• ستمبر 20, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 20, 2026 6:28 شام
  • پاکستان

24سال سے قید بچوں نے پہلی بار سورج کی روشنی دیکھی

آگ اور بجلی کے بغیر کھانا پکانے کا بیگ، حیرت انگیز ایجاد

لندن سے بنگلادیش جانے والی پرواز میں مسافر لڑ پڑے، ویڈیو وائرل

شوہر نے میکے سے واپس نہ آنے پر بیوی کی ناک کاٹ دی

کراچی: شہر قائد میں ایم ڈی کیٹ 2026 کا امتحان انتظامی مشکلات اور شدید گرمی کے باعث طلبہ کے لیے کڑا امتحان بن گیا، دونوں امتحانی مراکز کا انتخاب ایک ایسی جگہ کیا جانا، امیدواروں کی تمام تر آزمائشوں میں مزید اضافہ کر گیا، جہاں یونیورسٹی روڈ سے گزر کر جانا تھا۔

کراچی کے دو امتحانی مراکز میں تقریباً 11 ہزار امیدوار شریک ہوئے، امتحان کے دوران انتظامی مسائل، گرمی اور حبس سے متعدد طلبہ کی طبیعت بھی خراب ہوئی۔

ہر سال ایم ڈی کیٹ کا امتحان انعقاد سے قبل ہی ایک اور امتحان بن جاتا ہے، ایک طرف ٹیسٹ کا دباؤ تھا اور دوسری طرف راستوں کی مشکلات، اور اوپر سے کراچی کی شدید گرمی نے ایم ڈی کیٹ دینے پہنچنے والے طلبہ کے لیے امتحانی دن ایک انتہائی سخت ترین دن بنا دیا۔

ایم ڈی کیٹ کا پرچہ حل کرنے سے قبل طلبہ کو کراچی کا مشہور ترین زیر تعمیر یونیورسٹی روڈ سے گزرنا تھا، گزشتہ کچھ عرصے سے اس سڑک کی بدترین حالت خبروں کی زینت بنتی رہی ہے، اور پورے ملک میں مشہور ہو گئی ہے، سوشل میڈیا پر اس پر میمز بنی ہیں اور بے شمار لطائف بھی۔

واضح رہے کہ ایم ڈی کیٹ کا امتحان این ای ڈی یونیورسٹی اور ڈاؤ اوجھا کیمپس میں منعقد ہوا، جہاں تقریباً 11 ہزار امیدوار امتحان میں شریک ہوئے، آئی بی اے انتظامیہ کے دعوؤں کے برعکس انتظامی مسائل نے طلبہ کو شدید پریشانی میں مبتلا رکھا۔ پنڈال کے بعض بلاکس میں پنکھے کام نہ کرنے سے طلبہ گرمی میں پریشان رہے اور متعدد طلبہ کی طبیعت خراب ہونے پر میڈیکل ٹیمیں فوری حرکت میں آئیں۔ اور متاثرہ طلبہ کو طبی امداد کے ساتھ او آر ایس اور جوس پلایا گیا، جب کہ بلڈ پریشر چیک کرنے کے لیے ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔

ایم ڈی کیٹ: 8 مرتبہ سوشل میڈیا پر جعلی پرچہ آؤٹ کرنے کی کوشش کی گئی

آئی بی اے انتظامیہ نے یونیورسٹی روڈ کی حالت اور گرمی اور حبس کے موسم کو نظر انداز کیا اور پروا نہیں کی کہ طلبہ کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، بہ صورت دیگر یہ امتحان ایکسپو سینٹر کے محفوظ ماحول میں بھی منعقد کیا جا سکتا تھا۔

امتحان سے قبل امتحان

ہر سال ایم ڈی کیٹ کا امتحان انعقاد سے قبل ہی ایک اور امتحان بن جاتا ہے، لاکھوں روپے نجی کوچنگ سینٹر میں ادا کر کے امیدوار تیاری کرتے ہیں، پھر پرچے کے دن صبج 6 بجے والدین کے ساتھ گھروں سے نکلتے ہیں، اور طویل قطاروں کے بعد شدید گرمی میں پنڈال میں داخل ہوتے ہیں۔

پنڈال میں حسب معمول پینے کا ٹھنڈا پانی ہر طالب علم کو ملنا ناممکن ہوتا ہے، پیپر کی تیاری اور پرچے کو حل کرنا بالخصوص طالبات کے لیے بڑا مسئلہ بن جاتا ہے، بیش تر طالبات بغیر ناشتہ کے پہنچتی ہیں، اور بہ ظاہر 3 گھنٹے کا پیپر گھر سے نکلنے سے پرچے کے اختتام تک کم و بیش 8 گھنٹے پر محیط ہو جاتا ہے، اس دوران شوگر لیول کی کمی اور ڈی ہائیڈریشن کا عمل امیدواروں کی صحت کو شدید متاثر کرتا ہے۔

امتحان کے لیے متبادل مقامات

کراچی ایکسپو سینٹر، ناظم آباد اسپورٹس کمپلکس، گورنمنٹ کمپری ہنسو گرلز ہائر سکنڈری اسکول نارتھ ناظم آباد (جہاں ایک وقت میں 6 ہزار طالبات کے بیٹھنے کی گنجائش ہے، میٹرک اور انٹر کے سالانہ امتحانات میں یہ کراچی کا سب سے بڑا ماتحانی مرکز بھی بنتا ہے)، سیمت کے ایم سی اسپورٹس کمپلکس اس کے متبادل مقامات بن سکتے ہیں، اور ان جگہوں کا استعمال کر کے رش کو کم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، صوبائی حکومت آئی بی اے اور ٹیسٹ منتظمین اس پر توجہ دینے سے قاصر نظر آتے ہیں۔

ڈاؤ اور این ای ڈی ایک ہی روٹ پر ہونے کی وجہ سے ہر سال یونیورسٹی روڈ پر بدترین ٹریفک جام ہوتا ہے، جس میں طلبہ و طالبات کو پھنس کر مزید پریشان ہونا پڑتا ہے، اور رواں برس طلبہ کو گاڑیوں سے اتر کر طویل مسافت پیدل بھی طے کرنا پڑی۔

طلبہ اور والدین کی جانب سے تجویز

جہاں امتحانی پرچے کو سخت سیکیورٹی میں رکھا گیا اور مراکز تک پہنچایا گیا، اور جس طرح پوری تندہی سے ایم ڈی کیٹ کا پرچہ آؤٹ کرنے کی کم و بیش 8 کوششیں ناکام بنائی گئیں، اسی طرح امتحان کے مقام سے متعلق انتظامیہ کو طلبہ کی پریشانیوں کو بھی حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

طلبہ اور والدین نے تجویز دی ہے کہ یونیورسٹی روڈ پر ترقیاتی کام نہ جانے کتنا عرصہ جاری رہیں گے، اس کی کوئی حتمی ڈیڈ لائن بھی نہیں ہے، لہٰذا مذکورہ بالا چار مقامات کو بھی ایم ڈی کیٹ امتحانات کے لیے زیر غور لایا جا سکتا ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے