• ستمبر 23, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 23, 2026 12:28 شام
  • پاکستان

2 ہزار 947 سیکیورٹی واقعات رپورٹ ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ ہیں

تاجک سرحد سے متصل صوبہ بدخشاں میں مسلح جھڑپوں نے طالبان رجیم کیخلاف محاز کھڑا کردیا ہے.

اہم مزاحمتی قیادت احمد مسعود، جنرل یاسین ضیاء اور جنرل سمیع سادات سمیت مختلف مزاحمتی تحریکیں متحرک، طالبان مخالف کارروائیوں میں مسلسل تیزی آنے لگی.

معروف افغان جریدہ افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق افغانستان فریڈم فرنٹ، یونائیٹڈ فرنٹ اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے محض اگست میں افغان طالبان کیخلاف کم از کم 50 مزاحمتی کارروائیاں کیں.

اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ بھی افغان طالبان رجیم کے نام نہاد امن کے بیانیے کے برعکس بگڑتی سیکیورٹی صورتحال کی نشاندہی کر چکی ہے.

اقوام متحدہ سیکورٹی کانسل کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق مئی سے جولائی کے دوران 2 ہزار 947 سیکیورٹی واقعات رپورٹ ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ ہیں.

افغانستان میں سرگرم14 مسلح مخالف گروہوں نے ملک کے21 صوبوں میں 88 بڑے حملوں کی ذمہ داری قبول کی.

وسطی ایشیا کے امور پر نظر رکھنے والے معروف جریدہ دی ٹائمز آف سینٹرل ایشیاکے مطابق افغانستان سے پنپتی اسی دہشت گردی اور دراندازی کے بڑھتے خطرے نے تاجکستان سمیت دیگر اجتماعی سلامتی معاہدہ تنظیم کے رکن ممالک کو ’’روبیژ 2026‘‘ جنگی مشقوں کے انعقاد پر مجبور کیا.

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے