• ستمبر 14, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 14, 2026 4:45 شام
  • پاکستان

اسرائیل نے حالیہ کارروائی کے بعد اس علاقے میں اپنی ’آپریشنل کنٹرول‘ قائم کرنے کا دعویٰ کیا ہے

بیروت: اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے جنوبی لبنان میں علی الطاہر کی پہاڑی کے قریب آنے والے کسی بھی شخص کو ’ختم‘ کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج اس اہم علاقے پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق کاٹز نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج نے علاقے میں حزب اللہ کے جنگجوؤں کو ہلاک اور اس کے زیرِ زمین انفرااسٹرکچر کو تباہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل حزب اللہ یا کسی بھی دوسرے گروہ کو اس علاقے میں دوبارہ موجودگی قائم کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

علی الطاہر کی پہاڑی جنوبی لبنان کا ایک اہم اسٹریٹجک مقام ہے اور یہ نبطیہ سمیت وسیع علاقے پر نظر رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسرائیل نے حالیہ کارروائی کے بعد اس علاقے میں اپنی ’آپریشنل کنٹرول‘ قائم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق پہاڑی کے نیچے حزب اللہ کا دو کلومیٹر سے زائد طویل زیرِ زمین نیٹ ورک موجود تھا، جس میں کمانڈ مراکز، ہتھیاروں کے ذخائر اور دیگر فوجی تنصیبات شامل تھیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس انفرااسٹرکچر کو تباہ کردیا گیا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ علی الطاہر کی پہاڑی اس کے خود ساختہ ’’سکیورٹی زون‘‘ کا حصہ ہے، جبکہ لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی پر بیروت کی جانب سے اعتراض کیا جاتا رہا ہے۔

جون میں ہونے والے جنگ بندی فریم ورک میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا اور علاقے میں لبنانی فوج کی تعیناتی کی بات کی گئی تھی، تاہم اس عمل میں پیش رفت رک گئی ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع کا تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور علی الطاہر کا علاقہ دونوں فریقوں کے درمیان تنازع کا اہم مرکز بن چکا ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے