• ستمبر 23, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 23, 2026 12:08 صبح
  • پاکستان

اس معاہدے کا مقصد گرین لینڈ اور شمالی بحرِ اوقیانوس میں سیکیورٹی تعاون بڑھانا اور امریکی فوجی موجودگی کو وسعت دینا ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں گرین لینڈ کی تزویراتی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکا وہاں دو بڑی فوجی تنصیبات قائم کرے گا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے خطاب میں کہا تھا کہ گرین لینڈ امریکا اور پورے مغربی اتحاد کی سیکیورٹی کے لیے انتہائی اہم ہے اور امریکا وہاں اپنی فوجی موجودگی کو وسعت دے گا۔

انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ معاہدے کے تحت امریکا گرین لینڈ کی سیکیورٹی سے متعلق مستقل ذمہ داری حاصل کرے گا اور جزیرے پر کسی امریکی حریف کو فوجی اڈہ قائم کرنے یا حساس سرمایہ کاری کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اپنے اس خطاب کے فوری بعد ہی امریکی صدر نے ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن اور گرین لینڈ کے وزیراعظم جینز فریڈرک نیلسن کے ساتھ مشترکہ معاہدے پر دستخط کردیے۔

خیال رہے کہ اس معاہدے کا مقصد گرین لینڈ اور شمالی بحرِ اوقیانوس میں سیکیورٹی تعاون بڑھانا اور امریکی فوجی موجودگی کو وسعت دینا ہے۔

رپورٹس کے مطابق معاہدے کے تحت موجودہ پِٹوفک اسپیس بیس کے علاوہ گرین لینڈ میں نارسارسواک اور میسٹرزویگ کے مقامات پر دو مزید امریکی فوجی تنصیبات قائم کیے جانے کی توقع ہے۔

ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے کہا کہ معاہدہ امریکا کے سیکیورٹی خدشات کو دور کرتے ہوئے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے داخلی حقوق کا احترام کرتا ہے۔

گرین لینڈ کے وزیراعظم جینز فریڈرک نیلسن نے اسے تینوں فریقوں کی جیت قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ گرین لینڈ امریکا اور مغربی اتحاد کا مستقل دوست رہے گا۔

اہم بات یہ ہے کہ معاہدہ گرین لینڈ کی ملکیت امریکا کو منتقل نہیں کرتا۔ گرین لینڈ بدستور مملکتِ ڈنمارک کا خودمختار علاقہ رہے گا اور ڈنمارک و گرین لینڈ نے معاہدے میں اپنی خودمختاری اور گرین لینڈ کے حقِ خودارادیت کے احترام پر زور دیا۔

یہ معاہدہ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کو امریکا میں شامل کرنے کی سابقہ تجویز سے مختلف ہے جسے ڈنمارک اور گرین لینڈ نے مسترد کیا تھا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے