• اکتوبر 4, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 4, 2026 6:08 صبح
  • پاکستان

خلائی مخلوق یا دیوہیکل جہاز؟ اسٹار شپ کی لائیو اسٹریم میں پُراسرار’یو ایف او‘ کی جھلک وائرل

امریکا میں 200 سال بعد سزائے موت پانی والی خاتون نے 2 بار موت کا چکما دے دیا

انوکھا گاؤں، رکشا ڈرائیور بھی کروڑ پتی، ہر گھر محل جیسا اور ہر دروازے پر لگژری کار

ٹیڈ کازنسکی : انتہائی ذہین طالب علم ’یونابومبر‘ کیسے بن گیا؟ ہوشربا داستان

ممبئی(2 اکتوبر 2026): ممبئی کے ایک خاندان نے 80 سالہ بزرگ کی موت کے بعد ان کی لاش کو چار سال تک فریج میں محفوظ رکھا۔

ممبئی کے ایک خاندان نے 80 سالہ بزرگ کی موت کے بعد ان کی لاش کو چار سال تک فریزر میں محفوظ رکھا اور اس دوران امریکا کے کسی کرائنکس سینٹر میں منتقل کرنے کے امکانات تلاش کرنے پر 50 لاکھ روپے سے زائد رقم خرچ کر دی۔ اس انوکھے معاملے کا انکشاف اس وقت ہوا جب پولیس کو خفیہ اطلاع ملی۔

پولیس کے مطابق کھرار پولیس کو پیر کی رات اطلاع ملی تھی جس پر انہوں نے ملاد کے ایک پولی کلینک پر چھاپہ مارا اور وہاں ایک فریزر کے اندر بزرگ کی لاش برآمد کی۔ یہ بزرگ 2022 میں کینسر، گردے کے فیل ہونے اور عمر سے متعلق دیگر بیماریوں کے باعث انتقال کر گئے تھے۔

انتقال کے بعد ان کے اہل خانہ نے پہلے لاش اپنے ملاد والے گھر میں ایک فریزر میں رکھی، تاہم جب ان کی رہائشی عمارت میں تعمیراتی اور ری ڈیولپمنٹ کا کام شروع ہوا تو انہوں نے لاش کو اس کلینک میں منتقل کر دیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بزرگ کی اہلیہ اور دو جوان بچوں (جن میں ایک بیٹی وکیل بھی شامل ہے) کو ان کی موت کا اتنا صدمہ پہنچا کہ وہ آخری رسومات ادا کرنے کا حوصلہ نہ کر سکے۔

خاندان نے ‘کرائنکس‘ پر تحقیق کی اور امریکا کے ایسے اداروں سے رابطہ کیا جو قانونی موت کے بعد افراد کو طویل عرصے تک محفوظ رکھنے کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے خاندان نے لاش کو محفوظ رکھنے اور اسے امریکا کے کسی مرکز میں منتقل کرنے کے قانونی تقاضے جاننے کے لیے بھارت میں وکلاء سے بھی مشاورت کی۔

پولیس نے تصدیق کی کہ خاندان نے چار سال کے عرصے میں لاش کو محفوظ رکھنے پر 50 لاکھ روپے سے زائد کی رقم خرچ کی۔ اس تمام عمل کا مقصد یہ تھا کہ مستقبل میں سائنسی ترقی کی بدولت ممکن ہے کہ مردہ شخص کو دوبارہ زندہ کرنے کا کوئی طریقہ دریافت ہو جائے۔

کرائنکس ایک ایسا طریقہ کار ہے جس میں قانونی طور پر مردہ شخص کے جسم کو انتہائی کم درجہ حرارت پر محفوظ کیا جاتا ہے تاکہ مستقبل کی ٹیکنالوجی کے ذریعے موت سے ہونے والے نقصان کو الٹایا جا سکے۔ تاہم، یہ عمل اب تک تجرباتی مرحلے میں ہے اور اسے زندہ کرنے کا کوئی حتمی طریقہ موجود نہیں ہے۔

پولیس نے بتایا کہ جس کلینک میں لاش رکھی گئی تھی وہ تزئین و آرائش کے باعث ایک ماہ سے بند تھا، اور کلینک کی انتظامیہ یا عمارت کے مالک کو اس بات کا کوئی علم نہیں تھا کہ وہاں لاش رکھی گئی ہے۔ البتہ، خاندان کے قریبی رشتے داروں اور پڑوسیوں کو اس انتظام کا علم تھا۔

پولیس نے خاندان، کلینک کے انتظام اور پراپرٹی کے مالک سے پوچھ گچھ کے بعد کسی بھی قسم کی غبن یا مجرمانہ کارروائی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے تصدیق کی کہ بزرگ طبعی موت مرے تھے، اور خاندان نے ان کی موت سے متعلق تمام قانونی دستاویزات بھی فراہم کر دی ہیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے