11 ستمبر 2001 کو القاعدہ کے عسکریت پسندوں کی جانب سے مسافر طیارے اغوا کر کے انہیں نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون سے ٹکرانے کو 25 سال مکمل ہوچکے ہیں۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق 25 سال بعد اسامہ بن لادن کی قائم کردہ اس تنظیم نے دنیا بھر میں اپنی ذیلی شاخیں بنائی ہیں، اگرچہ اسے بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں خاص طور پر 2011 میں امریکی فورسز کے ہاتھوں اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور داعش کا ایک حریف کے طور پر ابھرنا شامل ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ القاعدہ اب بھی کئی خطوں، بالخصوص افریقہ میں عسکریت پسندوں کے لیے حمایت اور ترغیب کا ذریعہ بنی ہوئی ہے۔
القاعدہ 1980 کی دہائی کے آخر میں اسامہ بن لادن کی قیادت میں ایک بین الاقوامی جہادی نیٹ ورک کے طور پر ابھری۔ سعودی شہریت رکھنے والے اسامہ بن لادن نے 1979 کے بعد افغانستان پر سوویت حملے کے خلاف لڑنے والے عرب جنگجوؤں کو بھرتی کرنے اور ان تک امداد پہنچانے میں مدد کی تھی اور خود بھی وہاں جنگ لڑی تھی۔
بعد ازاں القاعدہ ان عسکریت پسندوں کے لیے کشش کا مرکز بن گئی جو سخت گیر اسلامی طرز حکمرانی قائم کرنے کے خواہاں تھے اور جو امریکا، اسرائیل اور خطے میں امریکا کی اتحادی حکومتوں کے خلاف مشترکہ دشمنی رکھتے تھے۔
1994 میں اسامہ بن لادن سے ان کی سعودی شہریت چھین لی گئی اور 1996 میں انہیں سوڈان سے بھی بے دخل کر دیا گیا جس کے بعد انہوں نے افغانستان میں پناہ لی۔
انہوں نے افغانستان پہنچنے سے بہت پہلے ہی امریکی مفادات پر حملوں کی منصوبہ بندی شروع کر دی تھی۔ امریکا کی جانب سے تسلیم کیا جانے والا پہلا حملہ 1992 میں یمن کے دو ہوٹلوں پر القاعدہ کا بم حملہ تھا جس کا مقصد صومالیہ جانے والے امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنا تھا تاہم امریکی فوجی پہلے ہی وہاں سے جا چکے تھے یا کسی اور جگہ ٹھہرے ہوئے تھے۔
افغانستان میں رہتے ہوئے اسامہ بن لادن نے ٹریننگ کیمپوں کی تیار ی میں مدد کی اور غیر ملکی جنگجوؤں کی ایک ایلیٹ بریگیڈ قائم کی۔ 1996 میں اسامہ نے امریکی افواج کے خلاف جہاد کا اعلان کرتے ہوئے انہیں سعودی عرب پر قابض قرار دیا۔
اس کے بعد 1998 میں ’یہودیوں اور صلیبیوں‘ کے خلاف جہاد کے لیے ’ورلڈ اسلامک فرنٹ‘ کا اعلان کیا گیا اور یہ بیان جاری کیا گیا کہ مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ امریکیوں اور ان کے اتحادیوں کو قتل کریں خواہ وہ سویلین ہوں یا فوجی۔ اسی سال کے آخر میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر القاعدہ کے ٹرک بم حملوں میں 224 افراد ہلاک ہوئے۔
11 ستمبر کے حملے 19 ہائی جیکرز نے انجام دیے تھے جن میں سے 15 کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔ انہوں نے 4 جیٹ طیارے اغوا کیے جن میں سے چوتھا طیارہ پنسلوانیا کے ایک کھیت میں اس وقت گر کر تباہ ہو گیا جب مسافروں نے کاک پٹ پر دھاوا بول دیا۔ ان حملوں میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔
امریکا نے اکتوبر 2001 میں افغانستان پر حملہ کرکے طالبان کا تختہ الٹ دیا اور القاعدہ کو اس کے آپریشنل اڈے سے نکال دیا، دسمبر 2001 میں طالبان مخالف فورسز نے تورا بورا کے پہاڑوں میں القاعدہ کے اڈے پر قبضہ کر لیا لیکن اسامہ بن لادن ایک دہائی بعد تک بھی گرفتاری سے بچتے رہے اور وقتاً فوقتاً پیغامات جاری کرتے رہے یہاں تک کہ 2011 میں امریکی اسپیشل فورسز نے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ان کے کمپاؤنڈ پر چھاپہ مار کر انہیں ہلاک کر دیا۔
11 ستمبر کے حملوں کے خود ساختہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کو 2003 میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا۔ 2007 میں پینٹاگون کی جانب سے جاری کردہ فوجی سماعت کے ٹرانسکرپٹ کے مطابق خالد شیخ محمد نے کہا کہ اس نے اس حملے کی مکمل منصوبہ بندی کی تھی۔
ایک جج نے حال ہی میں حکم دیا ہے کہ گوانتانامو بے میں قید خالد شیخ محمد اور تین دیگر شریک ملزمان پر دو دہائیوں کے قانونی تعطل کے بعد جون 2028 میں فوجی ٹربیونل میں مقدمہ چلایا جائے۔
اسامہ بن لادن کے جانشین ایمن الظواہری 2022 میں کابل میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے اور اب خیال کیا جاتا ہے کہ مصری عسکریت پسند سیف العدل آج القاعدہ کے ڈی فیکٹو لیڈر ہیں۔
اگرچہ القاعدہ کے رہنما بکھر گئے لیکن القاعدہ سے منسلک یا اس کے نظریے سے متاثر عسکریت پسند متعدد دہشت گردانہ حملے کرچکے ہیں۔
ان میں سب سے مہلک حملوں میں 2002 میں بالی کے ایک نائٹ کلب ڈسٹرکٹ پر حملہ شامل ہے جس میں 202 افراد ہلاک ہوئے، اس طرح 2004 میں میڈرڈ میں ٹرینوں پر ہونے والے بم حملوں میں 190 سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور 2005 میں لندن انڈر گراؤنڈ ٹرینوں اور ایک بس پر خودکش بم دھماکے میں 52 افراد ہلاک ہوئے۔
القاعدہ کی ذیلی شاخیں مشرق وسطیٰ اور اس سےباہر بھی ابھریں۔ ان میں سب سے طاقتور شاخ عراق میں تھی جہاں 2003 کے حملے کے بعد القاعدہ نے امریکی قیادت میں آنے والی افواج کا مقابلہ کیا۔
القاعدہ کی ایک شاخ 2007 میں شمالی افریقہ میں اور دوسری 2009 میں جزیرہ نما عرب میں ابھری، 2011 کے بعد القاعدہ کا النصرہ فرنٹ شام کی خانہ جنگی میں ایک بڑی قوت بن گیا۔
افریقہ میں موجود القاعدہ سے وابستہ گروہوں میں صومالیہ میں 'الشباب' اور ساحل ریجن میں 'جماعت نصرۃ الاسلام والمسلمین' شامل ہیں۔ القاعدہ کے تعلقات کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے بھی ہیں۔
لندن میں ایک تھنک ٹینک کے سینیئر ریسرچ فیلو انتونیو جیوسٹوزی کے مطابق اگرچہ افغانستان پر حملے کے بعد القاعدہ کو نقصانات اور نقل مکانی کا سامنا کرنا پڑا لیکن آنے والے سالوں میں اس کی پروفائل میں اضافہ ہوا اور اس نے بڑے پیمانے پر توسیع کی۔ انہوں نے کہا کہ 2013 کے آس پاس اس کا اثر و رسوخ عروج پر تھا لیکن پھر اس کی عراقی شاخ ٹوٹ کر داعش بن گئی۔
داعش کے بانی ابو بکر البغدادی نے القاعدہ سے علیحدگی اختیار کرکے 2014 میں شام اور عراق کے بڑے حصوں پر خلافت کا اعلان کیا جس سے اس کا النصرہ فرنٹ کے ساتھ تنازع پیدا ہوا۔
اگرچہ شام اور عراق میں داعش کو اس کے زیر قبضہ علاقوں سے نکال دیا گیا ہے لیکن القاعدہ کے ساتھ اس کی دشمنی اب بھی جاری ہے۔
القاعدہ کو ایک اور دھچکا اس وقت لگا جب 2016 میں النصرہ فرنٹ بھی اس سے الگ ہو گیا۔ اس کے رہنما احمد الشرع، جو اُس وقت ابو محمد الجولانی سے جانے جاتے تھے، نے 2024 میں بشار الاسد کا تختہ الٹ دیا۔
صومالیہ اور مغربی افریقہ کا ساحل ریجن افریقہ کے وہ اہم محاذ ہیں جہاں القاعدہ سے منسلک گروہ اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں اور وسیع علاقوں پر کنٹرول رکھتے ہیں۔
ٹی ٹی پی نے شمال مغربی پاکستان میں اپنی کارروائیوں وسعت دی ہے اور گزشتہ ماہ شائع ہونے والی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسے القاعدہ کی جانب سے نظریاتی رہنمائی، تربیت اور تعاون حاصل ہوا ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کی قیادت اور اس کے بہت سے جنگجو افغانستان میں مقیم ہیں۔
فروری میں اقوام متحدہ کی ایک اور رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ القاعدہ کو افغانستان میں حکام کی سرپرستی حاصل ہے اور یہ کہ بیرونی کارروائیوں کے لیے اس کے ارادوں میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔
افغانستان اس بات کی تردید کرتا ہے کہ القاعدہ افغانستان میں کام کر رہی ہے، یا یہ کہ وہ اپنے علاقے سے پاکستان پر حملوں کی اجازت دیتا ہے۔
انتونیو جیوسٹوزی کے مطابق اگرچہ القاعدہ کا عروج گزر چکا ہے لیکن وہ اب بھی کافی بااثر ہے۔ انہوں نے مزید کہا یہ تنظیم تیار ہی اس طرح ہوئی ہے کہ مخصوص افراد پر زیادہ انحصار کرنے کے بجائے غیر معروف کارندوں پر انحصار کرتی ہے جنہیں نشانہ بنانا اور شناخت کرنا بہت زیادہ مشکل ہے۔
