• ستمبر 22, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 22, 2026 11:39 شام
  • پاکستان

مصنوعی ذہانت انسانی مدد کے بغیر خود کو بہتر بنانے کے قابل ہوگئی تو قابو سے باہر ہوجائے گی، ٹرمپ اور شی جن پنگ اے آئی کی ترقی سست کرنے کے خلاف ہیں

سابق چیئرمین ڈیپارٹمنٹ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور

مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے جہاں ٹیکنالوجی کی دنیا میں نئے امکانات پیدا کیے ہیں وہیں اس کے ممکنہ خطرات پر بحث بھی شدت اختیار کرگئی ہے۔

اے آئی کمپنی اینتھراپک کے سابق محقق جیکب کوکسن نے انہی ممکنہ خطرات کے باعث احتجاجاً ملازمت سے استعفیٰ دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اینتھراپک اور اس کی حریف کمپنی ’اوپن اے آئی‘ مصنوعی ذہانت کی ترقی میں انسانی زندگی کے لیے انتہائی بڑے خطرات مول لے رہی ہیں۔ کوکسن دونوں کمپنیوں میں محقق کے طور پر کام کرچکے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ انہوں نے اس خدشے کے باعث استعفیٰ دیا کہ اے آئی تیار کرنے والی کمپنیاں ہماری زندگیوں کے ساتھ جوا کھیل رہی ہیں۔

ان کے مطابق اس شعبے میں کام کرنے والے بعض افراد سنجیدگی سے یہ یقین رکھتے ہیں کہ اے آئی رواں دہائی کے اختتام تک پوری انسانیت کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس ٹیکنالوجی کی صلاحیت کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔ کوکسن کے مطابق مستقبل کے اے آئی سسٹمز انسانی صلاحیتوں سے آگے نکل سکتے ہیں۔ایسے سسٹمز سائبر حملے کرسکیں گے، مختلف شعبوں میں غیر معمولی رفتار سے تبدیلی لاسکیں گے اور حقیقی دنیا میں طاقت اور وسائل تک رسائی حاصل کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔

کوکسن کے بیان نے سلیکون ویلی میں جاری اس پرانی بحث کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت کو محفوظ انداز میں قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ AI کے میدان میں دو کمپنیاں اینتھراپک اور ’اوپن اے آئی‘ جدید ترین اے آئی ماڈلز کی تیاری میں مسلسل آگے بڑھ رہی ہیں۔ جبکہ اسی دوران بہت سے محققین اے آئی کی ترقی کی رفتار کو مربوط انداز میں سست کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اوپن AI کے چیف سائنٹسٹ 'جیکب پاشوکی' نے بھی خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی اے آئی کمپنی فی الحال ’الائنمنٹ‘ اور نگرانی کے مسائل کو اس حد تک حل نہیں کرسکی کہ جدید ترین اے آئی سسٹمز کی ترقی کو زیادہ سے زیادہ رفتار سے طویل عرصے تک ذمے داری کے ساتھ جاری رکھا جاسکے۔

اے آئی میں ’الائنمنٹ‘ سے مراد ایسے نظام تیار کرنا ہے جو انسانی اقدار، مقاصد اور ہدایات کے مطابق کام کریں۔ ’پاشوکی‘ کا کہنا ہے کہ جب تک مشترکہ حفاظتی معیار طے نہیں ہو جاتے رضاکارانہ طور پر اے آئی کی ترقی کی رفتار کم کرنا معمول بننا چاہیے۔ انہوں نے دنیا بھر کی حکومتوں پر بھی زور دیا کہ مستقبل کی اے آئی ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار بارے بین الاقوامی تعاون کو ترجیح دی جائے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین نے محققین کے ان خدشات کو رد کرتے ہوئے اے آئی میں ترقی کی رفتار کو کم کرنے کی مخالفت کی ہے۔

اس بحث کا ایک اہم پہلو ’ریکَرسیو سیلف امپروومنٹ‘ یعنی اے آئی کا اپنے اگلے ورژن کو خود ڈیزائن اور تیار کرنے کے قابل ہونا بھی ہے۔ فی الحال یہ صلاحیت عملی طور پر موجود نہیں تاہم Anthropic اور OpenAI سمیت متعدد کمپنیاں خبردار کرچکی ہیں کہ اگر اے آئی سسٹمز خود کو انسانوں کی مداخلت کے بغیر مسلسل بہتر بنانے کے قابل ہوگئے تو انہیں قابو میں رکھنا زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔

اینتھراپک میں اے آئی الائنمنٹ کے شعبے سے وابستہ ایون ہبنگر نے بھی کوکسن کے خدشات سے اتفاق کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ذاتی طور پر اگلی دہائی میں اے آئی کے ہاتھوں پوری انسانیت کے خاتمے کے امکان کو 10 فیصد سے زیادہ سمجھتے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اینتھراپک کی پوری کوشش کے باوجود فی الحال سپر انٹیلی جنس کے لیے الائنمنٹ کا مسئلہ حل کرنے کا ابھی کوئی مکمل منصوبہ موجود نہیں اور کمپنی اس مقصد کی جانب واضح طور پر آگے بڑھتی دکھائی نہیں دیتی۔

اے آئی کی وجہ سے انسانیت کو پیش آنے والے انتہائی تباہ کن نتائج کا امکان ٹیکنالوجی کے ماہرین کے درمیان نیا موضوع نہیں۔ اے آئی ریسرچ کی دنیا میں بعض ماہرین اس خطرے کو P doom کی اصطلاح سے بیان کرتے ہیں جس سے مراد ایسے انتہائی سنگین نتائج کا خدشہ ہے جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی یا انسانی وجود کو خطرہ ہوسکتا ہے۔2023 میں بھی Open AI کے سربراہ سیم آلٹمین اور Anthropic کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو امودی سمیت متعدد معروف اے آئی محققین اور ٹیکنالوجی رہنماؤں نے ایک ایسی مشترکہ سٹیٹمنٹ جاری کی تھی جس میں اے آئی سے انسانیت کے خاتمے کے خطرے کو وباؤں اور جوہری جنگ جیسے بڑے عالمی خطرات کے ساتھ جوڑا گیا تھا۔ادھر گوگل نے پیشگوئی کی ہے کہ اے آئی 2030 تک انسان جیسی ذہانت حاصل کر کے ’انسانیت کو تباہ‘ کرسکتا۔گوگل کے اس دعوے کی حقیقت کو سمجھنے کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ مصنوعی عمومی ذہانت (اے جی آئی) ایک ایسا نظام ہے جو انسانوں کی طرح مختلف کاموں میں ذہانت کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔

مصنوعی عمومی ذہانت (Artificial General Intelligence) کی ترقی پر بہت ساری تحقیق ہو رہی ہے اور ایک حالیہ تحقیق کے مطابق گوگل ڈیپ مائنڈ نے پیش گوئی کی ہے کہ 2030 تک انسانوں کے برابر ذہانت رکھنے والی مصنوعی ذہانت ممکن ہو سکتی ہے۔ ’اے جی آئی‘ یعنی مصنوعی عمومی ذہانت ایک ایسا نظام ہے جو انسانوں کی طرح مختلف کاموں میں ذہانت کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔مثلا جہاں یہ مخصوص کاموں جیسے کہ زبان کا ترجمہ، چہرے کی شناخت، یا گیمز کھیلنے میں بہترین ہے وہیں’اے جی آئی’ایسی ذہانت بھی ہو سکتی ہے جو ہر قسم کے کاموں کو سمجھنے، سیکھنے اور حل کرنے میں انسانوں کی طرح طاقتور ہو۔دراصل ’اے جی آئی‘ کا مقصد ایک ایسا نظام تخلیق کرنا ہے جو انسانی ذہانت کے تمام پہلوؤں کو سمجھ سکے اور اس کا اطلاق مختلف شعبوں میں کر سکے۔یہ اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ’اے آئی ڈی کوڈر‘ نے بنا کسی ٹریننگ کے انسانوں کا دماغ پڑھ کر سائنسدانوں کو حیران کردیا ہے۔

’اے جی آئی‘ کی ترقی کے ساتھ ممکنہ خطرات کو چار بڑے زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے

غلط استعمال: اے آئی کا نقصان دہ مقاصد کیلئے استعمال۔

غلط ہم آہنگی: اے آئی کے اہداف اور انسانوں کے مفادات میں عدم مطابقت۔

ممکنہ غلطیاں:اے آئی کے نظام میں پیش آنے والی ممکنہ غلطیاں جو انسانیت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

ساختی خطرات: اے آئی کی ساخت اور اس کے کام کرنے کے طریقہ کار کے ساتھ جڑے خطرات۔

اس پس منظر میں دیکھا جائے تو اے آئی انسانوں کو ’زومبیز‘ میں بدلنے جا رہا ہے۔ ڈیپ مائنڈ نے اس تحقیق میں ان خطرات کے سدباب کے لیے حکمت عملی بھی وضع کی ہے، جس میں اے آئی کے غلط استعمال کو روکنے پر زور دیا گیا ہے۔ ان خطرات کی روک تھام کے لیے ایک عالمی سطح پر معیاری نگرانی کی ضرورت بھی محسوس کی گئی ہے۔

ڈیپ مائنڈ کے سی ای او ڈیمس ہیسبیس نے حال ہی میں کہا ہے کہ ’اے جی آئی‘ کے لئے عالمی سطح پر یورپی مرکز برائے جوہری تحقیق یا بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی طرح کی تنظیم بنائی جانی چاہئے۔ گوگل ڈیپ مائنڈ کے مطابق اگر اے آئی کو مناسب طریقے سے کنٹرول نہ کیا گیا تو اس کے غلط استعمال یا ساختی خطرات انسانوں کی بقاء کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی ترقی کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اس کی نگرانی اور اخلاقی پہلوؤں پر بھی سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

اے آئی کی ترقی کی رفتار اور اس کے ممکنہ خطرات پر امریکی قانون ساز بھی اقدامات کر رہے ہیں تاہم اس ٹیکنالوجی کو ریگولیٹ کرنے کے طریقہ کار پر ابھی واضح اتفاق رائے موجود نہیں۔ جولائی میں ریپبلکن رکن کانگریس جے اوبرنولٹے اور ڈیموکریٹ رکن لوری ٹراہن نے FRONTIER Act پیش کیا جس کا مقصد جدید اے آئی ماڈلز کی تعیناتی کے لیے نگرانی اور حکمرانی کا ایک فریم ورک تیار کرنا ہے۔

اسی طرح سینیٹر برنی سینڈرز اور رکن کانگریس گریگ کاسر نے مجوزہ قانون پیش کیا جس کے تحت جدید اے آئی کی ترقی کو عارضی طور پر روکنے کی تجویز دی گئی ہے۔

لوری ٹراہن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حفاظتی تحقیق کرنے والے ماہرین استعفے دے رہے ہیں۔ طاقتور اے آئی ماڈلز اپنی لیبارٹریوں سے باہر نکل رہے ہیں اور کمپنیاں اس کے باوجود تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ان کے مطابق اب وقت آگیا ہے کہ کانگریس اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرے۔

دوسری طرف مصنوعی ذہانت کے حوالے سے عوامی ردعمل صرف اے آئی ماڈلز تک محدود نہیں رہا بلکہ ان ماڈلز کی تربیت اور آپریشن کے لیے کام کرنے والے بڑے ڈیٹا سینٹرز بھی امریکا میں بڑھتی ہوئی مخالفت کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ مراکز اے آئی کے لیے درکار بڑے پیمانے کے کمپیوٹنگ ہارڈویئر کی تیاری کیلئے کام کرتے ہیں۔ یہ مخالفت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ نیشنل ریپبلکن سینیٹوریل کمیٹی نے گزشتہ ماہ اے آئی ڈیٹا سینٹرز کو آئندہ وسط مدتی انتخابات کے لیے ایک ’سلیپر ایشو‘ قرار دیا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی رواں ماہ اے آئی کمپنیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کمپنیوں نے امریکی عوام کو اپنے بارے میں وضاحت دینے میں انتہائی خراب کارکردگی دکھائی ہے۔ ان کے مطابق اے آئی کمپنیوں کو اس تنقید کی کچھ ذمے داری قبول کرنا ہوگی اور عوام کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ ٹیکنالوجی کے تمام فوائد صرف ایک محدود گروپ تک نہیں پہنچیں گے۔ یوں مصنوعی ذہانت کی غیر معمولی رفتار سے ترقی کے ساتھ اس کے ممکنہ فوائد اور تباہ کن خطرات دونوں پر عالمی سطح پر بحث تیز ہوگئی ہے۔جبکہ محققین، ٹیکنالوجی کمپنیاں اور حکومتیں اس سوال کا جواب تلاش کر رہی ہیں کہ اے آئی کی ترقی اور انسانی تحفظ کے درمیان مناسب توازن کیسے قائم کیا جائے۔n

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے