• اکتوبر 7, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 7, 2026 2:21 صبح
  • پاکستان

کیمٹی میں ایڈیشنل سیکریٹری محکمہ انسانی حقوق سندھ کو انکوائری کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے

کراچی کے تھانہ نبی بخش کی حدود میں واقع سول ڈیفنس کی عمارت سے 29 افراد کی مبینہ غیر قانونی حراست میں رکھنے کے سنگین معاملے پر سندھ حکومت نے اعلیٰ سطح پر انکوائری کا فیصلہ کیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق دو روز قبل جوڈیشل مجسٹریٹ نے نبی بخش کی حدود میں واقع سول ڈیفنس کی عمارت کے کمپاؤنڈ میں قائم عقوبت خانے میں چھاپہ مار کر 29 افراد کو بازیاب کرایا تھا۔

سندھ حکومت نے اب اس معاملے کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کا فیصلہ کیا اور اس ضمن میں پولیس کے شعبہ اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) کے حکام سے بھی انکوائری کی جائیگی۔

محکمہ انسانی حقوق سندھ کے سیکریٹری خالد چاچڑ نے انکوائری کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے 29 افراد کو مبینہ حراست میں رکھنے کے معاملے کا نوٹس لیا تھا جبکہ گزشتہ ہفتے جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نعیم اختر نے نبی بخش تھانے کی حدود میں گارڈن پولیس ہیڈ کوارٹر کے سامنے قائم سول ڈیفنس کی عمارت کے احاطے میں چھاپہ مار کر کارروائی میں غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے 29 افراد کو بازیاب کرایا تھا جس میں کینسر کی مریضہ خاتون بھی شامل تھی۔

بازیاب افراد کی گرفتاری یا انٹری کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا جبکہ بازیاب کرائے گئے افراد کو ہتھکڑیوں اور پاؤں میں بیڑیاں پہنائی ہوئی تھیں۔

بعدازاں بازیاب کرائے گئے افراد کے حوالے سے نبی بخش تھانے کے روزنامچے میں انٹری کرائی گئی تھی، خاتون سمیت 29 افراد کی مبینہ غیر قانونی حراست کے حوالے سے قائم کی گئی۔ کیمٹی میں ایڈیشنل سیکریٹری محکمہ انسانی حقوق سندھ کو انکوائری کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر ڈائریکٹوریٹ آف ہیومن رائٹس سندھ انکوائری کمیٹی کے ارکان میں شامل ہونگے، کمیٹی 29 افراد کی حراست کے حالات اور قانونی جواز کا تعین کرے گی۔

انکوائری میں پولیس کے شعبہ ایس آئی یو اور اے وی سی سی کے کردار کا بھی مکمل جائزہ لیا جائے گا، سول ڈیفنس کے احاطے کو 29 افراد کو رکھنے کے لیے استعمال کیے جانے سے متعلق تحقیقات بھی کی جائیگی۔

انکوائری کمیٹی گرفتاری و حراست کا ریکارڈ ، روزنامچہ اندراجات اور متعلقہ رپورٹس کا بھی جائزہ لے گی ، متعلقہ افسران ، بازیاب افراد اور دیگر متعلقہ اشخاص کے بیانات بھی قلمبند کیے جائیں گے اور اس حوالے سے کوتاہی ، غفلت ، قانون اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا بھی تعین کیا جائیگا۔

انکوائری رپورٹ میں ذمہ داری ثابت ہونے پر متعلقہ افراد کا تعین کر کے انکوائری کمیٹی 15 روز میں جامع رپورٹ اور سفارشات پیش کریگی جس کی روشنی میں مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے