ چند جاں بازوں کے ہاتھ میں ہے، سماج پر اپنا اثر ڈالتے ہیں اور مستقل مایوسی کی فضا پیدا کر دیتے ہیں۔ ویسے بھی حساس طبیعتیں خوشی سے زیادہ درد اور غم کی طرف مائل رہتی ہیں۔ غالب کی زندگی کا پس منظر مغل سلطنت کا زوال، دیہاتی سرداروں کا ابھرنا اور اقتدار حاصل کرنے کے لیے ان کے مسلسل مقابلے ہیں۔ مگر انہیں کچھ خاص اہمیت نہیں دی جاسکتی۔

ہندوستان میں سیاسی زندگی کا دائرہ وسیع نہیں تھا، نمک حلالی کی قدر کی جاتی تھی لیکن سیاسی وفاداری کو عام طور پر ایک اخلاقی اصول نہیں مانا جاتا تھا۔ رعایا کے خیر خواہ حاکم امن اور اطمینان قائم رکھنے کی اپنے بس بھر کوشش کرتے تھے، مگر دیہاتی آبادی میں ایسے عناصر تھے جو موقع پاتے ہی رہزنی شروع کر دیتے۔ ہم اگراندازہ کرنا چاہیں کہ شمالی ہندوستان کی مشترک شہری تہذیب اور اس ادب پر جو اس تہذیب کا ترجمان تھا، کیا کیا اثرات پڑے تو ہم دیکھیں گے کہ اس کی تشکیل میں برطانوی تسلط سے پہلے کی بدنظمی سے زیادہ دخل ان عادتوں اور ان تصورات کو تھا جو صدیوں سے اس تہذیب کو ایک خاص شکل دے رہے تھے۔ اس مشترک شہری تہذیب کو شہری ہونے اور شہری رہنے کی ضد تھی۔ اس کے نزدیک شہر کی وہی حیثیت تھی جو صحرا میں نخلستان کی۔ شہر کی فصیل گویا تہذیب کو اس بربریت سے بچاتی تھی جو اسے چاروں طرف سے گھیرے ہوئے تھی۔ زندگی صرف شہر میں ممکن تھی، اور جتنا بڑا شہر اتنی ہی مکمل زندگی۔

یہ ہوسکتا تھا کہ عشق اور دیوانگی میں کوئی شہر سے باہر نکل جائے۔ قدرت سے قریب ہونے کے شوق میں شاید ہی کوئی ایسا کرتا، اس لیے کہ یہ مانی ہوئی بات تھی کہ قدرت کی تکمیل شہر میں ہوتی ہے اور شہر کے باہرقدرت کی کوئی جانی پہچانی شکل نظر نہیں آتی۔ شہر میں باغ ہوسکتے تھے اور پھولوں کے ہجوم، سرو کی قطاروں کے درمیان خرام ناز کے لیے روشیں، پتیوں اور پنکھڑیوں پرموتیوں کی سی شبنم کی بوندیں۔ یہاں باد صبا چل سکتی تھی، بلبلیں گلابوں کو اپنے نغمے سنا سکتی تھیں، قفس کے گرفتار آزادی سے لطف اٹھاتے ہوئے پرندوں پر رشک کرسکتے تھے، آشیانوں پر بجلیاں گرسکتی تھیں۔ بے شک شاعر کا تصور تشبیہوں اور استعاروں کی تلاش میں شہر سے باہر جانے پر مجبور تھا، جن کی مثال قافلے اور کارواں اور منزلیں، طوفان سے دلیرانہ مقابلے، دشت، صحرا، سمندر اور ساحل تھے۔

لیکن استعاروں کی افراط بھی شہر ہی کے اندر تھی۔ میخانہ، ساقی، شراب، زاہد، واعظ، کوچہ یار، دربان، دیوار، سہارا لے کر بیٹھنے یا سر پھوڑنے کے لیے، وہ بام جس پر معشوق اتفاق سے یا جلوہ گری کے ارادے سے نمودار ہو سکتا تھا، وہ بازار جہاں عاشق رسوائی کی تلاش میں جا سکتا تھا یا جہاں دار پر چڑھنے کے منظر اسے دکھا سکتے تھے کہ معشوق کی سنگ دلی اسے کہاں تک پہنچا سکتی ہے۔ شہروں ہی میں محفلیں ہو سکتی تھیں جن کو شمعیں روشن کرتیں اور جہاں پروانے شعلے پر فدا ہوتے، جہاں عاشق اور معشوق کی ملاقات ہوتی۔ ہم شاعروں پر اس کا الزام نہیں رکھ سکتے کہ انہوں نے شہر کو یہ اہمیت دے دی، شہر اور دیہات کی بیگانگی صدیوں سے چلی آرہی تھی، یہ گویا ہندوستان کے دو متضاد حصے تھے۔

ملک کی تقسیم اسی ایک نہج پر نہیں تھی۔ بادشاہ، امراء، سپہ سالار اقتدار کی کشمکش میں مبتلا تھے، ایک جوئے کے کھیل میں جہاں ہر ایک ہمت، موقع اور اپنی مصلحت کے لحاظ سے بازی لگاتا، باقی آبادی کو بس اپنی سلامتی کی فکر تھی۔ ضمیر اور اخلاقی اصول بحث میں نہیں آتے تھے، بازی ہارنا اور جیتنا قسمت کی بات تھی۔ عام مفاد کا کوئی تصور تھا بھی تو وہ ذاتی اغراض کی گنجلگ میں کھو جاتا اور اگر کوئی عام مفاد کو محسوس کرتا اور اسے بیان کرنا چاہتا تو اسے دینی اور فقہی اصطلاحوں کا سہارا لینا پڑتا جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا کہ ایک مذہبی بحث کھڑی ہوجاتی۔ شاہ اسماعیل شہیدؒ کی تصانیف میں جہاں کہیں سیاسی مسائل موضوع بحث ہیں، وہاں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک نیک نیت انسان جس کی خواہش یہ تھی کہ حکومت کی بنیاد عدل پر ہو، صرف اپنے غم اور غصہ کا اظہار کرسکتا تھا۔ کوئی واضح اور مدلل بات کہنا ممکن ہی نہیں تھا۔ شاعر کو اختیار تھا کہ اہل دولت و ثروت کی شان میں قصیدے لکھے یا توکل پر درویشوں کی سی زندگی گزارے۔ کسی مربی پر بھروسا کرنے سے اعلیٰ معیار کی شاعری کرنے میں رکاوٹ نہیں پیدا ہوتی تھی، مربی کا احسان ماننا ایک رسمی بات تھی، عشق اور وفاداری کا مستحق صرف معشوق تھا اور شاعر اپنی تعریف بھی جس انداز سے چاہتا کرسکتا تھا۔ اگر وہ کسی حد تک بھی نام پیدا کرتا تو اس کا شمار منتخب لوگوں میں ہوتا تھا اور اس کی دنیا منتخب لوگوں کی دنیا ہوتی تھی۔

ایک اور تقسیم ’آزاد‘ یعنی شریف مردوں عورتوں کی تھی۔ عام طور پر لوگوں کو اندیشہ تھا کہ دیکھنے سے گفتگو اور گفتگو سے بدن چھونے تک بات پہنچتی ہے، اور بدن چھونے کا نتیجہ یہ ہوسکتا تھا کہ دونوں فریق بے قابو ہو جائیں۔ اس اندیشے نے ایک رسم بن کر آزاد نامحرم مردوں عورتوں کو سختی کے ساتھ ایک دوسرے سے الگ کردیا۔ اسی وجہ سے آزاد عورتوں کے بارے میں لکھنا انہیں زبان اور ادب کی آنکھوں سے دیکھنے کے برابر اور اس لیے نامناسب قرار دیا گیا۔

بڑی خاندانی تقریبوں میں طوائفوں کا ناچ گانا کرانا خوشحال گھرانوں کا دستور تھا اور جو لوگ بزم میں شرکت کرنا پسند نہ کرتے وہ ایسے موقعوں پر گفتگو کے فن میں اپنا ہنر دکھا سکتے تھے۔ شریفوں اور طوائفوں کے یکجا ہونے کے موقع عرس بھی فراہم کرتے تھے جن میں سے اکثر میں طوائفوں کو شریک ہونے کی اجازت تھی۔ اب ہم خود ہی سوچ سکتے تھے کہ معشوق کی تصویریں کس بنیادی عکس کو سامنے رکھ کر بنائی گئی ہوں گی اور ایسی عورت کون ہوسکتی تھی جس کا کوئی خاندان نہ ہو، جس کے تعلقات اورذمہ داریاں نہ ہوں اور جو اس وجہ سے ایک وجود محض، ایک خالص جمالیاتی تصور میں تبدیل کی جاسکے۔

اب کچھ اور سماجی حالات کو دیکھیے جن کا ادب پر عکس پڑا۔ شہروں میں شریفوں کے لیے پیدل چلنا دستور نہ تھا، کسی قسم کی سواری پر آنا جانا لازمی تھا۔ گھوڑے گاڑی کا رواج انگریزوں کی وجہ سے ہوا، گھوڑے کی سواری لمبے سفر پر کی جاتی، شہر کے اندر اس کا رواج نہ تھا۔ عام سواری کسی قسم کی پالکی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ کوئی حیثیت والا آدمی اکیلا ٹہل نہیں سکتا تھا، راستے میں کھڑے ہو کر لوگوں کو اپنے کام سے آتے جاتے نہیں دیکھ سکتا تھا، صحت کی خاطر بھی پیدل سیر نہیں کر سکتا تھا، عوام میں گھل مل نہیں سکتا تھا، عوام میں گھلنے ملنے کا اور کوئی امکان نہیں تھا۔ شرعی قانون کے مطابق سب انسان برابر تھے اور اس قانون کو ماننے سے کسی نے انکار نہیں کیا۔ لیکن قانون نے اس کا حکم نہیں دیا تھا کہ لوگ اعلیٰ اور ادنی، امیر اورغریب کے فرق کو نظرانداز کرکے سب سے برابر کی حیثیت والوں کی طرح ملیں اور ان قاعدوں پر، جن کی وجہ سے مختلف طبقے الگ رہتے تھے سختی سے عمل کیا جاتا تھا۔

ممکن ہے یہ ذاتوں کی تقسیم کا اثر ہو، کیوں کہ ہندوستانی مسلمانوں کے طور طریق میں بعض باتیں ہیں جو اسلامی ملکوں میں نہیں ملتی ہیں۔ بہرحال سماجی تقسیم کے ان قاعدوں کے وجود سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

( معروف ہندوستانی اسکالر اور مضمون نگار محمد مجیب کے مضمون سے اقتباسات)

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے