• ستمبر 11, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 11, 2026 5:38 شام
  • پاکستان

اسلام آباد میں محبت کی یادگار، صوبیہ محل کی دلچسپ داستان

سو سال تک نظروں سے اوجھل مینڈک کی نئی نسل

چور کا خوف، شہری اپنی گاڑی چھت پر لے گیا، ویڈیو وائرل

دوران پرواز مسافر کو ہنگامہ کرنا مہنگا پڑ گیا

ٹورنٹو: کینیڈا نے پاکستانی ڈاکٹروں کے لیے مستقل رہائش کے راستے آسان بنانے کے لیے نئے امیگریشن مواقع فراہم کردیئے ۔

تفصیلات کے مطابق کینیڈا نے بین الاقوامی میڈیکل ڈاکٹروں کے لیے مستقل رہائش کے حصول کو آسان بنانے کے لیے سال 2026 میں نئے اور اہم امیگریشن اقدامات متعارف کرا دیے ہیں، جس سے پاکستانی ڈاکٹر بھی اپنی اہلیت اور تجربے کے مطابق فائدہ اٹھا سکتے ہیں.

کینیڈا کے امیگریشن نظام کے تحت پاکستانی ڈاکٹر ایکسپریس انٹری، پروونشل نومینی پروگرام اور بعض علاقائی امیگریشن پروگرامز کے ذریعے مستقل رہائش حاصل کرنے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

تاہم مستقل رہائش یا ورک پرمٹ ملنے سے ڈاکٹر کو کینیڈا میں خودکار طور پر میڈیکل پریکٹس کی اجازت نہیں ملتی۔

ڈاکٹر کے لیے اپنی غیر ملکی میڈیکل ڈگری اور اسناد کا اسیسمنٹ اور متعلقہ صوبے یا علاقے کی میڈیکل ریگولیٹری اتھارٹی سے لائسنس حاصل کرنا ضروری ہے۔

سال 2026 میں ایکسپریس انٹری کے تحت میڈیکل ڈاکٹروں کے لیے نئی کیٹیگری بھی متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت کامیاب امیدواروں کو PR کی دعوت دی جائے گی۔

اس کے لیے امیدوار کا ایکسپریس انٹری کے زیرِ انتظام تین پروگرامز میں سے کسی ایک کا اہل ہونا اور گزشتہ تین برس کے دوران کینیڈا میں ڈاکٹر کی حیثیت سے کم از کم ایک سال کا فل ٹائم تجربہ رکھنا ضروری ہے۔

کینیڈا نے پروونشل نومینی پروگرام کے تحت میڈیکل ڈاکٹروں کی نامزدگی کے لیے 5 ہزار تک وفاقی امیگریشن جگہیں بھی مختص کی ہیں۔

کینیڈین صوبے یا علاقے میں ڈاکٹر کی ملازمت، کنفرم جاب آفر یا متعلقہ ادارے کا لیٹر آف سپورٹ رکھنے والے ڈاکٹر اس راستے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

کینیڈا میں میڈیکل کا تجربہ نہ رکھنے والے پاکستانی ڈاکٹر بھی پروونشل نومینی پروگرام، ایکسپریس انٹری، اٹلانٹک امیگریشن پروگرام اور بعض دیہی و فرانکوفون کمیونٹی امیگریشن پروگرامز کے ذریعے مواقع تلاش کرسکتے ہیں۔

درخواست دینے سے پہلے ڈاکٹرز کو متعلقہ صوبے کی لائسنسنگ شرائط، میڈیکل ڈگری اور تجربے کی تصدیق، ضروری امتحانات اور انگریزی یا فرانسیسی زبان کے تقاضوں کو پورا کرنا ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کینیڈا منتقل ہونے کے خواہشمند ڈاکٹروں کو امیگریشن اور میڈیکل لائسنسنگ کو دو الگ مراحل کے طور پر دیکھنا چاہیے، کیونکہ امیگریشن کی منظوری سے میڈیکل پریکٹس کا لائسنس خودکار طور پر نہیں ملتا۔

کینیڈین حکام نے ڈاکٹروں کو خبردار کیا ہے کہ جاب آفر، لائسنس یا لیٹر آف سپورٹ کے نام پر کسی غیر مجاز ایجنٹ کو رقم نہ دیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے