• ستمبر 23, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 23, 2026 12:08 صبح
  • پاکستان

ایک موسمیاتی سیّارے کی شرارتیہ اِس بات کی ایک سنگین یاد دہانی تھی کہ پیغام رسانی کی محض چھوٹی سی غلطی کے تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے ہیں

یہ موسم سرما کا انتہائی ٹھنڈا دن ہے۔ اُسی روز ایک گھنٹے سے کچھ زیادہ وقت دنیا نے سرد جنگ کے ایک خوفناک ڈراؤنے خواب کا سامنا کیا۔وہ بدھ کا دن تھا اور تاریخ تھی 25 جنوری 1995ء ۔ دوپہر کے وقت شمالی روس کے ریڈار اسٹیشنوں پر ڈیوٹی پر موجود فوجی اہلکاروں نے اپنی اسکرینوں پر ایک تشویشناک نشان دیکھا۔ ناروے کے ساحل کے قریب سے ایک راکٹ داغا گیا تھا اور وہ تیزی سے اوپر جا رہا تھا۔

’’وہ کہاں جا رہا تھا‘‘ اور’’ کیا یہ کوئی خطرہ تھا؟‘‘روسیوں کے ذہن میں تشویش ناک سوال منڈلانے لگے۔گو وہ گھبراہٹ کا شکار نہ ہوئے۔ آخر کار زیادہ تر لوگوں کا یہی خیال تھا کہ برلن کی دیوار گرنے کے بعد ایٹمی تناؤ ختم ہو چکا۔

آسمان پر نظر رکھنے والوں کے لیے مگر یہ پُراسرار راکٹ چھوڑے جانے کے نتائج انتہائی خوفناک تھے۔ وہ جانتے تھے کہ روس کے نزدیک واقع سمندروں میں گھومتی پھرتی کسی امریکی آبدوز سے داغا گیا ایک میزائل 15 منٹ کے اندر ماسکو پر آٹھ ایٹمی وار ہیڈ گرا سکتا ہے۔

اسی لیے راکٹ چھوڑنے کا پیغام ہنگامی بنیادوں پر روسی صدر، بورس یلسن تک پہنچایا گیا۔جلد ہی وہ ’’ایٹمی بریف کیس‘‘ کو فعال کرنے والے دنیا کے پہلے رہنما بن گئے… ایک ایسا بریف کیس جس میں ایٹمی بم دھماکے کرنے کی ہدایات اور ٹیکنالوجی موجود ہوتی ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعد سے ایٹمی صلاحیت کے حامل ممالک ’’تدارک‘‘ (ڈیٹرینس) کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔یہ اس نظریے پر مبنی ہے کہ اگر جنگجو ممالک ایک دوسرے پر بڑے ایٹمی حملے کرتے ہیں تو اس کا نتیجہ دونوں کی مکمل تباہی کی صورت نکلے گا۔لہذا ایٹمی حملے سے باز رہنے میں ہی عافیت ہے۔ اس کشیدہ لمحے میں بورس یلسن اور ان کے مشیروں کو ہنگامی طور پر یہ فیصلہ کرنا تھا کہ آیا جوابی کارروائی کی جائے؟

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، واقعات کا یہ خوفناک سلسلہ کسی تباہی پر ختم نہیں ہوا۔ تمام تر کشیدگی کے باوجود یہ کہانی اس شام کے دیر سے نشر ہونے والے خبروں کے پروگرام کے آخر میں ایک ہلکے پھلکے آئٹم کے طور پر سامنے آئی، جس میں ٹام لہرر کا مزاحیہ گانا ’’we will all go together when we go‘‘ بھی شامل تھا۔

تاہم جب تک سچ سامنے نہیں آیا اس واقعے کے باعث عالمی کرنسی منڈیاں لڑکھڑا گئیں، جبکہ سیاست دان، فوجی سربراہان اور صحافی معلومات حاصل کرنے کے لیے ایک گھنٹے تک سرگرم رہے۔بی بی سی کے پروگرام ،نیوز نائٹ کے میزبان جیریمی پیکس مین نے نوٹ کیا: ’’آگے بڑھنے سے پہلے ہمیں یہ رپورٹ کرنا چاہیے کہ ایک روسی نیوز ایجنسی کی تمام تر کوششوں کے باوجود آج ایٹمی جنگ چھڑنے سے رہ گئی۔ سوا ایک بجے دوپہر ماسکو کی نیوز ایجنسی انٹرفیکس کے حوالے سے اطلاعات آنا شروع ہوئیں کہ روس نے آنے والے میزائل کو مار گرایا ہے۔

رپورٹرز نے یہ سوچ کر کہ وہ قیامت کا منظر قریب سے دیکھنے والے ہیں، فوراً وزارت دفاع کو فون کیا۔ ایک مضطرب لیکن پُرسکون ترجمان نے دلیری سے کہا: ،مجھے پورا یقین ہے کہ برطانویوں نے روس پر کوئی میزائل نہیں داغا۔‘ پینٹاگون کے ترجمان کے پاس بھی کوئی واضح معلومات نہیں تھیں، انہوں نے کہا،ہمارے پاس صرف رپورٹوں کی رپورٹس ہیں۔‘‘

بہرحال عالمی نیوز ایجنسیوں کے صحافی معلومات حاصل کرنے ایک گھنٹے تک افرا تفری میں معلومات تلاش کرتے رہے۔ آخرکار پونے تین بجے کے قریب وہ لوگ جو اس ممکنہ بحران سے واقف تھے، چین کی سانس لے سکے۔ انٹرفیکس نے اپنی رپورٹ کی تصحیح کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ روس کے ابتدائی خبردار کرنے والے نظام نے میزائل داغے جانے کا اندراج کیا تھا…لیکن راکٹ ناروے کے علاقے میں جا گرا تھا۔

بعد میں ناروے کے ایک دفاعی اہلکار نے تصدیق کی کہ یہ راکٹ پُرامن مقصد کے لیے چھوڑا گیا تھا۔ یہ ایک شہری راکٹ رینج میں معمول کے سائنسی تحقیقی پروگرام کا حصہ تھا اور اس کا مقصد ’’شمالی روشنیوں‘‘ کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنا تھا جو ایک انوکھا موسمیاتی مظہر ہے اور جسے ’’اورورا بوریلیس‘‘ ( aurora borealis) بھی کہا جاتا ہے۔ راکٹ منصوبے کے مطابق آرکٹک کے دور دراز جزیرے، اسپاٹسبرگن کے قریب سمندر میں گرا جو روسی فضائی حدود سے کافی دور تھا۔ اس رپورٹ کے جھوٹے ثابت ہونے کے گھنٹوں بعد نامعلوم روسی دفاعی ذرائع نے انٹرفیکس کو بتایا کہ یہ کہنا ’’قبل از وقت‘‘ ہوگا کہ آیا اس راکٹ کا مقصد اُن کے ریڈار سسٹم کا امتحان لینا تھا یا نہیں۔

روس 1987 ء سے اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں حساس چلا آ رہا تھا ۔اس سال مغربی جرمنی کے ایک نوجوان، میتھیاس رسٹ نے سنگل انجن والے طیارے میں تمام سوویت دفاعی نظاموں سے بچتے ہوئے 500 میل (750 کلومیٹر) سے زیادہ پرواز کی اور کریملن کے دروازے پر لینڈ کر گیا۔ اگرچہ اب سرد جنگ ختم ہو چکی تھی لیکن یہ اس بات کی علامت تھی کہ کچھ روسی حکام اب بھی ایٹمی خطرے کے بارے میں فکر مند تھے۔

ناروے کے سائنسدان کولبیورن ایڈولفسن کہتے ہیں’’جب میں نے اپنے معمول کے راکٹ کی وجہ سے پیدا ہوئی توجہ اور سنسنی کے بارے میں سنا تو خوفزدہ ہو گیا۔‘‘ وہ ایک میٹنگ میں تھے جب گھبراہٹ سے بھرپور فون کالز آنا شروع ہوئیں۔ اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ تھی کہ ہفتوں پہلے ناروے نے ماسکو کو اِس منصوبے کے بارے میں مطلع کر دیا تھا۔

مسٹر ایڈولفسن نے تجویز پیش کی کہ روسیوں نے شاید اس لیے ردِعمل ظاہر کیا کیونکہ یہ پہلا موقع تھاکہ اورورا بوریلیس کا کوئی راکٹ اتنی اونچی پرواز (908 میل کی بلندی) پر گیا تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے تھی۔ کہتے ہیں’’ 14 دسمبر کوناروژی وزارتِ خارجہ کے ذریعے تمام متعلقہ ممالک کو ایک پیغام بھیجا گیا تھا کہ ہم یہ تجربہ کرنے والے ہیں۔‘‘ لیکن کسی وجہ سے وہ خبردار کرنے والا پیغام صحیح میزوں تک نہیں پہنچ سکا۔ یہ اِس بات کی ایک سنگین یاد دہانی تھی کہ پیغام رسانی کی محض ایک چھوٹی سی غلطی کے کتنے تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

ایٹمی دور کے آغاز سے اب تک ایسے کئی موقع سامنے آئے ہیں جہاں دنیا تباہی کے بہت قریب پہنچ گئی تھی۔ گو یہ 1962 ء کے کیوبن میزائل بحران جیسے بڑے واقعات نہیں تھے جو شاید سرد جنگ میں امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان ایک مکمل ایٹمی جنگ کے سب سے قریب تر لمحہ تھا۔ 2020 ء میں بی بی سی فیوچر نے رپورٹ کیا کہ کس طرح ہجرت کرنے والے ہنسوں، چاند، کمپیوٹر کی خرابیوں اور خلائی موسم جیسی چیزوں کی وجہ سے غلط الارم بج اٹھے۔ 1958ء میں ایک امریکی طیارے نے غلطی سے ایک خاندان کے باغ میں ایٹمی بم گرا دیا تھا۔

خوش قسمتی سے صرف ان کی مرغیاں ماری گئیں۔ 1966 میں دو امریکی فوجی طیارے سپین کے ایک دور دراز گاؤں کے اوپر ٹکرا گئے جن میں سے ایک چار ایٹمی ہتھیار لے جا رہا تھا۔ ابھی 2010 ء میں امریکی فضائیہ کا 50 میزائلوں سے رابطہ ختم ہو گیا تھا، جس سے خودکار لانچ ختم یا روکنے کا کوئی طریقہ نہیں بچا تھا۔

اُس وقت روس میں بہت سے لوگوں نے یلسن کا یہ اعلان مسترد کر دیا تھاکہ انہوں نے پہلی بار ایٹمی بریف کیس کا استعمال کیا ہے اور اسے چیچنیا میں جاری جنگ سے دھیان ہٹانے کا ایک ڈراما قرار دیا۔ اگلے دن انہوں نے انٹرفیکس نیوز ایجنسی کو بتایا’’میں نے واقعی کل پہلی بار بٹن والا اپنا ’’سیاہ'‘‘ بریف کیس استعمال کیا جو ہمیشہ میرے ساتھ رہتا ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا’’شاید کسی نے ہمارا امتحان لینے کا فیصلہ کیا تھا، کیونکہ بیرونی میڈیا ہر وقت یہ کہتا رہتا ہے کہ ہماری فوج کمزور ہے۔‘‘ ناروے کے راکٹ کے واقعے پر نیوز نائٹ کی رپورٹ شاید سطحی یا غیر سنجیدہ رہی ہو، لیکن اس واقعے کی سنگینی کے بارے میں مختلف آرا موجود ہیں۔ امریکی خفیہ ایجنسی، سی آئی اے کے ایک سابق اہلکار کے مطابق’’ یہ ایٹمی میزائل کے دور کا سب سے خطرناک ترین لمحہ تھا۔‘‘ پیٹر پرائے نے لکھا: ’’اس سے پہلے کبھی کسی ایٹمی طاقت کے قائد نے حقیقی خطرے کے احساس کی صورت میں اور ایسے حالات میں جہاں ایک ہی لمحے میں تباہی کا فیصلہ ممکن ہو، روسی ’’ایٹمی بریف کیس‘‘کے مساوی نظام کا باقاعدہ استعمال نہیں کیا تھا۔‘‘

تاہم اقوام متحدہ کے ایٹمی عدم پھیلاؤ پر تحقیق کرتے محقق پاول پوڈوگ کا کہنا ہے: ’’اگر مجھے ایسے واقعات کی درجہ بندی کرنی پڑے… تو میں اسے 10 میں سے 5 نمبر دوں گا۔ سرد جنگ کے دوران اس سے کہیں زیادہ سنگین واقعات پیش آئے تھے۔‘‘ انہوں نے یہاں تک تجویز پیش کی کہ ایٹمی بریف کیس کا منظرنامہ شاید اگلے دن یلسن کے لیے تیار کیا گیا ایک سوانگ (ڈراما) ہو سکتا ہے۔ روسی ایٹمی ماہر ولادیمیر ڈورکن کا کہنا تھا کہ ناروے کے اس الرٹ سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوا تھا۔ ’’بالکل بھی نہیں۔‘‘ انہوں نے 1998ء میں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو بتایا: ’’حتیٰ کہ جب وارننگ سسٹم آپ کو کسی بڑے حملے کا سگنل دیتا ہے، تب بھی کوئی فیصلہ نہیں کرنے والا، یہاں تک کہ ایک غیر معقول رہنما بھی ایک میزائل کے داغے جانے سے گھبرا کر فیصلہ نہیں کرے گا۔ میرے خیال میں یہ ایک بے بنیاد الارم تھا۔‘‘

اس واقعے کے پانچ دن بعد بی بی سی ریڈیو کے خبرناموں نے رپورٹ کیا کہ روس نے اس الرٹ کی وجہ ’’ایک غلط فہمی‘‘کو قرار دیا ہے جسے دہرایا نہیں جانا چاہیے۔ناروژی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ ناروے کے حکام نے معمول کے طریقہ کار کے مطابق کام کیا تھا اور ان کے خلاف کوئی بدگمانی نہیں ہونی چاہیے۔ اگرچہ تباہی سے بچاؤ ہو گیا تھا، لیکن یہ بات اب بھی تشویشناک ہے کہ ایک بے ضرر موسمیاتی راکٹ اس قدر سراسیمگی اور خوف پیدا کرنے کا باعث بن گیا۔

ناروے اور روس کے مابین راکٹ داغنے سے جو غلط فہمی پیدا ہوئی، یہ پہلا اور اب تک کا واحد معلوم واقعہ ہے جب ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ریاست کا ایٹمی بریف کیس فعال کیا گیا اور حملے کا حکم دینے کے لیے تیار رکھا گیا۔یاد رہے،25 جنوری 1995ء کو نارویجن اور امریکی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے ناروے کے شمال مغربی ساحل کے قریب’’اندویا راکٹ رینج‘‘سے چار مرحلوں والا ’’بلیک برینٹ‘‘ نامی ریسرچ راکٹ داغا تھا۔ راکٹ میں علاقہ ’’سولبارڈ‘‘ (Svalbard) کے اوپر قطبی روشنیوں کا مطالعہ کرنے کے لیے سائنسی آلات نصب تھے۔

اس نے شمالی سمت میں ایک بلند پرواز کی جس کا ہوائی راستہ امریکی ریاست، نارتھ ڈکوٹا میں موجود منٹ مین III جوہری میزائل کے سائلوز (silos) سے لے کر روس کے دارالحکومت ماسکو تک پھیلا ہوا تھا۔ راکٹ بالآخر 1453 کلومیٹر (903 میل) کی بلندی تک پہنچ گیاجو امریکی بحریہ کی آبدوز سے داغے جانے والے 'ٹرائیڈنٹ' (Trident) میزائل سے مشابہت رکھتا تھا۔انتہائی بلندی والے ایسے جوہری حملے کے خوف سے ہی جو روسی ریڈار کو اندھا کر سکتا تھا، روسی ایٹمی افواج کو اعلیٰ الرٹ پر رکھ دیا گیا اور جوہری بریف کیس (چیگیٹ) روسی صدر بورس یلسن کے پاس لایا گیا۔انھیں پھر یہ فیصلہ کرنا تھا کہ آیا امریکہ کے خلاف جوابی ایٹمی حملہ کیا جائے یا نہیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے