• ستمبر 15, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 15, 2026 4:07 صبح
  • پاکستان

اسمارٹ گلاسز : خواتین کی خفیہ ویڈیوز کیخلاف اہم اقدام

چلتی ٹرین کے ساتھ مسافر کے گھسٹنے کی لزرہ خیز ویڈیو

ڈاکٹروں کا انوکھا کارنامہ، مریض کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر پلاسٹر کے بجائے گتا باندھ دیا

نوجوان لڑکوں کو لوٹنے والی لٹیری دلہن فرضی رشتے داروں سمیت گرفتار، طریقہ واردات بھی سامنے آگیا

بچپن کے بعد حقیقی زندگی میں داخل ہونے کیلیے انسان کو بہت سی تلخیوں اور مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اسی لیے نئی نسل (جین زی) کو یہ مرحلہ بہت مشکل لگتا ہے۔

یاد رکھیں !! پیشہ ورانہ رابطے رکھنے والے امیدواروں کے ملازمت حاصل کرنے کے امکانات کئی گنا زیادہ ہوتے ہیں، لیکن ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ نئی نسل ہچکچاہٹ کی وجہ سے پروفیشنلز نیٹ ورکنگ سے دور بھاگتی ہے۔ ملازمت کے حصول میں پروفیشنل نیٹ ورکنگ اور رابطے بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔

’پروفیشنل نیٹ ورکنگ‘ کیا ہے؟

پروفیشنل نیٹ ورکنگ سے مراد ایسے بالواسطہ یا بلاواسطہ پیشہ ورانہ تعلقات بنانا اور بڑھانا ہے جو آپ کے کیریئر، کاروبار یا صلاحیتوں کو ترقی دینے میں مددگار ثابت ہوں۔

جیسے کہ نئے کیریئر یا ملازمت سے متعلق معلومات حاصل کرنا، اپنے شعبے کے تجربہ کار ماہرین سے سیکھنا، نئے کلائنٹس، شراکت داروں اور سرمایہ کاروں تک رسائی حاصل کرنا ہے۔

نئی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد خصوصاً جنریشن زیڈ (جین زی)، پروفیشنل نیٹ ورکنگ کی اہمیت تسلیم کرنے کے باوجود اس عمل سے ہچکچاتی ہے۔

سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم لنکڈ اِن کی تحقیق کے مطابق ایسے امیدوار جن کا کسی کمپنی کے اندر کام کرنے والے فرد سے پیشہ ورانہ رابطہ موجود ہو، ان کے ملازمت حاصل کرنے کے امکانات ایسے امیدواروں کے مقابلے میں تقریباً 5 سے 8 گنا زیادہ ہوسکتے ہیں جن کا کمپنی کے اندر کوئی رابطہ موجود نہ ہو۔

گھبراہٹ کی وجوہات کیا ہیں؟

نوجوانوں میں اس ہچکچاہٹ کی مختلف وجوہات سامنے آئی ہیں، بعض افراد کو خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں دوسرا شخص ان کے بارے میں منفی رائے قائم نہ کرلے، جبکہ کچھ نوجوان اس بات سے پریشان ہوتے ہیں کہ ان کا پیغام سامنے والے کو پریشان کرنے والا، غیر فطری یا غیر مخلص محسوس ہوسکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ نیٹ ورکنگ سے ہچکچاہٹ کے باوجود تقریباً 79 فیصد نوجوان پروفیشنلز تسلیم کرتے ہیں کہ پیشہ ورانہ تعلقات ان کے کیریئر کے لیے اہم ہیں۔

رابطے بنانے کا آغاز کیسے کریں؟

تحقیق کے مطابق تقریباً 52 فیصد جین زی پروفیشنلز کو یہ معلوم ہی نہیں کہ پیشہ ورانہ تعلقات قائم کرنے کا آغاز کہاں سے کیا جائے، جبکہ 53 فیصد افراد کے لیے پہلے سے موجود رابطوں کو بامعنی اور مضبوط پیشہ ورانہ تعلقات میں تبدیل کرنا مشکل ہے۔

ماہرین کے مطابق نیٹ ورکنگ کا مطلب صرف کسی اجنبی شخص کو پیغام بھیج کر ملازمت مانگنا نہیں بلکہ بتدریج ایسے افراد سے تعلق قائم کرنا ہے جن کے ساتھ تعلیمی، پیشہ ورانہ یا صنعتی پس منظر مشترک ہو۔

پیشہ ورانہ نیٹ ورکنگ کا فائدہ صرف ملازمت کی سفارش یا ریفرل تک محدود نہیں ہوتا۔ مضبوط روابط کے ذریعے نوجوان ملازمت کے نئے مواقع تلاش کرسکتے ہیں۔

اپنی صنعت اور شعبے کے بارے میں بہتر معلومات حاصل کرسکتے ہیں، تجربہ کار افراد سے رہنمائی لے سکتے ہیں اور بھرتی کرنے والے افراد کی نظر میں بھی آسکتے ہیں۔

لنکڈ اِن کے مطابق بھارت میں تقریباً 30 فیصد جنریشن زی پروفیشنلز کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی اگلی ملازمت آن لائن موجود اپنی پیشہ ورانہ کمیونٹی کے ذریعے ملی۔

چھوٹی سی بات بھی بڑا فرق ڈال سکتی ہے

تحقیق میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ نیٹ ورکنگ کے لیے ہمیشہ بڑی ملاقات یا باضابطہ رابطے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

عالمی سطح پر لنکڈ اِن کے ایسے صارفین جنہوں نے اپنے نیٹ ورک میں شامل لوگوں کی پوسٹس کے ساتھ باقاعدگی سے انٹریکشن کیا، ان کے بارے میں تقریباً 3 گنا زیادہ امکان تھا کہ انہیں دوسروں کی جانب سے کنکشن ریکویسٹ موصول ہو۔

یعنی کسی کی پوسٹ پر مفید تبصرہ کرنا، سوال پوچھنا یا اپنے تجربے کی بنیاد پر کوئی اچھا نکتہ نظر پیش کرنا بھی پیشہ ورانہ تعلق کی بنیاد بن سکتا ہے۔

تجربہ کار افراد نوجوانوں کی مدد کے لیے تیار

رپورٹ کے مطابق نوجوان پروفیشنلز کے لیے ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ تجربہ رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نئے کیریئر کا آغاز کرنے والوں کی رہنمائی کے لیے تیار ہوتی ہے۔

سروے میں شامل تقریباً 92 فیصد ملینیئلز اور 95 فیصد جنریشن ایکس پروفیشنلز نے کہا کہ وہ کیریئر شروع کرنے والے کسی شخص کو مشورہ اور مدد فراہم کریں گے، چاہے وہ اسے ذاتی طور پر نہ بھی جانتے ہوں۔

ضرورت سے پہلے نیٹ ورک بنائیں

لنکڈ اِن ماہرین کے مطابق نیٹ ورکنگ شروع کرنے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ کسی شخص کو فوری طور پر ملازمت درکار ہو۔ دراصل بہتر حکمت عملی یہ ہے کہ ملازمت کی ضرورت پیش آنے سے پہلے ہی پیشہ ورانہ روابط قائم کیے جائیں۔

اس کے لیے اسکول، یونیورسٹی، سابقہ ادارے، صنعت یا پیشہ ورانہ دلچسپی کے مشترک پہلو رکھنے والے افراد سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ ان کے کام کو فالو کرنا اور ان کی پوسٹس پر بامعنی تبصرے کرنا پہلی گفتگو کو زیادہ فطری بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

لنکڈ اِن پروفائل کو مؤثر بنائیں

پیشہ ورانہ نیٹ ورک مضبوط بنانے کے لیے ماہرین پروفائل کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ رکھنے پر زور دیتے ہیں۔ پروفائل میں مناسب اور پروفیشنل تصویر، واضح ہیڈ لائن، مؤثر اباؤٹ سیکشن، کام کا تجربہ، مہارتیں اور تعلیمی معلومات درست اور تازہ ہونی چاہئیں۔

ماہرین کے مطابق کنکشن ریکویسٹ بھیجتے وقت عمومی پیغام کے بجائے ذاتی نوعیت کا مختصر پیغام زیادہ مؤثر ہوسکتا ہے۔

اسی طرح تعداد بڑھانے کے بجائے معیاری اور متعلقہ کنکشنز بنانے پر توجہ دینی چاہیے، جن میں صنعت سے وابستہ پروفیشنلز، ایچ آر ماہرین، ہائرنگ منیجرز، مینٹورز اور سابقہ ساتھی شامل ہوسکتے ہیں۔

صرف پروفائل بنانا کافی نہیں

لنکڈ اِن پر پروفائل بنانے کے بعد اسے نظر انداز کردینا بھی مؤثر نیٹ ورکنگ کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اپنے شعبے سے متعلق سیکھنے، تجربات، کامیابیوں اور صنعتی تبدیلیوں کو شیئر کرنا، دوسروں کی پوسٹس پر بامعنی گفتگو کرنا اور متعلقہ لنکڈ اِن گروپس کا حصہ بننا پیشہ ورانہ شناخت مضبوط کرسکتا ہے۔

تحقیق کا بنیادی سبق یہی ہے کہ نیٹ ورک اس وقت بنائیں جب آپ کو اس کی ضرورت نہ ہو، تاکہ ضرورت کے وقت وہ آپ کے کام آسکے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے