• اکتوبر 1, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 1, 2026 8:56 شام
  • پاکستان

انوکھا گاؤں، رکشا ڈرائیور بھی کروڑ پتی، ہر گھر محل جیسا اور ہر دروازے پر لگژری کار

ٹیڈ کازنسکی : انتہائی ذہین طالب علم ’یونابومبر‘ کیسے بن گیا؟ ہوشربا داستان

امریکا میں ’شارک‘ سڑکوں پر تیرنے لگیں

درخت کی ٹہنی گرنے سے زخمی شہری کو 8 کروڑ معاوضہ دینے کا حکم

کراچی: قزاقوں کی فائرنگ سے جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں، زخمیوں اور بقیہ عملے کی وطن واپسی کی کوششیں جاری ہیں، اس دوران پاکستانیوں کی میتیں اور جہاز کے عملے کے زخمی ارکان کو صومالیہ کے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

اے آر وائی نیوز فائرنگ سے زخمی پاکستانیوں کی صومالیہ کے اسپتال میں زیر علاج تصاویر سامنے لے آیا، فائرنگ سے 3 زخمی پاکستانی اور ایک انڈونیشین پنٹ لینڈ کے دارالخلافہ گاروے کے مقامی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

تین پاکستانیوں کی میتیں بھی اسی اسپتال میں رکھی گئی ہیں، فائرنگ سے محفوظ پاکستانی اور دیگر عملے کو بھی طبی سہولیات دی جا رہی ہیں، جب کہ زخمی عملے کے ارکان کے علاج اور دیگر انتظامات کے لیے حکومتوں کے درمیان رابطہ جاری ہے۔

پاکستان، بھارت اور انڈونیشیا کے سفارتی حکام اور عملہ گاروے میں موجود ہے، تینوں ممالک کے سفارتی حکام اپنے اپنے شہریوں کے لیے ضروری انتظامات کر رہے ہیں، اسپتال اور صومالی حکومت کی جانب سے سفر کرنے کی کلیئرنس سرٹیفکیٹ ملنے کے بعد عملے کو لایا جائے گا۔

صومالیہ: بھارتی کریو ممبر کی رہائی کے لیے بھارت نے کوئی کوشش نہیں کی، ذرائع کا انکشاف

پاکستانی مشن کے نمائندے بھی جبوتی سے گاروے سٹی اسپتال پہنچ گئے ہیں، جہاں شدید زخمی افراد کا علاج جاری ہے، جب کہ معمولی زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد اور ٹانکے لگا دیے گئے ہیں، اور میتیں مردہ خانے منتقل کر دی گئی ہیں۔

شپنگ ایجنسی نے شہدا اور زخمیوں کی اسپتال منتقلی کی تصدیق کی، زخمی پاکستانیوں میں فورتھ انجینئیر عثمان غنی، عقیل خان اور امین بن شمس شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سفری اجازت کے بعد پاکستانیوں کی میتیں اور کریو ممبرز کی واپسی کے انتظامات شپنگ ایجنسی کرے گی۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے