دکاندار نے تین دن میں موبائل ٹھیک نہ کیا تو شہری تلوار لے کر پہنچ گیا
کرسٹا پائیک کے خوفناک جرم کے پیچھے اصل کہانی کیا تھی؟
بیوی نے باہر گھمانے نہ لے جانے پر شوہر سے طلاق مانگ لی
ایک ماہ کے شیر خوار کو کئی بار بیچ دیا گیا، والدین سمیت 7 افراد گرفتار
آگرہ : ٹیٹو سنگھ کی کہانی دوبارہ جنم لینے کے حوالے سے سب سے مشہور اور حیران کن واقعات میں سے ایک مانی جاتی ہے، جس نے سائنسدانوں اور محققین کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اصل راز کیا ہے؟۔
ہندوانہ عقائد کے مطابق ٹیٹو سنگھ کے دوبارہ جنم (پونر جنم) کی کہانی دنیا بھر میں سب سے مشہور اور چونکا دینے والے واقعات میں شمار ہوتی ہے، اس کیس کو عالمی میڈیا اور نامور سائنسدانوں نے دستاویزی شکل میں ریکارڈ کیا تھا۔
بھارت میں تقریباً 4 دہائیاں قبل سامنے آنے والی ایک پراسرار کہانی آج بھی دوبارہ جنم کے دعوؤں پر بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔
ایک بچے نے خود کو قتل ہونے والے شخص کا دوبارہ جنم قرار دیتے ہوئے مقتول کے خاندان، دکان اور گھر سے متعلق حیران کن معلومات بیان کیں جس نے سب کو حیران کردیا۔
ٹیٹو سنگھ (اصل نام تورن سنگھ) کی پیدائش دسمبر 1983 میں بھارت میں آگرہ کے قریب ایک گاؤں "باڑ” میں ہوئی۔ جب وہ صرف ڈھائی سے تین سال کا تھا، تو اس نے غیر معمولی باتیں کرنا شروع کردیں۔
وہ اکثر اپنے والدین سے کہتا تھا کہ یہ اس کا اصلی گھر نہیں ہے اور اس کے اصل والدین، بیوی اور بچے آگرہ میں رہتے ہیں۔
پہلے پہل تو اس کے والدین نے ایک بچے کا وہم سمجھ کر نظر انداز کیا، لیکن 5 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے اس نے ایسے دعوے کیے جنہوں نے سب کو حیران کر دیا۔
ٹیٹو سنگھ کے واقعے کا ذکر حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا پر ایک بار پھر ہونے لگا ہے، تاہم اس کہانی کے بعض مقبول آن لائن دعوے اصل دستیاب تحقیق سے مختلف ہیں۔ اس لیے واقعے کی ثابت شدہ معلومات، عینی شاہدین کے دعوے اور بعد میں شامل ہونے والی تفصیلات میں فرق کرنا ضروری ہے۔
ڈیڑھ سال کی عمر میں عجیب دعوے
محقق انٹونیا ملز نے 1989 میں شائع ہونے والی اپنی تحقیق میں ٹیٹو سنگھ کے کیس سے متعلق دستیاب معلومات جمع کی تھیں، تحقیق کے مطابق ٹیٹو کے خاندان کا کہنا تھا کہ وہ تقریباً 18 ماہ کی عمر سے غیر معمولی باتیں کرنے لگا تھا۔
ٹیٹو مبینہ طور پر بتاتا تھا کہ اس کا تعلق بھارتی شہر آگرہ سے ہے، اس کی ایک بیوی اور بچے ہیں اور صدر بازار میں اس کی دکان بھی ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ اس کے دعوے مزید مخصوص ہوتے گئے، اس نے مبینہ طور پر اپنے خاندان کو بتایا کہ اس کی دکان میں ٹرانزسٹر ریڈیو فروخت ہوتے تھے اور دکان کا نام سریش ریڈیو تھا۔
خاندان کی تلاش کے بعد آگرہ میں اسی نام کی دکان کا سراغ ملا اور معلوم ہوا کہ اس کے سابق مالک سریش ورما کو 1983 میں گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا۔
مقتول کے خاندان کو پہچاننے کا دعویٰ
ٹیٹو کے خاندان کے مطابق جب اسے سریش ورما کی دکان اور خاندان کے پاس لے جایا گیا تو بچے نے مبینہ طور پر سریش کے اہل خانہ کو پہچان لیا۔
اس نے گھر اور دکان کی ساخت، خاندان کے افراد کے مخصوص ناموں اور دیگر ذاتی تفصیلات سے متعلق ایسی معلومات بتائیں جنہیں اس کے اہل خانہ غیر معمولی قرار دیتے تھے۔
ایک اور دعویٰ یہ بھی کیا گیا کہ ٹیٹو نے سریش کی تصویر دیکھ کر اسے اپنا ہی سابقہ وجود قرار دیا۔ دونوں خاندانوں کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ بچے کے مزاج میں سریش ورما سے مماثلت پائی جاتی تھی۔
اس واقعے کی سب سے غیر معمولی بات یہ بتائی گئی کہ ٹیٹو کو معلوم تھا کہ اس کی سابق زندگی کا اختتام گولی لگنے سے ہوا تھا، تاہم یہاں ایک اہم فرق موجود ہے۔
بعد کی بعض سوشل میڈیا کہانیوں میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ بچے نے قاتل کی شناخت بھی کردی تھی، لیکن انٹونیا ملز کی تحقیق کے مطابق ٹیٹو نے حملہ آوروں کی شناخت کرنے سے معذوری ظاہر کی تھی۔ اس لیے یہ کہنا کہ بچے نے پولیس کو قاتل تک پہنچایا، دستیاب تحقیق سے ثابت نہیں ہوتا۔
سر پر موجود نشان نے بھی توجہ حاصل کی
ٹیٹو سنگھ کے دعوے کو تقویت دینے والی ایک اور بات کے طور پر 1988 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ٹیٹو کے سر پر ایک پیدائشی نشان موجود تھا اور مبینہ طور پر اس کی جگہ وہی تھی جہاں سریش ورما کو گولی لگی تھی۔
یہ تفصیل دوبارہ جنم پر یقین رکھنے والوں کے لیے اہم سمجھی گئی، تاہم اس نوعیت کے جسمانی نشانات کو کسی شخص کے دوبارہ جنم کا سائنسی ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا۔
کیا واقعی یہ دوبارہ جنم کا معاملہ تھا؟
ٹیٹو سنگھ کے کیس میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ وہ سریش ورما کی اتنی تفصیلات سے واقف کیسے ہوا۔
تحقیق میں ایک اہم ممکنہ وضاحت بھی سامنے آتی ہے۔ ٹیٹو کا خاندان آگرہ میں نہیں رہتا تھا، لیکن اس کے والد روزانہ آگرہ کا سفر کرتے تھے اور مقامی اخبارات بھی پڑھتے تھے۔ ملز کے مطابق ایک اخبار میں سریش ورما کے قتل کی خبر مسلسل تین دن تک شائع ہوئی تھی۔
اگرچہ اس خبر میں وہ تمام تفصیلات شامل نہیں تھیں جو ٹیٹو سے منسوب کی جاتی ہیں، تاہم محقق نے یہ امکان مسترد نہیں کیا کہ بچہ اپنے والد یا دیگر ذرائع سے سریش ورما کے بارے میں کچھ معلومات سن سکتا تھا اور بعد میں انہیں اپنی یادوں کا حصہ سمجھنے لگا ہو۔
ٹیٹو کی پیدائش کی تاریخ بھی کیس کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔ اس کے والد نے محقق کو بتایا تھا کہ ٹیٹو 10 دسمبر 1983 کو پیدا ہوا تھا، یعنی سریش ورما کے قتل کے بعد۔ تاہم ملز کو دستیاب ایک ہسپتال ریکارڈ ایسا ملا جس سے پیدائش کی تاریخ 11 دسمبر 1982 بنتی تھی، جو سریش ورما کے قتل سے کئی ماہ پہلے کی تاریخ تھی۔ البتہ محقق نے خود بھی تسلیم کیا کہ ممکن ہے یہ ریکارڈ کسی دوسرے بچے کا ہو۔
یوں ٹیٹو سنگھ کا واقعہ دوبارہ جنم کے دعوؤں کی تاریخ میں ایک دلچسپ کیس ضرور ہے، مگر اس کے بارے میں دستیاب شواہد قطعی طور پر یہ ثابت نہیں کرتے کہ وہ سریش ورما کا دوبارہ جنم تھا۔
کیس کے بعض دعوے خاندانی بیانات پر مبنی ہیں، جبکہ بعض تفصیلات بعد کی روایات اور سوشل میڈیا میں مزید بڑھتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ٹیٹو سنگھ کی کہانی آج بھی ایک سوال بن کر موجود ہے، کیا ایک کم عمر بچے کو واقعی کسی مقتول شخص کی زندگی کی تفصیلات معلوم تھیں، یا وہ معلومات اسے کسی عام ذریعے سے حاصل ہوئی تھیں؟
