• اکتوبر 1, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 1, 2026 5:58 شام
  • پاکستان

صنعت کو مسودہ پالیسی پر تعمیری تجاویز دینے کا موقع فراہم کیا جائے، ڈی جی پاما

پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ آٹو برآمدات بڑھانے کے لیے سزا نہیں، سہولیات دی جائیں، ایسوسی ایشن۔

ایک بیان میں پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) نے مطالبہ کیا ہے کہ نئی آٹو پالیسی کا مسودہ منظوری سے قبل صنعت کے ساتھ شیئر کیا جائے۔ ایسوسی ایشن نے پالیسی میں مینوفیکچررز کے خلاف ممکنہ سخت اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پاما برآمدی اہداف پورے نہ ہونے پر اضافی ٹیرف عائد کرنے اور لائسنس منسوخی کی اطلاعات پر متحرک ہوگئی ہے۔ اس حوالے سے ڈی جی پاما کا کہنا ہے کہ برآمدات بڑھانے کے لیے سزا کے بجائے مراعات اور سہولت کاری کی ضرورت ہے۔

پاما کے مطابق آٹو انڈسٹری برآمدات بڑھانے اور ملکی زرمبادلہ میں اپنا کردار بڑھانے کی اہمیت تسلیم کرتی ہے اور پاکستان کو مسابقتی آٹوموٹیو مینوفیکچرنگ اور برآمدی مرکز بنانے کے لیے تعاون جاری رکھے گی۔

ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ برآمدات میں اضافہ ایک طویل مدتی عمل ہے، جس کے لیے ٹیکنالوجی اور مقامی پیداوار میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔ برآمدی اہداف عالمی منڈی، شرح مبادلہ اور تجارتی معاہدوں سمیت کئی عوامل سے متاثر ہوتے ہیں، اس لیے نئی آٹو پالیسی میں مستحکم، شفاف اور مشاورتی فریم ورک ہونا چاہیے۔

ڈی جی پاما نے مطالبہ کیا کہ صنعت کو مسودہ پالیسی پر تعمیری تجاویز دینے کا موقع فراہم کیا جائے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے