• ستمبر 14, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 14, 2026 3:58 شام
  • پاکستان

اس سے قبل کہ حالات قابو سے باہر ہو جائیں، ریاستی ادارے اور سیاسی قوتیں خوداحتسابی کے عمل سے گزریں، سابق وفاقی وزیر

سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ آئین سے کھلواڑ اور اشرافیہ کی اقتدار کی خواہشِ بد نے ملک تباہ کردیا۔

سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم پر جاری اپنے بیان ’آوازِ دروں‘ میں سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ پاکستان کے ’’مسائلستان‘‘ بن جانے کی سب سے بڑی وجہ ملک کے آئین، قانون اور نظامِ عدل و سیاست سے بار بار کھلواڑ ہے، اسی بے حرمتی نے گورننس کا بحران پیدا کیا ہے۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پاکستانی اشرافیہ اور مقتدرہ کی ارتکازِ اقتدار کی خواہش، اقربا پروری، بددیانتی، خود پسندی، انا اور خبطِ عظمت نے ملک کو معاشی بدحالی، لاقانونیت اور انتہاپسندی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔

انہوں نے مارشل لا مائنڈ سیٹ رکھنے والوں، اقتدار پرست سیاستدانوں، نظریۂ ضرورت والی عدلیہ، مذہبی انتہاپسندی پھیلانے والے علما، شاہانہ مزاج کی حامل بیوروکریسی اور ’’مرغانِ باد نما‘‘ کا مزاج رکھنے والے میڈیا کو اس صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا۔

سعد رفیق نے کہا کہ اپنے نظریات، جمہوری اصولوں اور عوامی وعدوں سے بار بار روگردانی کرنے والی سیاسی قوتیں عوامی اعتماد کو اس حد تک مجروح کرچکی ہیں کہ ان کے Cult Followers اور Hard Core Supporters کے علاوہ کوئی ان پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے صورتحال کو پریشان کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں خدانخواستہ حالات سب کے قابو سے باہر ہوسکتے ہیں۔ لازم ہے کہ پاکستان کے ریاستی ادارے اور سیاسی قوتیں خود احتسابی کے عمل سے گزریں۔

سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ اصلاحِ احوال کی سنجیدہ کوشش کی جائے اور اپنے سہانے خوابوں کی دنیا سے باہر نکل کر تلخ حقائق کا سامنا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی، سیاسی انارکی، معاشی بدحالی اور ہر سو پھیلتی ناانصافی سے نمٹنا صرف اور صرف آئین و قانون کی حکمرانی پر عمل کرنے سے ممکن ہوگا۔

خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ اپنے آپ کو ناگزیر سمجھنا اور اپنے نظریات کو تسلیم کروانے کے لیے ہر قدم اٹھا لینا نئی مشکلات اور پیچیدگیوں کی بنیاد رکھ دیتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مخالفانہ مؤقف سننا، پاکستان کو درپیش سلگتے مسائل پر کھل کر اور دلائل کے ساتھ مکالمہ کرنا اور تنازعات کا حل تلاش کرنے کی نتیجہ خیز کوشش کرنا ہماری اجتماعی قومی ذمہ داری ہے۔

سعد رفیق نے کہا کہ لگتا ہے یہ کام اب سول سوسائٹی ہی کو کرنا ہوگا۔ تعلیم یافتہ اور شعور رکھنے والے افراد جماعتی اور گروہی سطحوں سے بلند ہوکر اپنے اپنے حلقۂ اثر میں تھنکرز فورم اور اصلاحاتی گروپس تشکیل دیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے افراد مکالمہ کریں، رائے قائم کریں اور کسی تعصب اور خوف کے بغیر اپنی سوچ کو عوام کے سامنے پیش کریں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے